سید عزیز الرحمٰن
دنیا میں امن و انصاف کی بحالی و بالادستی کی مسلسل آوازیں اٹھتی رہی ہیں، عام طور سے خطباتِ جمعہ میں خطباء کرام اس کو اپنا موضوعِ خطابت بناتے رہتے ہیں، کبھی کبھی کسی ہنگامی صورتِ حال کے پیش آنےکی شکل میں ملک کی ملی تنظیموں کی جانب سے یہ آواز اٹھتی ہے اور کبھی کبھی عالمی سطح پر یہ آواز ملکوں کے سربراہوں کی جانب سے اٹھاٸی جاتی ہے، درِپردہ ان لوگوں کے مقاصد کیا ہوتے ہیں؟ ہم یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن جب اس طرح کی صداٸیں اور سرگرمیوں کا آغاز ان لوگوں کٕے اشاروں پر ہوتا ہے جنہوں نے خود انسانوں کا خون بہا رکھا ہو ، بےقصوروں مجبوروں، لاچاروں کے گھروں پر بمباری کرکے انہیں بےگھر کیا ہو، جنہوں نے بالجبر اپنے نظریات و خیالات لوگوں پر تھوپنے کی کوششیں کی ہو، تواس وقت شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ آخر جن کی ظالمانہ حرکتوں سے انسانیت ابھی تک کراہ رہی ہے، جن کےناجاٸز قبضے اور اس کےنتیجے میں پیداہونےوالی جنگوں اور ان جنگوں کے نتیجے میں ملکوں کےحصےبخرے ہوۓ ہوں بھاٸی بہنوں ، اولاد و والدین اور دیگر اعزا ٕ و اقارب کو ایک دوسرے سے بادلِ ناخواستہ محض زمینی تقسیم کی بنا پرجدا ہونا پڑا ہو، ان کو قیامِ امن و انصاف کی فکر کیسے ہوگٸی ؟؟
بہرحال دنیا میں امن وسلامتی اور عدل وانصاف کا قیام ضروری ہے بعثت انبیاء و رسل اسی غرض سے ہوتی تھی ،انبیاء ظلم کے خلاف ہی جدوجہد کرتے تھے، اور انبیاء کو اللہ نے بتا رکھا تھا کہ ظلم کی بیخ وبن کیا ہے اور اس کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اسی لیے وہ برگزیدان ِ خداۓ متعال اس امر کے خلاف سب سے پہلے محاذ آراٸی کرتے تھے جو قیام ِ امن وانصاف کےلیے حددرجہ مانع ہوتا ہے، اسی لیے اللہ نے اس چیز کو قرآن کریم میں ظلم ِ عظیم کہا ہے، تمام نبیوں کی مشترکہ دعوت یہی تھی کہ ”اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ شرک نہ کرو“ انہیں من جانب اللہ یہ تعلیم دی گٸی تھی کہ جب بندے عبادت ِ ربِّ حقیقی سے گریز کرتے ہیں اور اس کےساتھ شرک کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ افکارونظریات میں شدید اختلاف پایا جانے لگتا ہے جس کے سبب رفتہ رفتہ لوگ جماعت در جماعت تقسیم ہوتے چلے جاتے ہیں پھر اس افتراق کے سبب تصادم و ٹکراٶ کی صورت پیدا ہوتی ہے جس سے باہم جنگ وجدل کی نوبت آجاتی ہے اسی لیے نبیوں نے توحید پر بہت زور دیا اور اپنی پوری زندگی میں اس کی کوشش کرتےرہے کہ لوگ مخلوقات کی پرستش چھوڑ کرایک خالق اور حقیقی معبود کی عبادت کرنے لگیں جس پر فطرتاً وہ خلق کیے گیے ہیں، اسی طرح نبیوں نے اللہ کا یہ حکم بھی لوگوں کو بتاتا ”وزنوا بالقسطاس المستقیم “ کہ سیدھی ترازو سے تولو “ ماپ تول میں کمی نہ کرو ،انصاف کے تقاضوں کو پورا کرو ، تطفیف سے اجتناب کرو ،دوسروں کو ضرر میں ڈال کر خود ہی نفع اندوزی نہ کرو ورنہ دلوں میں دوریاں پیداہوں گی، عداوت پروان چڑھے گی انجام کار جنگ وجدل کی نوبت آۓ گی تو انسانوں کے خون سے زمین لالہ زار ہوگی انسانوں کا خونِ ناحق روۓ زمین پر بہے گا ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا ہےترجمہ”جس نے کسی جان کو ناحق یا زمین میں فساد مچاۓ بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کا قتل کیا ہے اور جس نے کسی جان (انسانی )کو( ناحق قتل ہونے سے بچاکر یاقصاصًا جان لےکر) زندہ کیا تو گویا کہ اس نے پوری انسانیت کو حیات ِنو بخشی “ ۔
اس سے واضح ہوگیا ہے کہ اسلام ظلم و زیادتی، ناحق خون ریزی کو سخت ناپسندکرتاہے اور یہ محض قولا نہیں عملا بھی ایسا ہے اسی لیے ظالموں اور فسادیوں کی سزا بھی اسلام میں سخت ہے ارشاد رب ہے (ترجمہ) جو اللہ اور اس کے رسول سےلڑیں اور زمین میں فساد مچانے کی کوشش کریں ان کی سزا یہ کہ انہیں قتل کیاجاۓ یا انہیں سولی دی جاۓ یا جانبِ مخالف سے ان کےہاتھ پاٶں کاٹ دیے جاٸیں یا انہیں ملک بدر کردیاجاۓ یہ ان کی دنیوی ذلت ہے اور ان کےلیے آخرت میں دردناک عذاب ہے (سورہ مائدہ آیہ 33)۔
اس آیت کریمہ میں ایسے عناصرکی سزا اور ایسے لوگوں کی سرکوبی کا بیان ہے جوظالم ہیں، انسانوں کےاور اہلِ توحید کے دشمن ہیں اب کوٸی نادان اس علاج کو ہی مرض سمجھنے لگے اور تریاق کو ہی زہر سمجھنے لگے اور اصلاح کے کاموں کو فساد کانام دینےلگے تواس کی عقل پر صرف یہ نہیں کہ ماتم کیاجاۓگا بلکہ یہ سمجھاجاۓ گا کہ ایسا شخص فساد پرراضی ہے ، ظلم وزیادتی کاروادار ہے پھر ایسے لوگ سے امیدکرناکہ وہ دنیامیں قیامِ امن وانصاف کا کام کریں گے ؟ ہرگزنہیں بلکہ یہ توامن وانصاف کےدشمن قرار پاٸیں گے ،ان کے امن وانصاف کےقیام کےنعروں کو محض فریب اور دھوکہ کہاجاۓ گا اور جوان کھوکھلے نعروں کی پیروی کریں گے تو انہیں فریب خوردہ یا ظالموں کا حمایتی کہا جاۓ گا۔
قیام امن کی کوششیں:
اس لیے قیام امن کی سب سے پہلی کوشش دعوت الی اللہ ٹھہری کہ لوگوں کوایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا جاۓ کیوں کہ اللہ اپنے بندوں کےلیے یہی پسند کرتاہےکہ اس کےبندے فقط اسی کی عبادت وبندگی کریں اور وہ کفر سے اجتناب کریں کیوں کہ اللہ کفر کو اس کی تمام اقسام کےساتھ ناپسندکرتاہے قرآن میں ہے”ان اللہَ لایرضیٰ لعبادِہ الکفرَ“ یعنی اللہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے۔
عبادت اور بندگی اللہ کے اوامر کے امتثال کا نام ہے اور اللہ کے احکام براہِ راست عام بندوں کو نہیں پہنچ سکتےہیں بلکہ وہ تو اللہ کے مخصوص بندوں کے واسطے سے پہنچتے ہیں جن مخصوصین کا انتخاب اللہ اپنی رسالت و پیغام بری کے لیے خود کرتا ہے اور دلاٸل و براہین اور آیاتِ بینات اور معجزات دے کر بھیجتا ہے، ان پر اپنا کلام وحی کرتا ہے، لہذا یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ رسول بشری پیکر میں مبعوث کیا جاۓ تاکہ لوگ اسے دیکھ سمجھ سکیں اور عملی طور احکام الہی پر اس کو عمل کرتا ہوا دیکھ کر خود بھی عمل کریں ، اب اس وضاحت کےبعد یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگٸی کہ اللہ کے بندے اپنےخالق ورب کی عبادت من مانی طریقے سے نہیں بلکہ اس رسول کےعمل کے مطابق کریں گے ، لہذا معلوم ہوا کہ اللہ پرایمان، اس کے مستحقِ عبادت ہونے کا اقرار، اور اس کی وحدانیت و ربوبیت کے اقرار کے ساتھ رسول کی رسالت کا بھی اعتراف و اقرار ضروری ہے نیز رسول کی اتباع بھی لازم ہے اسی لیے تمام انبیاء کرام اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کا حکم دینے کے ساتھ ”واتبعونِ“ بھی کہتے تھے جس کا مطلب ہے کہ ”میری اتباع وپیروی کرو“ اس وضاحت کے بعد یہ سمجھنا آسان ہوگیا کہ لوگوں کو افتراق (جو فسادِ امن کا سب سے بڑا سبب ہے ) سے بچانے کے لیے لازم ہے کہ لوگ رسول کی رسالت کو بھی تسلییم کریں ورنہ قیام امن کی تمام کوششیں اس لیے ناکام ہوکر رہ جاٸیں گی کیوں کہ لوگوں کی فکروں کا اتحاد اس کے بغیر نہیں پایا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ جب اسی کو ہی بحیثیت رسول نہ قبول کیاجاۓ گا تو توحیداور عبادت رب بےمعنیٰ ہوکر رہ جاۓ گی اے کاش عالم یہودیت ونصرانیت اور عالم وثنیت و مجوسیت سب ہی اس نکتہ کو سمجھتے اور حقیقی طورپر ایک رب کا ہوکر اس دنیاکو بھی گلزار کرتے اور آخرت کی سرخروٸی بھی حاصل کرتے ۔
اس میں کوٸی شبہ نہیں کہ اسلام کی تعلیمات عدل وانصاف کے تقاضوں سے پرہیں، دشمن کے ساتھ بھی عدل وانصاف کرنےکو قرآن کہتا ہے سب کے ساتھ مساوات کرنے کی تعلیم اسلام میں موجود ہے لیکن اس دعوت الی الاسلام و دعوت الی اللہ کو وہ لوگ جو اللہ کے اور مٶمنین کے اعدا ٕ و دشمنان ہیں کبھی برداشت نہ کریں گے وہ حق کی جانب بلانے والوں کی ناکہ بندی اور گھیرا بندی کریں گے تاکہ اللہ کی وحدانیت اور وقت کےرسول کی رسالت کے عقیدہ کا فروغ نہ ہونے پاۓ لوگ اسے قبول نہ کرلیں پھر کیوں کر مکمل طریقے پردنیامیں امن وانصاف کا قیام ہو؟ ہردور میں یہی دیکھا گیا ہے اہلِ باطل ہی اہلِ حق سے متصادم نظرآتے ہیں، جنگوں ،دنگوں کی ابتدا انہیں کی جانب سے کیجاتی ہے اور اہلِ اسلام اہلِ حق کو موردِ الزام ٹھہرا کر انہیں ہی امن وانصاف کا دشمن اور دنیاکےسامنے جنگجوکےطور پر پیش کیاجاتا ہے۔ یہی نہیں اگر اہلِ اسلام اپنی جان ، اپنے مال اور ایمان کے تحفظ کی خاطر اپنا دفاع بھی کرتے ہیں تو انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اسلام کبھی بھی یہ نہیں کہتا ہے کہ ظالموں کی طرف جھک جاٶ تاکہ ان کے ظلم کی تاٸید ہوتی رہے اور انسانوں کا بطورِ خاص اہل حق ،اہلِ اسلام کا خون ناحق بہایا جاتا رہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج ظلم کو سہتے رہنے کا نام ہی صبر دے دیا گیا ہے۔ یہ وہ باتیں جن پر پوری دنیا کو بطورِ خاص عالم اسلام کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
sayyedazeezurrahman@gmail.com
