نوراللہ خان
اسلام نے ہر چیز کا حل پیش کیا ہے۔ اگر زکات نکال کر خود بانٹنے کیلئے گھر سے نکلیں گے تو زکات مستحق کو ملے گی اور آپ کا کپڑا بھی تنگ نہیں ہوگا اور زندگی کشادہ ، خوش حال اور مست ہوگی۔ اور ساتھ ہی پڑوسی آپ کی مدد سے خوش ہوگا ورنہ حسد میں آکر اپریل کے مہینے میں گیہوں کی فصل جلادے گا۔
کپڑا تو آج کل ان کا تنگ ہورہا ہے جنکی زندگی درست ہے مگر ان کے بچوں کی تنگ ہے۔
اب وقت آگیا ہیکہ ٹاٹا فاؤنڈیشن کی طرح “ چاچا فاؤنڈیشن “ بنایا جائے۔ موٹے موٹے چچاؤں کے کپڑے تنگ ہیں اور ان کے بچے نہ ہنر نہ تعلیم نہ پلاننگ ، پریشان باہر کمانے کیلئے بد حال ہیں اور یہ ابھی کچھ کرنے کے لائق ہیں مگر کھیت بٹائی پر دے کر دوبار چوراہے کا طواف کرتے ہیں۔ اور کپڑے تنگ کرکے شوگر
یہی “ ستیار” چاچا گروپ پورے سماج کو خراب کررہا ہے۔ بچے پب جی اور یہ لوگ پنچایت کرکے صرف چغل خوری کرتے ہیں۔ روز چار چھ گھنٹے ۔۔۔۔۔ کوئی مثبت کام نہیں ہے۔ آخرت تو آخر میں آئیگی یہ موجود دنیا میں اپنا شوگر بڑھاکر اپنے ممبئی والے بچوں کو کپڑا اور ڈھیلا کررہے ہیں۔ کسی طرح کچھ وہ کماتے ہیں اور یہاں یہ چچا روز کیلا اور پیاز والی پکوڑی سموسہ کھاکر کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور شوگر کا تناسب بڑھا رہے ہیں۔
ان لڑکوں کا ڈھیلا کپڑا مزید ڈھیلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ پچاس چالیس والے خوش حال چچاؤں کو گھومنے سے اچھا ہے کچھ کریں تو ان کے کپڑے تنگ نہ ہوں گے نہ ان کے ممبئی والے لڑکوں کے کپڑے ڈھیلے ہوں گے اور نہ پورے گھر کی زندگی تنگ ہوگی۔ بلکہ خوش حال ہوگی اور یہ خود بھی دنیا وآخرت میں ہوں گے۔
خالی بیٹھ کر پورے گاوں میں ان چچاؤں نے غیبت کا ماحول بنارکھا ہے۔ اسکولی بچوں کو کہیں گے اب کہاں پڑھائی ہوتی ہے۔ پڑھائی تو پہلے تھی۔ خود کچھ کریں گے نہیں نہ کھیتی نہ تجارت نہ کوئی اور کام مگر سب کو منفی ڈوز دیں گے۔
انھوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا ہی نہیں پورے سماج کا کپڑا ڈھیلا کردیا ہے۔
