رفیع نعمانی مہراجگنج یوپی

تعلیم خواہ دینی ہو یا عصری ان کو حاصل کرنے کے لیے ماہرین اساتذہ کی ضرورت درکار ہوتی ہے ۔اگر استاذ ہی ناقص العلم ہو تو طلباء آگے چل کر کامل العلم کیسے بن سکتے ہیں آج ہمارے دینی مدارس اور مکاتب میں جید فضلاء عظام و علماء کرام کے لیے جگہ نہیں ہے کیوں کہ تنخواہوں کا معاملہ درپیش ہے مہتمم حضرات اور نظماء مدارس چاہتے ہیں کہ کم خرچ میں زیادہ کام لیاجائے۔ اسی لیے ہمارے دیار میں بہت سے مدرسوں میں آدھے ادھورے علم والے استاد زیادہ ہیں چاہے وہ جنرل کو جرنل حاضری کو ہاجیری کعبہ کو قابا کھانا کو خانہ محرم کو موہرم لکھتے ہوں۔ دینی تعلیم کا رسالہ نمبر ایک بھی پڑھانے کی صلاحیت نہ ہو۔ ایسے ہی لوگ مہتمم کی چاپلوسی کرکے سرخرو بنتے ہیں اور اچھے باصلاحیت اساتذہ ہمیشہ ذمہ داروں کی تنقید کا نشانہ بن کر مدارس کو چھوڑ کر دیگر ضروریات زندگی میں مشغول ہوجاتے ہیں۔

کچھ مساجد کے زیر انتظام مکاتب میں ایسے مدرس رکھے جاتے ہیں جو صحیح ڈھنگ سے امامت کے مسائل سے ناواقف ہوتے ہیں یہاں تک کہ ایسے امام بھی رکھ لیے جاتے ہیں جو لفظ امام کے معنی سے نا بلد ہوتے ہیں بس اس بے حس قوم کا کام چلتا رہنا چاہیے گرچہ گڑبڑ ہی سہی۔ نکاح پڑھا سکے چاہے ایجاب وقبول کرانے کا ڈھنگ ہو یا نہ ہو ایک جگہ تو امام نے دولہا سے کہا "میں دوگواہوں اور ایک وکیل اور قاضی کے سامنے فلاں کی لڑکی سےاپنا نکاح پڑھاتا ہوں بولو قبول ہے "دولہا سنتے ہی آگ بگولہ ہوگیا یہاں تک نوبت آئی کہ بارات واپس ہوگئی۔ یہ سب کچھ نادان امام کی وجہ سے ہوا۔

لہذا اماموں کو سوچ سمجھ کر رکھا جائے اور مکمل ان کے گھر کے اخراجات متولیان مساجد برداشت کریں پھر اپنی نماز درست کریں آج کل دس بارہ پارہ کے حافظ یا مدرسے کے بھگیڑو قسم کے بچے جو اب بڑھاپے میں پہنچ کر امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، یہ اپنے آپ کو وقت کے مفتئ اعظم سمجھتے ہیں عوام کو غلط مسائل بتلا کر اور تعویذ گنڈوں سے لوٹ کھسوٹ کررہے ہیں۔ اسی لیے ملت اسلامیہ کے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے اور ایسے چالباز امام جب مستند علماء کرام کو دیکھتے ہیں تو عوام میں غلط تعارف کروا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو سراسر قوم کے حق میں تباہی کا سامان مہیا کرنے کے مترادف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے