بیدر۔ 30؍اگست (محمدیوسف رحیم بیدری ): بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کرناٹک کی جانب سے منعقد شدہ دس روزہ مہم 20 تا 30؍اگست جاری ہے جس کا مرکزی موضوع,”دین سیکھو اور سکھا و ” ہے اس ضمن میں مقامی بورڈ شرالکپہ کی جانب سے ایک عظیم الشان تعارفی مہم و تہنیتی تقریب منعقد کی گئی جس میں شرکاء کی تعداد 400 سے زائد تھی جس میں اساتذہ اکرام, والدین اور طلبہ و طالبات کثیر تعداد میں موجود تھے۔ اس پروگرام کی نظامت محمد ساجد سلیم نے نبھائی ،جس کا آغاز محمد زکوان(طالب علم)کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا.افتتاحی کلمات میں جناب اشفاق احمد صاحب معلم نے تمام شرکاء کااستقبال کیا چونکہ یہ پروگرام بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن اور آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس ایسوسی یشن کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا جس میں محترم جناب بشیر احمد صاحب کوڑ معلم (AIITA کے ضلعی ذمہ دار)نے اساتذہ کی تنظیم کا تعارف کراتے ہوئے چار بزرگ اساتذہ جو کہ اپنے معلم کے پیشے سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں قضر بیگ حضرت, عبدالرشید حضرت, اللہ بخش حضرت اوررحمت اللہ حضرت کی تہنیت پیش کی گئی ۔محترمہ شبانہ پروین صاحبہ (سکریٹری BIEبورڈ شرالکپہ) نے تمام شرکاء کے سامنے بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتائے کہ 2002ء میں تشکیل شدہ اس بورڈ کے اغراض و مقاصد اسلامی نظریہ تعلیم کے مطابق نوخیز نسل کی تعلیم و تربیت کا انتظام,تعلیمی پسماندگی کو دور کرنا,عصری تعلیمی اداروں میں دینی تعلیم اور دینی تعلیمی اداروں میں عصری تعلیم کی اہمیت بتانا, سرکاری نصاب کی جانچ, تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کی رہنمائی اور اساتذہ کی عملی, فکری, فنی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ پانچ سالہ فاصلاتی کورس جس میں 20 سال کے دوران تقریبا ایک لاکھ سے زائد طلبہ استفادہ کیے ہیں جن میں برادران وطن بھی شامل ہیں وغیرہ بتائے۔

اس جلسہ کے مہمان خصوصی بورڈ کے چیئرمین مولانا عبدالغفار حامد عمری صاحب نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف اسکولوں, کالجوں, یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات دراصل ایک فیکٹری کی مانند ہیں ان تعلیمی اداروں سے نکلنے کے بعد یہ طلبہ مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں حال ہی میں اسروکے چندرایان 3 کی کامیابی کی پذیرائی کرتے ہوئے ان میں مسلم سائنسدان اور وہ بیٹیاں جو باپردہ ہو کر کام کر رہی ہیں خوشی کا اظہار کیا آج کے اس ترقی یافتہ و ڈیولپمنٹ دور میں اس فیکٹری سے نکلنے والے طلبہ کے اخلاق و کردار پر نظر ڈالنے کے بات بتائی۔ اگر اخلاق کے اعتبار سے یہ لوگ کم ہوں تو اس کا اثر معاشرے پر ہوگا۔ آج کے معاشرے میں جو برائیاں پھیل رہی ہیں اسے دور کرنے کے لیے سب کو کوشش کرنی چاہیے ۔ہماری وہ مائیں جن کے گود میں بچے موجود ہیں یہ بچے دراصل ہمارا مستقبل ہیں ان کے مستقبل کو ہر لحاظ سے سنوارنے کے لیے والدین اور معاشرے کو کوشش کرنی چاہیے۔ قران کی آیات کا تذکرہ کرتے ہوئے اولاد جو کہ اللہ کی عظیم نعمت ہے ان میں تفریق نہ کرتے ہوئے دونوں کو برابر تعلیم و تربیت دینے کے تعلق سے شرکاء کو ابھاراگیا۔اولاد کا احترام, ان کا تحفظ, ان کی عزتوں کی حفاظت ہو۔یہ ہمارے معاشرے میں آگے لیڈ کرنے والے اور والدین کے لیے دنیا اور آخرت ہیں اور یہ بچے اگر صالح بن جائیں تو والدین کے لیے جنت کے ضامن ہیں اور اگریہ بگڑ جائیں تو جہنم کا ایندھن ہیں. اور یہ بچے جو اسکولوں کالجوں میں ںتعلیم حاصل کر رہے ہیں یہ معاشرہ کے لئے، والدین کے لیے بلیک بورڈ کی مانند ہیں. ان تخت سیاہ میں ہم جو لکھیں گے وہی ہمارا مستقبل ہے ۔اگر ہم اس میں غفلت بر تیں گے تو ہمارے دشمن اس بلیک بورڈ میں اپنی پسند کی چیزیں لکھ دیں گے.جس پر ہمیں ابھی سے سوچ کر عمل کرنا چاہیے ۔ اس کے بعد مختلف ذمہ داران نے گزشتہ سال بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کے سرٹیفیکیٹ کورس میں کامیاب شدہ طلبہ کو مختلف انعامات سے نوازتے ہوئے اُن کی ہمت افزائی کی ۔برادر مصطفی معلم نے اظہار تشکر پیش کیا۔

اس پروگرام کی تیاریوں میں امیر مقامی محترم محمد حسین صاحب نے نمایاں رول ادا کیا اور اس پروگرام کوکامیاب کرنے میں ہر ممکن کوشش کے لئے سابق ناظم علاقہ چمن میاں صاحب, مقامی ناظمہ شعبہ ء خواتین عرشیہ بانو صاحبہ ,جی آئی اوکی” DO ” آ صفہ صدیقہ صاحبہ ,برادر مدثر احمد ,برادر عبدالرحمن, برادر تنویر احمد برادرعابد سلیم,برادر آصف علی شاہ وغیرہ موجود تھے۔ اس بات کی اطلاع ایک پریس نوٹ کے ذریعہ دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے