احمد کمال عبدالرحمن ندوی
کشی نگر
اس وقت میں ایک مظلوم بادشاہ کا ذکر کرنا چاہتاہوں جو تلوار کا دھنی، عدل و انصاف کا خوگر، غمخوار و ہمدرد، رشی منیوں ، صوفیاء  واتقیاء اور علمائے کرام کا قدرداں، فقیرانہ زندگی کا عادی، ذاتی ضروریات کیلئے خزانہ شاہی سے راتب نہ لینے والا، اپنے ہاتھ کے ہنر سے زندگی بسر کرنے والا۔
اس کے زمانہ کا ایک عجیب وغریب مشہور واقعہ ہے کہ بنارس میں ابراہیم نام کا ایک شخص ابھی چند دنوں پہلے کوتوال مقرر ہوکر آیا تھا، جو جابر و ظالم تھا، اس کے ظلم و ستم کے قصے مشہور ہو چکے تھے، کوئی شخص اس کے خلاف لب کشائی کی جرات نہیں کر سکتا تھا ،یہ کوتوال جہاں طاقت و قوت اور ظلم و ستم میں مشہور تھا وہیں حسن پرست تھا ، بنارس کی حسین دو شیزائوں کا اس سے بچنا محال تھا، ایک پنڈت رام لال تھے جو صاحب ثروت و جاگیر تھے جنکے دربار میں روزانہ مہمانوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی اور بنارس کی تہذیب کے مطابق ضیافت میں مشہور تھے، انکی ایک لڑکی بہت ہی حسین و جمیل تھی جو بلوغت کے دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی، اس کے حسن و جمال کا عالم یہ تھا کہ صبح بنارس کے مطابق یہ لڑکی جب غسل کر کے واپس آتی تو لوگ اس کے حسن و جمال کے دیدار کیلئے منتظر رہتے تھے، اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کوتوال تک پہنچ گیا، کوتوال اس کو حاصل کرنے کیلئے مختلف تدبیریں کرنے لگا بالآخر اس کے والد پنڈت رام لال کو اس نے وارننگ دیا کہ ایک ماہ کے اندر اپنی لڑکی کا ڈولامیرے دربار میں بھیجدو، یہ پیغام ملتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا آہ و بکا، گریہ زاری سے پورا گھر ماتم کدہ بن گیا، لڑکی بھی کافی فکرمند ہوئی مگر خلاق عالم نے جس طرح اس لڑکی کو بے مثال حسن و جمال سے نوازا تھا وہیں عقل و فراست کا بھی وافر حصہ عطا کیا تھا، اس سے بچنے کی ساری تدبیریںناکام ہوچکی تھیں اور سوائے وقت مقرر پر ڈولا روانہ کرنے کی کوئی شکل نہیں تھی، اس نے اپنے والد سے کہا کہ آپ لوگ ایک ماہ مجھے بھول جائیے میں ایک نامعلوم سفر پر روانہ ہونا چاہتی ہوں، کوتوال نے جو تاریخ مقرر کی ہے اس سے پہلے میں پہنچ جائوں گی، بس میرے لئے آپ مغل شہزادوں کا ایک جوڑا خرید لائیں جوپٹکا اور تلوار سے آراستہ ہو،  اپنے خواب گاہ میں چلی گئی اورصبح صادق کے وقت سرائے سے تیز رفتار گھوڑا لیا اور پایہ تخت دہلی کو روانہ ہو گئی، کیونکہ اس وقت جو وہاں کا بادشاہ تھا اس کا عدل و انصاف ضرب المثل تھا اسی امید میں یہ دوشیزہ روانہ ہوئی جب وہاں پہنچی تو حسن اتفاق جمعہ کا دن تھا ، بادشاہ سلامت جمعہ کی نماز کیلئے شاہی مسجد تشریف لائے جہاں شاہی مسجد کی سیڑھیوںپر فریادیوں کی لائن لگی ہوئی تھی، چنانچہ نماز بعد یہ بناوٹی شہزادہ بھی  اپنی درخواست لیکرنچلی سیڑھی پر کھڑا ہو گیا، بادشاہ فریادیوں کی درخواستیں وصول کر فوری حکمنامہ جاری کر رہاتھا اس نے جب اپنی درخواست بڑھائی تو بادشاہ نے اس کے چہرہ کی طرف دیکھ کر فوراََ نظریں نیچی کر لی ،کیونکہ بادشاہ نے بھانپ لیا کہ یہ لڑکا نہیں لڑکی ہے اور حکم دیا کہ اس کو دربار میں حاضر کیا جائے،چنانچہ دربار لگا ہواہے بادشاہ سلامت تخت شاہی پر جلوہ افروز ہیں اس شخص کو جیسے ہی پیش کیا گیا بادشاہ نے اپنی چادر اس کی طرف پھینک دیا اور کہا کہ اس سے پردہ کر لو ہمارے مذہب میں نظر کی حفاظت کا حکم ہے، چنانچہ دربار شاہی سے حکم ہوا کہ اپنی داستان سنائو،جیسے ہی اس نے کہنا شروع کیابادشاہ کا چہرہ جہاں متغیر ہوگیاوہیں فکرمندبھی ، بادشاہ نے کہا بیٹی،، گھبرائو نہیں تم کو انصاف ملے گا تم لوٹ جائو اورجس تاریخ پراس نے  ڈولا مانگا ہے اس کو جانے دو، مگر یہ بادشاہ کا مقصد سمجھ نہیں سکااور مایوس ہو کر گھر لوٹ آیا، اپنے والدین کو سارا واقعہ سنایا سب لوگ مایوس ہوگئے مگر اس لڑکی کو بادشاہ کاباربار فرمانا کہ ـ بیٹی،، تم کو انصاف ملے گا اس کو ڈھارس بندھایا اور مقررہ تاریخ پر ڈولا سج کر کوتوال کے دربار کیلئے روانہ ہو گیا، کوتوال نے خوشی میں بخشش و انعام کی بارش شروع کردی، فقیروں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی جس پر انعام و اکرام کی بارش ، درہم و دینار کا ڈھیرنچھاور کر رہا تھا اس صف میں یہ بادشاہ بھی فقیروں کے لباس میں کھڑا تھاجب اس کا نمبر آیا تو کوتوال نے کہا دیکھتے نہیں ہو پیسے پڑے ہوئے ہیں ان کو اٹھا لو تو اس نے کہا میں آپ کے ہاتھ سے بخشش لینا چاہتاہوں جیسے ہی کوتوال نے اسے دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا بادشاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور ایک زوردار طمانچہ مارا، کوتوال زمین پر ڈھیر ہوگیا اور کہا کہ اوپر سے فقیر اور اندر سے بادشاہ اورنگ زیب،  بادشاہ نے اسے سخت پھٹکار لگائی کہ ہم نے تم کو عزت و آبرو کا محافظ بنا کر بھیجا تھا، اسلام تو ایسا مذہب ہے کہ بلا تفریق مذہب و ملت  اپنی رعایا کی عزت و آبرو کا ضامن ہے، عدل و انصاف سب کیلئے برابر ہے جب تک فوج کی ٹکڑی بھی پہنچ گئی اور بادشاہ نے اس ظالم شخص کو اس کے حوالہ کیا جس نے اس کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔
پھر بادشاہ پنڈت رام لال کے گھر آیا اور شکنتلا سے مخاطب ہوا، بیٹی مجھے سخت پیاس لگی ہے جس دن تم نے مجھ کو فریاد سنائی اس دن سے میں نے پانی نہیں پیا، میں نے عہد کر لیا تھا جب تک تم کو انصاف نہ دلادوں گا میں پانی کا ایک قطرہ حلق سے نہیں اتاروںگا ، پھر بادشاہ نے گھر کے اندر ایک چبوترہ پر نماز ادا کی اور کھانا بھی نوش فرمایا، اس عدل و انصاف کو دیکھ کر پنڈت رام لال بہت خوش ہوا اور یادگار کے طور پر اس جگہ پر مسجد بنوادی، جس کو بادشاہ نے جاگیر دی اور عہد نامہ لکھ کر دیا کہ اس مسجد کا متولی پنڈت جی کے خاندان کا فرد ہوگا، یہ مظلوم بادشاہ  تاریخ کا درخشاں ستارہ، عدل وانصاف کا پیکر محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیرہیں، آج ہمارے ملک کا ایک طبقہ اس انصاف پسند بادشاہ کو ظالم و جابر گردانتا ہے جو تاریخ و حقیقت سے پرے ہے، اللہ تعالیٰ ان عقل سے پیدل ا ندھوں کو عقل سلیم عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے