کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی

اس وقت مدرسۃ البنین سے زیادہ مدرسۃ البنات کی اشد ضرورت ہے ، اسلئے کہ لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہیں ،امیت ،جہالت ،عقیدہ توحید ،ارکان اسلام وایمان کے عدم معرفت عورتوں میں زیادہ ہیں ، اس کے اسباب بہت ہیں ، ان میں سے ایک اہم سبب یہ ہے کہ ہم نے عورتوں کو مسجدوں سے نہیں جوڑا ؟ ” لا تمنعوا إماء الله مساجدالله ” اس حدیث پر کب عمل کیا جائےگا ، (ٹاپو میں کوئی بھی ایسی مسجد نہیں ہے جن میں عورتوں کو نماز جمعہ ودروس وغیرہ میں شامل کی جاتی ہوں, میرے علم کے مطابق) ہم ایسی مسجد کیوں نہیں بناتے جسمیں ۔ عورتوں کے الگ و خاص جگہ ہوں ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رہ کر نماز ادا کرسکیں ، ؟ دوسرا سبب یہ ہے کہ ہمیشہ سے مدرسۃ البنات کی قلت رہی ہے اور اب بھی ہے ، تیسرا سبب یہ ہے کہ غریب لڑکیوں کے سرپرست حضرات بھاری بھرکم ،بوجھل فیس ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے،اور یہاں المیہ ہے کہ عصری خربوزوں کے طرز پر ایسی اونچی فیس ہندوستان جیسے غریب ملک کے غریب ومفلوک الحال مسلمانوں سے وصول کی جارہی ہے کہ اگر ان بیچاروں کی کسمپرسی کا احساس ہوتو سر ندامت سے جھک جاۓ ، فیس کا مسئلہ اتنا گھمبیر ہے کہ چاروں طرف ایجوکیشن مافیاں پیدا ہوچکی ہے ، کم سے کم دینی واسلامی مراکز کا اپنا ایک شناخت اور مزاج ہے اس کو تو برقرار رکھاجائے ، میں کبھی بھی اس بھاری بھرکم فیس وصولی کے مزاج کی تائید نہیں کرتا ہوں ۔ اسلئے کہ ۔ تعلیم وتعلم خریدنے بیچنے کی چیز نہیں ہے ۔اس ماحول سے دور رکھکر اس کا فیضان عام ہونا چاہئے اور خاصکر دینی تعلیم وتربیت میں مادی منفعت کاتو کوئی سوال ہی نہیں ۔ مجھے کبھی حیرت ہوتی ہے جب ایسے لوگوں کو پھول ہار پہنایا جاتا ہے جن کے دل بڑۓ تنگ ہوتے ہیں ،غریب بچوں کیلئے کوئی کنسیشن یا رعایت نہیں رکھتے ۔۔” فیس دو داخلہ کراؤ نہیں تو گیٹ آوٹ ” اب بتائیے کہ وہ کون سی خدمت کررہے ہیں ،ایسے میں تو ایک پان بیچنے والے عام انسان کو بھی پہول ہار پہنانا چاہئیے ۔ وہ بھی تو خدمت کررہے ہیں ۔

ازراہ کرم فیس کے معاملے کو تھوڑا سلجھائیے ، کتنی بچیاں ایسی ہیں جو فیس کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم منقطع کرکے گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں ،یا خیاطۃ ،سلائی کے کام سیکھ رہی ہیں ، باپ بھائی چچا چچی کی طعنے کو برداشت کررہی ہیں ، اللہ تعالیٰ ہمارے حالات کو درست کریں ، خلوص نیت وصدق کے ساتھ خدمت دین کی توفیق دۓ آمین ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے