محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923
۱۔ ڈاج :۔
وہ ایک سرپھرا نوجوان تھا۔ اس کاسوال اہم تھا۔ جس کا جواب مجھے دیناتھا۔ میں نے کہا’’جب جنگوں کاماحول بن جاتاہے تو اپنے اوقات کاراور اپنی اوقات دنوں کاپتہ چل جاتاہے ۔ ذراجنگ شروع ہونے تو دو‘‘ اس نے فوراً مجھ پر پستول تان لیا۔ میں نے خود کو ضبط کرتے ہوئے کہا’’مسٹر ۔۔۔۔!تم ذراسوچوکہ خود نشانے پر ہویانہیں ؟میراایک اِشارہ تمہاری کھوپڑی توڑ دے گا‘‘
وہ ایک وحشت زدہ نوجوان تھا۔ اس نے پستول نیچے کرتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھناشروع کردیا۔ دراصل شکاراپنے شکاری کو تلاش کررہاتھا۔ میں اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اور گاڑی چل پڑی ۔ دراصل اُس پر کسی اور نے نشانہ نہیں سادھاتھا۔ وہ میراشاطر دماغ تھا ، جس نے اس بے وقوف نوجوان کو ڈاج دینے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
۲۔ کالا جادو:۔
کالا جادو کا بہت چرچاتھا۔ اس پر بھی کالاجادو ہوگیا۔ اب وہ سارے غلط کام نہیں کرسکتاتھا۔ اچھائی تک محدود ہوکر رہ گیاتھا۔ اُسے گھٹن محسوس ہورہی تھی لیکن اس کالے جادوکے حصار سے باہر نکلنے کے لئے اس کاکوئی توڑ بھی مل نہیں پارہاتھا۔وہ کالے جادو کاقیدی بن کررہ گیا۔
۳۔ تفکر:۔
ہم نے اردو کے ا دھیڑعمر کے صحافی کو چٹکی لی’’یہ جو تم روزانہ خبریں لکھتے رہتے ہو، یہ خبریں پڑھتاکون ہے ؟‘‘
صحافی جہاندیدہ لگ رہے تھے۔ ہم نوجوانوں کے مزاج سے بھی غالباً واقف ہوںگے ۔ اس لئے انھوں نے مسکراتے ہوئے مختصر ساجواب دیا’’کوئی پڑھے یانہ پڑھے ، بھلے تم نہ پڑھولیکن مختلف محکمہ جات میں میری خبریں پڑھی جاتی ہیں اورپھر پولیس والے تولازماً پڑھتے ہیں بلکہ میری خبروں کا نوٹس بھی لیتے ہیں، تم لوگ بھی پولیس والوں کی طرح باخبر رہاکرو ‘‘
وہ اتنا کہہ کر چلے گئے لیکن ہم تمام دوستوں کے چہرے پر تفکر صاف طورپر دیکھاجاسکتاتھا۔ شاید ان کی یہ بات اثر کرگئی کہ تم لوگ بھی پولیس والوں کی طرح باخبر رہاکرو۔
۴۔عملِ مثبت :۔
عمرکی نصف صدی تک دل ہی ٹوٹتارہا۔ ہر موڑ پر دل کاٹوٹنا معمول میں داخل ہوچکاتھا۔ لیکن نصف صدی بعد زندگی کے ہر موڑ کو وہ اپنے حق میں آنے والا موقع تصور کرنے لگا۔اور جیسے ہی کہانی میں ؍باتوں میں ؍بحث میں ؍ایکشن اور ری ایکشن کا موڑ آتا وہ بڑی خوبی کے ساتھ اس موڑ کو اپنے حق میں کرلیتاہے۔
مسائل کی کئی جونکیںآج اس کے جسم سے لپٹی ہوئی ہیں ، اس کاخون چوس رہی ہیں ، لیکن وہ انہیں مثبت لے رہاہے ۔ وہ سمجھتاہے کہ دُکھوں کاعلاج مثبت سوچ میں پنہاں ہے۔ بھلے دوسروں کووہ سوچ منفی یااحمقانہ لگے۔
۵۔ ایک نکاتی تجسس :۔
’’زندگی کاکھیل کیاہے ؟‘‘ سوال آکھڑا ہوا۔ جواب یہی کچھ ملاکہ’’ایک وہ ہے۔دوجے تم ہواورتیسرااور بھی ہیں ۔ اس تکون میں جو ’’اور بھی ہیں‘‘ ان کاہونا عارضی اور آزمائش کے لئے ہے۔ جو’وہ‘ ہے وہ مستقل ہے ۔ اسی کوجاننا، اسی کوتنہااوربااختیارماننا،اسی کی ٹوہ میں لگے رہنا زندگی کاکھیل ہے۔ تجسس اس ’وہ‘کے علاوہ کسی کانہ ہو، اس سے ہٹ کر کیاجانے والا تجسس زندگی کے بیش قیمت وقت کا نقصان کردے گا۔لہٰذا’وہ ‘سے متعلق تجسس کو عین عبادت سمجھ لو‘‘
وہ مطمئن ہوایانہیں پتہ نہیں۔ کیوں کہ تجسس تو ’وہ‘ سے ہی مختص ہے نا ۔
۶۔ شکریہ سر:۔
پالیٹیکل سائنس کے طالب علم نے پروفیسرصاحب سے کہا’’اقتدار ایک سے چھین کر دوسرے کو دینا خدائی صفت ہے۔ اس عمل میں جوتکلیف ہوتی ہے ، اس کامتحمل انسان ہونہیں سکتا۔ یہ انسان کے دائرہ کارا ور اس کی قوتِ برداشت سے باہر کی چیز ہے، لہٰذا اس عمل میں وہ غلطی بھی کرے گا اور نقصان پر نقصان اٹھائیگا۔ اس کے باوجود بھی وہ یہ کام کرتے ہوئے اپنی عمریں کھپارہاہے۔ یہ بیوقوفی کے علاوہ کچھ نہیں ہے‘‘
پروفیسر پرشانت ٹوننے نے اس طالب علم کوپہلے تو اپنے چشمہ کے پیچھے سے گھور کردیکھااور پھر بولے ’’اقتدا رکاکھیل سیاست کہلاتاہے۔ پالیٹیکل سائنس کے طلبہ کو اس پر نظررکھناچاہیے‘‘ طالب علم نے حیرت اور کچھ حدتک کنفیوزڈ لہجے میں کہا’’وہی تو میں نے کیاہے ، اسی کاتجزیہ تو میں نے ابھی پیش کیاہے آپ کے سامنے سر، کیا میں اپنے تجزیہ میں غلط ہوں ؟‘‘
پروفیسر نے مان لینے والے انداز میں کہا’’تجزیہ صحیح ہے ، مگر تم جو نتائج نکال رہے ہو ، اس کو دنیا نہیں مانے گی ‘‘طالب علم ہوشیارتھااور اپنے پروفیسر سے بحث نہیں کرناچاہتاتھا۔ اس نے اپنی نشست پر بیٹھتے ہوئے کہا’’شکریہ سر‘‘
۷۔ کاغذکامزدور:۔
وہ ایک ہاکر تھا۔ روزانہ اخبار ڈالتاتھا۔ ہم اسے ’’کاغذکامزدور ‘‘ کہاکرتے تھے۔ ایک دن ہم نے اس کو چھیڑدیاکہ بھائی ! اب اخبار کوئی نہیں پڑھتا، سبھی چینل اور ویڈیوکلپ کی طرف چلے گئے ہیں۔ کاغذ کے اُس مزدور نے ہماری بات نہیں مانی اور پورے یقین سے کہاکہ ’’ منوبھائی ، سہیل جی، وکیل خان صاحب ، دیکھیں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔چینل اور ویڈیو کی چار دن کی چاندنی ہے اس کے بعد تو اندھیری راتیں ہی مقدر ہوں گی ‘‘
ہمارے بزرگ ساتھی اسماعیل مالیگاؤں نے اس سے پوچھا ’’وہ کس طرح میاں ؟‘‘ ہاکر بولا ’’ دیکھئے حضرت ، اخباردراصل ویڈیوکلپ کے مقابلے دس فیصد بھی تکلیف نہیں دیتا۔ چینل اور ویڈیو کی آوازیں کانوں پر بار ہوتی ہیں اوریہ آوازیں دماغ کی چولیں ہلاکر رکھ دیتی ہیں جس سے بلڈپریشر بڑھتاہے اورانسانی صحت خراب ہوتی ہے۔ اخبار میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ آدمی اخبار پڑھتاہے اور پڑھنے کے اس عمل کے دوران اس کوکوئی آواز ،یاکئی ایک آوازیں ، لڑائی جھگڑا، ریپ، بمبنگ وغیرہ سنائی اور دکھائی نہیں دیتیں۔جس کی بدولت دماغی صحت بھی برقرار رہتی ہے اور اخبار پڑھنے کالطف بھی آتاہے۔ اخبار پڑھنے والا بیک وقت تمام خبروں پر نظر ڈال سکتاہے ، ویڈیویاچینل میں ایسانہیں ہوتا۔ چینل میں آنے والی خبروں کاانتظاراورتجسس کی اذیت انسانی دماغ اور اس کی صحت کی دشمن بن جاتی ہے ‘‘
میں سوچ رہاتھاکہ ہاکر معمولی شخص نہیں ہے۔ کوئی پڑھالکھافرد ہوگا۔ ذہن میں بات آئی کہ اس کی تعلیم معلوم کرلی جائے۔ پھر خاموش رہنے کوترجیح دی۔
