وقف جائداد کے تحفظ میں ملت کا ہر فرد اپنی سطح سے تعاون کرے: ارشاد اللہ

(پریس ریلیز)بہار ریاستی سنی وقف بورڈ کی جانب سے انجمن اسلامیہ ہال میں ضلع سطح پر وقف اسٹیٹ اور اوقاف کمیٹیوں کے ذمہ داروں کے لئے تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں تقریباً تین سو نمائدے شریک ہوئے۔ پروگرام کی صدارت بہاراسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے چیرمین الحاج محمد ارشاد اللہ نے کی۔اس تربیتی پروگرام میں وزیر اقلیتی فلاح محمد زماں خاں، راجیہ سبھا رکن پارلیامنٹ اور بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈکے رکن ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، پٹنہ کے اے.ڈی.ایم نوشاد احمد، محکمہ اقلیتی فلاح کے ڈائرکٹر ڈاکٹر عامر آفاق احمد فیضی، بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے سی.ای.او خورشید انور صدیقی،وقف ویلفیر فورم کے چیرمین جاوید احمد، سینئر صحافی ایس.ایم. اشرف فرید کے علاوہ محکمہ اقلیتی فلاح کے افسران احمد محمود، ابرار احمد خان، عظیم اللہ انصاری، دیوان جعفر حسین خان و دیگر شریک ہوئے۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اقلیتی فلاح محمد زماں خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں ریاستی حکومت وقف املاک کے تحفظ، بازیابی اور فروغ کے لئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں وزیر اعلیٰ وقف ترقیاتی اسکیم کے تحت وقف املاک کی ترقی کا کام کیا جارہا ہے تاکہ اس کے توسط سے بھی اقلیتوں کی فلاح کے لئے بھی منصوبے چلائے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف جائداد کو غیر قانونی قبضے سے نجات دلانے کے لئے ضلع سطح پر یا متعلقہ کمیٹیوں کو جس طرح کا تعاون درکار ہوگا ان کا محکمہ ہر ممکن مدد کرے گا۔ وزیر اقلیتی فلاح نے وقف کمیٹیوں کے ذمہ داروں اور عام لوگوں سے بھی وقف جائداد کا تحفظ اخلاقی فریضہ سمجھ کر ادا کرنے کی اپیل کی۔ راجیہ سبھا رکن ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے کہا کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جائدادیں وقف کی ہیں ان کے جذبہ کو سلام ہے۔ یقینی طور سے بڑا دل والا ہی اپنی جائداد یں اللہ کی راہ پر وقف کرتے ہیں، ہمیں واقف کی قدر کرتے ہوئے وقف جائداد کے تحفظ اور واقف کی منشا کو بروئے کار لانے کے لئے جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہئے تاکہ وقف جائداد کے توسط سے ملت کی فلاح کا کام انجام دیا جاسکے۔ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے چیرمین الحاج محمد ارشاد اللہ تربیتی پروگرام میں شامل سبھی اوقاف کمیٹیوں کے ذمہ داروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وقف جائداد کا تحفظ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ ملت کاہر شخص اس کو اپنا اخلاقی فریضہ سمجھ کرے۔ محمد ارشاد اللہ نے بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کی حصولیابیوں کا تذکر ہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت والی موجودہ حکومت میں اوقاف کو کافی فروغ حاصل ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی خصوصی دلچسپی سے پوری ریاست میں وقف ترقیاتی اسکمیں چلائی جارہی ہیں۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں وقف کی زمین پر عالی شان کثیر المقاصد عمارت کی تعمیر کرائی گئی ہے۔ پٹنہ میں تعمیر انجمن اسلامیہ ہال کی عالی شان عمارت اس بات کی گواہ ہے کہ وقف کے فروغ کے لئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کتنی دلچسپی لیتے ہیں۔ انہوں نے اس عالیشان عمارت دیدہ زیب بنانے میں خصوصی دلچسپی دکھائی اور اس کے لئے خطیر رقم مختص کی۔ چیئرمین محمد ارشاد اللہ نے کہا کہ سنی وقف بورڈ وقف جائداد کے تحفظ، بازیابی اور اس کی انتظام کاری کے لئے جامع منصوبہ پرکام کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کی جانب سے ضلع سطح پر اقلیت طبقے کے بچوں کی تعلیمی ترقی کے لئے کوچنگ منصوبے پر عمل کیا جارہا ہے۔ مختلف اضلاع میں اس کی شروعات کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملت کے بچوں کو روزگار سے جوڑنے کے لئے ووکیشنل ٹرننگ کا بھی نظم کیا گیا ہے جس سے بڑی تعداد میں بچوں نے استفادہ کیا ہے۔ یہ پروگرام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ چیرمین محمد ارشاد اللہ نے وقف جائداد کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں وقف جائداد کا تحفظ ایک بڑی چنوتی ہے اس پرملت کے ہر فرد خاص طور سے متعلقہ وقف کے متولی اور کمیٹیوں کے ذمہ داروں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ذرا بھی لاپرواہی ملت کے لئے نقصاندہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم وقف جائداد کے تحفظ کے سلسلے میں پوری طرح بیدار رہیں۔ وقف جائداد کا رجسٹریشن بورڈ میں یقینی طور سے کرائیں۔ انہوں نے بتایاکہ سروے میں وقف جائداد کا اندراج ضروری ہے۔ وقف جائداد کو رجسٹر-2 میں درج کرایا جانا لازمی ہے۔ اس کے لئے اپنی اپنی سطح سے پوری کوشش کریں۔ چیرمین نے بتایا کہ وقف بورڈ کی پہل پر محکمہ اقلیتی فلاح کی جانب سے ریاست کے تمام ضلع مجسٹریٹ اور متعلقہ افسروں کو مکتوب ارسال کیا گیا ہے کہ وہ وقف جائداد کا اندراج رجسٹر 2 میں کرانے کے لئے کارروائی کریں۔ متعلقہ ذمہ داران ضلع انتظامیہ کے افسران کے ساتھ رابطہ کرکے وقف جائداد کا اندراج یقینی طور سے کرانے کے لئے سرگرمی کا مظاہرہ کریں۔اس سے قبل اے.ڈی.ایم نوشاد احمد نے وقف جائداد کے اندراج کے سلسلے میں تکنیکی باتوں کی جانکاری دی اور بتایا کہ سرکاری ریکارڈ میں زمین کی تفصیل درج کرایا جانا نہایت ضروری ہے۔ اس پر توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ محکمہ اقلیتی فلاح کے ڈائرکٹر ڈاکٹر عامر آفاق احمد فیضی نے مختصر مگر جامع انداز میں اوقاف کی اہمیت اور اس کے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے محکمہ کی طرف سے وقف جائداد کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لئے کئے جارہے اقدام کی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترقیا تی اسکیم سے استفادہ کے لئے اوقاف کمیٹیاں بھی سرگرمی دکھائیں، محکمہ ہر ممکن تعاون کریگا۔ وقف ویلفیر فورم کے چیرمین جاوید احمدنے ملک میں اوقاف کی صورت حال پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وقف جائداد کا تحفظ انتہائی حساس معاملہ ہے۔ قومی سطح پر مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہماری لاپرواہی اور نظر انداز کرنے کی صورت میں وقف جائداد کا کافی نقصان ہوا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ وقف جائداد کے تحفظ کے لئے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ممتاز صحافی ایس.ایم.اشرف فرید نے وقف جائداد کے تحفظ کے لئے بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف جائداد کا بہتر استعمال کیا جائے تو اس سے ملت کے لئے بڑے پیمانے پر فلاحی کام انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے سی.ای.او خورشید انور صدیقی نے استقبالیہ خطبہ دیا۔ انہوں نے وقف قانون1995 کے مختلف دفعات کی جانکاری دی اور تمام اوقاف کمیٹیوں سے پوری سرگرمی اور شفافیت کے ساتھ کام انجام دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے خاص طور سے وقف کی جائداد کا رجسٹریشن یقینی طور سے کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی آمد و خرچ کی تفصیلات بروقت بورڈ کو فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ تکنیکی اجلاس میں بی.ایم.ڈبلو.او اور بورڈ کے انچارج اکزکیو ٹیو آفسر افروز اختر، جہانگیر عالم، اسی.اے. الطاف حسین،نے اوقاف سے متعلق الگ الگ موضوعات پر شرکاء کی رہنمائی کی۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر نورالسلام ندوی نے بحسن و خوبی انجام دی۔ تربیتی پروگرام میں ریاستی جنتادل (یو) کے جنرل سکریٹری میجر اقبال حیدرخان پٹنہ ضلع اوقاف کمیٹی کے صدر عبدالباقی صدیقی، تحسین ندیم، عدیل احمد، اعظم بھائی، سلمان اختر مسٹر، سلطان انصاری، آفتاب عالم، مختارالحق، زیداحمد، مناملک، ممتازاحمد، ڈاکٹراشرف اسماعیل، مطلوب الرحمن صدیقی سمیت کثیر تعداد میں اوقاف کمیٹیوں کے وابستہ افراد شامل ہوئے۔

_______

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے