محمد یوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ عمر بھر کاجھگڑا:۔ 
وہ بڑا آدمی نہیں تھااور میں بھی چھوٹا ہر گز نہیں تھا۔ عمر بھر یہی لفڑا سننے کوملا۔ کوئی مان کر نہیں رہا۔یہاں تک کہ انھوں نے قبریں جادیکھیں۔
۲۔ جسموں کے قاتل :۔ 
انسانیت پر وہ وقت بھی آیاکہ انسانی جسم آلو پیاز کی طرح کچھ گھنٹوںیاایک دوراتوں کیلئے فروخت ہونے لگا۔خریدنے والاکوئی روبوٹ نہیں تھا۔وہ بھی ایک جسم رکھتاتھا۔اور اس کے جسم کو فروخت ہونے والے سستے جسم کی ضرور ت تھی۔
پھریہ فروخت ہوچکے جسم کٹی پھٹی اور سڑی گلی لاشوں کی صورت چوراہوں ،گٹر، عمارت کی بنیادوںاور تھیلوں میں بندھے ہوئے ملنے لگے۔یہ دیکھ کر علیم استاد نرنوی نے کہا’’جب کوئی چیز فروخت ہوگی تو اس کی ناقدری بھی ضرور ہوگی ‘‘انسانی جسموں کی اس ناقدری پر کوئی احتجاج نہیں ہورہاتھا۔اسی لئے جسموں کے قاتل تھے کہ آزاد گھوم رہے تھے۔
۳۔ قسمت کااقتدار :۔ 
آنکھوں میں نیند تھی لیکن دماغ تھاکہ سابق میں دیکھے ہوئے خواب پورے کرنا چاہتاتھا۔ وہ گزشتہ 25سال سے سونہیں سکاتھا۔ اس کے باوجود بھی آج اقتدار اس کے ہاتھ لگاجس کے پاس ایک جھولے کے سوا کچھ نہیں تھا۔اوراس جھولے والے نے کوئی خواب بھی نہیں دیکھے تھے۔
۴۔ لاپرواخاتون :۔ 
گرمی بڑھ چکی تھی حالانکہ سردیاں بھی پوری طرح نہیں اتر آئی تھیں۔ سردیوں میں گرمیوں کابڑھ جانا تکلیف دہ تھا۔ عفیفہ کے سامنے یہی بات آئی تو اُس نے کہا’’ دورِ حاضر میں بالغ ہونے کی عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ اس وجہ سے ہواہے کہ گرمی بڑھ چکی ہے‘‘ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ اور یوں بھی عفیفہ ایک لاپروا خاتون تھی۔ اسے درس ورس دینے سے کوئی غرض نہیں تھی۔ کوئی سنے یانہ سنے میری بلا سے ۔
۵۔ اندرونِ وقت :۔ 
وقت دبے پاؤں نہیں گزرتااور نہ ہی اس قدر شور کرتاہے کہ انسان کاجینا محال ہوجائے۔ وقت کی اپنی ادا اور انداز ہے۔ وہ برہنہ پا اوربرہنہ گفتاری کو بالکل بھی پسند نہیں کرتا اورکسی کے قبضہ میں رہنا اس کو سخت ناپسند ہے۔
تمام چھوٹے بڑے آزار سے بالکل آزاد۔۔۔۔۔۔ وقت نے سبھی کو اپنااسیر بنارکھاہے۔ اور کامیاب لوگ کہتے ہیں، وقت کے اندر ہونے والے کام ہی کامیا بی کی کنجی ہواکرتے ہیں۔ اس وقت میرے ہاتھ میں کامیابی کی کنجی ہے کہ میں نے اپنی سرگرمیاں وقت کے اندرہی رکھی ہوئی ہیں۔وقت کا دامن چیر کر اپنے پاؤں باہر نہیں رکھے ہیں۔الحمد للہ
۶۔ نہ ملا:۔ 
تلاش ختم ہوچکی تھی۔ اس کو نہیں ملناتھانہ ملا۔ مرشد نے ہنس کر کہا’’ملنے والے کو خدا نہیں کہتے اور نہ ملنے والی ہستی خداسے ہرگز جدا نہیں ہوتی‘‘ جواب سن کراس کو غصہ بہت آیالیکن چوں کہ وہ تلاش ختم کرچکاتھا، اسلئے اس نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔
۷۔ضدی لوگ :۔ 
انھیں جتنا علم دیاگیااور جتنی تربیت دی گئی وہ سب فضول ہوچکی تھی۔ وہ اب عام آدمی بن کر جینانہیں چاہتے تھے۔ انھیں بڑا آدمی بننے کاشوق چرایا تھا۔ اس کے لئے وہ ہرقسم کے نام ونمود کو استعمال کرنے لگے تھے، جن کو استعمال کرنے سے رب کریم نے منع فرمایاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے