🖋️ مقیت احمد قاسمی گونڈوی
دارالعلوم دیوبند کی علمی درسگاہ، اور وہ بھی مولانا مدراسی کا درس ہو، اور کتاب بھی دیوان متنبی ہو، جو بھی اس خوشگوار دور سے گذر چکے ہیں وہ جانتے ہیں مولانا مدراسی کا یہ شعر پڑھنا اور بار بار پڑھنا، اور منفرد لب ولہجہ میں پڑھنا، دلوں کو محظوظ کردیتا تھا، مگر راقم کبھی جان نہ سکا یہ شعر کس کا ہے آج جبکہ جگر مرادآبادی کی برسی پے ان کے تعلق سے کچھ پڑھا تو پتہ چلا کہ یہ جگر صاحب کا شعر ہے اور شعر پڑھتے ہی حضرت مولانا مدراسی کا لب ولہجہ یاد آیا، وہ شعر یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
جگر مرادآبادی جب حضرت تھانویؒ سے بیعت ہوگئے تو آپ نے کچھ سنانے کے لئے کہا تو یہ اشعار آپ کی خدمت میں سنایا، واقعی اشعار بہت ہی زبردست ہیں آپ بھی ملاحظہ کریں۔۔۔۔۔
کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی
بھجا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی
صداقت ہو تو دل سینے سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوالیتی ہے مانی نہیں جاتی
چلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کرمٹے جاتے ہیں گرگرکر
حضورِ شمع پروا نوں کی نادانی نہیں جاتی
وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آ ہٹ تک نہیں ہوتی
وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی
محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیا نی نہیں جاتی
09/09/2023
