محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923 
۱۔ چارسواری:۔ 
والدین 16اور19سالہ لڑکوں کو موٹرسائیکل پر بٹھائے جارہے تھے۔ پترکار جوشی انکی تصویر لینے تک وہ کافی دور نکل گئے۔ وہ محکمہ پولیس اور حکومت کو تصویر کے ذریعہ یہ بتانا چاہتا تھا کہ یہ غربت ہے۔کوئی خوشی خوشی چارسواری نہیں کرتاصاحب… اس لئے پہلے غربت ہٹانے پر توجہ دیں۔ٹریفک قوانین کی باری بہت بعد میں آتی ہے
۲۔ میسیج:۔ 
بہت دن بعد اس نے اپنے ہی واٹس ایپ نمبر پر میسیج بھیجا اور جواب کا انتظار کرتا رہا۔وہ اپنے سلام کا جواب چاہتا تھا،اسے کوئی جواب نہ ملا۔
۳۔ پیلی گاڑیاں:۔ 
شہر میں پیلی گاڑیاں دوڑ رہی ہیں اور شرنپا وساجی سوچ رہا ہے کہ شہر ترقی کرچکا ہے، بچے پڑھ رہے ہیں۔ہم بھی پڑھا کرتے تھے، پیدل اسکول جاکر، اب یہ پیلی گاڑیاں بچوں کو تیزی سے خانگی اسکول لے جاکرتعلیمی ترقی کروارہی ہیں۔ہم پیدل چلتے ہوئے یہیں والدین کے ساتھ رہ گئے اور یہ پیلی گاڑیوں کے مسافر والدین کو چھوڑ کر جانے کہاں نکل گئے۔ ان ترقی یافتہ بچوں کی خبر ہی نہیں آتی۔
۴۔ مجھے معلوم ہے:۔ 
”لکھنے والے بہت ہیں، جیسے پکانے والے باورچی ہوتے ہیں۔ پکاتے تو سبھی ہیں لیکن اس پکوان کو بہت کم لوگ پسند کرتے ہیں۔اس لئے لکھومگر شاندار اور جاندار”
آج 25/سال بعد بھی استاد محترم کی یہ باتیں یاد آتی ہیں اور آپ یقین جانیں کہ ان پچیس سال میں لکھا تو بہت ہے مگر شاندار اورجاندار نہیں۔شان اور جان انکے پاس ہوتی ہے جو مرنے کے بعد کی زندگی کے لیے سوچتے ہیں۔ایک میں ہوں کہ دنیاداروں کے ساتھ مل کر دنیاداری – دنیاداری کا کھیل رقم کرنے میں لگا ہوا ہوں۔افسوس ہیکہ عادت سے باز نہیں آتا۔ آپ اپنا خیال رکھیں۔
۵۔ آماجگاہ:۔
جب سے انٹرنیٹ معاشرے کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہا ہے اور لوگ انٹرنیٹ کے نشے میں ڈوبے ہوئے ہیں، ایسے میں ہر انسان رات اور دن کے 24 گھنٹے نیند کے خمار میں نظر آتا ہے. طبیبوں نے کہہ دیا ہے کہ انٹرنیٹ انسانوں میں کئی ایک نئی قسم کی بیماریاں پھیلا رہا ہے،اس سے بچا جائے، دن بھر میں دو گھنٹوں سے زیادہ استعمال نہ ہو۔کوئی سننے اور انٹرنیٹ سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ معاشرہ اس قدر نت نئی بیماریوں کی آماجگاہ بن چکا ہے کہ اس کااحساس نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے