- پورے ضلع میں بنگالی ڈاکٹروں کا غلبہ۔
- غریب طبقے کے لوگ بنگالی ڈاکٹروں کے دوا علاج پر منحصر
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: جہاں حکومت نے غیر رجسٹرڈ نرسنگ ہومز اور اسپتالوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے وہیں پورے ضلع میں نام نہاد بنگالی ڈاکٹروں کا جال پھیلا ہوا ہے وہ ضلع، شہر، قصبہ اور گاؤں گاؤں کے ہر گلی چوراہوں پر اپنا کلینک اور اسپتال کھول کر مریضوں کا دوا علاج کرنے کا کام کرتے ہیں۔
ابھی چند ہفتے قبل ضلع میں چل رہے اسپتالوں کے جال میں کچھ بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں جس پر انتظامیہ نے سخت رویہ اپناتے ہوئے ان اسپتالوں کی جانچ شروع کردی تھی اور جہاں بے ضابطگیاں یا عدم رجسٹریشن پائی گئی ان اسپتالوں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ ایسے میں بنگالی ڈاکٹروں کا جادو پورے ضلع میں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
تعجب تو تب ہوتا ہے کہ ان بنگالی ڈاکٹروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ایک اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ بنگالی ڈاکٹر ایلوپیتھ، آیورویدک، یونانی اور ہومیوپیتھی سے لے کر تمام پیتھی میں علاج کرتے ہیں۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کچھ بنگالی ڈاکٹر جادو ٹونے اور تعویذ کا سہارا لے کر بھی مریض کو دھوکہ دے کر اپنا الّو سیدھا کر نے کا کام کرتے ہیں۔
ضلع کے دیہی علاقوں کی بات چھوڑ دیں تو بنگالی ڈاکٹر ضلع ہیڈ کوارٹر پر ہی ضلع انتظامیہ کے ناک کے نیچے ہی بیٹھ کر اپنا کلینک اور اسپتال بے خوف ختر ہوکر چلا نے کہا کام کر رہے ہیں۔
غور طلب ہے کہ انتظامیہ کا کون سا ادارہ انہیں ایلوپیتھک، آیورویدک، یونانی اور ہومیوپیتھی ایک ساتھ سبھی پیتھی میں علاج کے لیے رجسٹریشن اور اجازت دینے کا کام کرتا ہے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سرجری کے نام پر یہ بنگالی ڈاکٹر نیم حکیم خطرے جان کی طرز پر خود کو بواسیر اور پائیلس جیسی بیماریوں کا ماہر بھی بتاتے ہیں اور ان کے اندھا دھند علاج کے نام پر مریضوں سے اچھا خاصا روپیہ بھی وصول کرتے ہیں۔ اسی لیے کئی مریضوں کے جان کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے۔
ایسے میں انتظامیہ کے ناک کے نیچے بیٹھے ان بنگالی ڈاکٹروں کے کلینک اور اسپتالوں پر ضلع انتظامیہ کی نظر کیوں نہیں پڑتی۔
سوال یہ ہے کہ یہ بنگالی ڈاکٹر کس کے حکم سے اپنے طبی جال کو ہیڈ کوارٹر سے لے کر ضلع کے دور دراز علاقوں تک پھیلا کر اپنا کلینک اور اسپتال چلانے کا کام کر رہے ہیں۔
معلومات کے مطابق ان کا نیٹ ورک نہ صرف ضلع بلکہ ریاست اور پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور وہ ایک دوسرے سے ربط ضبط رکھ کر اپنا کلینک اور اسپتال چلانے کا کام کرتے ہیں۔ ایسے میں معصوم عوام ان کے جال میں پھنس کر پیسہ اور صحت دونوں برباد کرنے کا کام کرتے ہیں۔
اس بارے میں کچھ لوگوں سے بات کرنے پر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا گیا کہ انہیں کچھ بنگالی ڈاکٹروں کے دوا علاج پر کمزور طبقے کے لوگ ہی نہیں بلکہ اچھے خاصے میڈل طبقے کے لوگ بھی منحصر ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ کسی کسی کے پاس دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی وہ بھلا آج کے منہگائی کو دیکھتے ہوئے بڑے بڑے ڈاکٹروں اور کلینک کا خرچ کیسے اٹھا سکتے ہیں اُن کے لیے کبھی کبھی یہی فرشتہ صفت بنگالی ڈاکٹر دوا علاج کر نے کے کام آتے ہیں۔
