ابو احمد مہراج گنج

عام زبان میں "کسی شخص کا مال اس کی مرضی یا اجازت کے بغیر لے لینے کو چوری کہتے ہیں ” اور اس عمل کے کرنے والے شخص کو چور کہا جاتا ہے۔جبکہ شرعی تعریف یہ ہے کہ عاقل بالغ شخص کا کسی محفوظ جگہ سے دس درہم یا اتنی مالیت (یا اس سے زیادہ) کی کوئی ایسی چیز جو جلدی خراب ہونے والی نہ ہو چھپ کر کسی شبہ و تاویل کے بغیر اٹھا لینا۔ اور اصطلاحی تعریف ہے: کسی کی ملکیت کو اس کے مالک کے علم میں لائے بغیر ناحق اپنی ملکیت ٹھہرالینا۔

ان سب علمی اصطلاحات سے پرے بھی چور کی ایک تعریف ہے کہ کوئی ایسا عمل کرنا جس کو عوام سے چھپانے کی ضرورت نہ ہو لیکن جس نے وہ کام سپرد کیا ہے اس سے نظر بچانے کی ضرورت پڑتی ہو ،جس کو ہم اپنے معاشرے اور عام بول چال میں "کام چوری” کہتے ہیں ۔

یہ کام چور بھی عجیب مخلوق ہیں ۔بظاہر تویہ دکھاتے ہیں کہ بڑی لگن۔محنت اور توجہ سے سپرد کئے گئے کام کو کررہے ہیں لیکن درحقیقت ایسا ہوتا نہیں ہے وہ اپنے کام میں چوری کررہے ہوتے ہیں ۔کبھی آپ نے اپنے گھر پر کوئی مزدور لگایا ہوگا اور محسوس کیا ہوگا کہ کوئی کوئی مزدور محنتی ،ایماندار،اور جفاکش ہوتا ہے ۔پورے وقت محنت اور لگن کے ساتھ سپرد کئے گئے کام کو کرتا رہتا ہے،اور کبھی کوئی ایسا بھی مل جاتا ہے جس کو آپ اگلے دن بلانا پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ کام چور ہوتا ہے ۔اسی طرح کبھی آپ اسٹیٹ بینک آف انڈیا SBIکے کسی بھی برانچ میں گئے ہوں گے تو وہاں کے ملازمین کے کام کرنے کی رفتار سے آپ نے محسوس کرلیا ہوگا کہ یہ اپنا کام ایمانداری اور لگن سے نہیں صرف حاضری لگانے کی غرض سے کررہے ہیں ۔مطلب کی کام چور ہیں ۔

بدقسمتی سے ہمارے دینی مدارس میں بھی مولویوں کی ایک بڑی تعداد اسی نوعیت کی موجود ہے جو اپنے مفوضہ کام تو کر ہی رہے ہیں لیکن ایسے ہی جیسے سرکاری بینک کے ملازم یاسرکاری دفترکے کلرک کرتے ہیں بے دلی،بے رغبتی ،بے توجہی اور بد خلقی کے ساتھ ۔میرے ایک استاد اللہ پاک ان کی عمر میں برکت دے کہتے ہیں کہ مولوی تو یقیناً چور نہیں ہوتا ہے ،لیکن چور مولوی بن جاتا ہے ۔ان کے اس فلسفیانہ مقولے کہ صداقت اور اس کے رموز و اسرار مجھ پر اب بھی مخفی ہی ہیں تاہم میں اپنے وجدان سے یہ سمجھتا ہوں کہ مولوی جسے علم مولا ہوجاۓ وہ یقیناً کام چور نہیں ہوسکتا ہے اور جو کام چور ہے وہ مولوی تو ہے مگر علم مولاوالا نہیں ہے ۔

چوری کی سزا شریعت نے مقرر کررکھی ہے مگر کام چوری کی سزا متعلقہ افراد کے سپرد ہے وہ اپنی صوابدید کے مطابق سزااور جزا طے کر نے کے مجاز ہیں ۔

لیکن اب تک کی گئی کام چوری کا حساب اور اس کا تدارک کیسے کیاجا سکتا ہے ۔یہ جبھی ممکن ہے جب کام چور کے دل ودماغ میں یہ راسخُ ہو جاے کہ وہ کام چور ہے،ورنہ قرآن وحدیث وعظ ونصیحت کے دفتر کے دفتر اس کام چورکی چوری کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے