محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923
۱۔ یہی سہی :۔
’’اتنے سال سے آخر کرتے کیارہے ہو؟‘‘ میں نے اپنے دوست سے بے ساختہ سوال کردیا۔ جوعرصہ بعد مجھ سے ملاتھا۔ شایداس کی میری ملاقات ہوئے دودہائیاں گزرچکی تھیں۔ اچانک مجھے خیال آیاکہ جب میںمزید کئی دہائیاں دنیا میں گزار کر قبر میں پہنچ جاؤں گاتومجھ سے بھی یہی کچھ سوال کیاجائے گاکہ ’’آخراتنی دہائیوں تک دنیا میںکرتے کیارہے ہو؟‘‘تب میں کیاجواب دے سکوں گا؟لہٰذا کسی سے کچھ پوچھنے سے بہتر ہے کہ خود اس کی باتوں ، اشکالات ، مسائل وغیرہ کے اظہار کاانتظار کیاجائے۔ اگروہ بتاناچاہے ٹھیک ، نہ بتاناچاہے گاکہ تو یہی سہی۔
۲۔ جنگ بندی:۔
تیل کی قیمتیں جب آسمان کوچھونے لگیں ، اور مختلف ممالک کے غریب سڑکوں پر آکرپرتشد احتجاج پر مائل ہوگئے تب کہیں جاکر جنگ بندی ہوئی ورنہ وہ لوگ ایسا کرتے معلوم نہیں ہورہے تھے۔
۳۔ غلط جواب :۔
جواب دیاگیاکہ’’دنیا کی سب سے خوبصورت چیز کانام عورت ہے ‘‘ لیکن ایک کروڑ کے سوال کا یہ غلط جواب تھا۔صحیح جواب کچھ یوں تھا۔ ’’دنیا کی سب سے خوبصورت چیز کانام ہے زندگی‘‘
۴۔ قدرتی ایپ :۔
میں عرصہ سے بہت سے ایپ استعمال کررہاتھا۔ ڈاکٹرنے تمام ایپس کے استعمال کو منع کردیا اور کہا کہ’’ آپ کی اپنی زندگی کاقدرتی ایپ خطرے میںنظر آرہا ہے۔ لہٰذا بسترپر لیٹے لیٹے آپ اپنے اسی ایپ میں چلے جائیں اور حساب کتاب کرلیں کہ گذشتہ تمام سال میں کیاکھویا اور کیاپایا؟ کس کے لئے نفع بخش رہے اور کس کے ساتھ ظلم کرتے رہے‘‘ڈاکٹر کی ہدایات میری سمجھ میں نہ آسکیں حالانکہ میں نے پوچھا بھی کہ یہ سب مجھے کیوں کرنا چاہیے۔کیوں مجھے مشق ستم بنایاجارہاہے۔ اگر ان ہدایات پر عمل نہ کروں تو کیااس سے دنیا میں کچھ طوفان اٹھ کھڑے ہوں گے یاکیاہوگا؟ میرے سوالات سے تنگ آکر ڈاکٹر میری اہلیہ اور بچوں کی طرف رجوع ہوگیا۔
میں سوچ رہاتھاکہ سائنس کی دین یہ مختلف ایپس کیا میری زندگی کے لئے واقعی خطرہ بن چکے ہیں ؟
۵۔ ٹھنڈی چھاؤں:۔
موصوف کی پونے دو گھنٹے کی تقریر پسند آگئی تھی۔ ایک صاحب نے آگے بڑھ کر مہمان کی تقریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا ”جناب والا! آپ کی تقریر کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔ تقریر سنتے ہوئے کہیں وحشت نہیں ہوئی۔ اس قدر دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں کی طرح یہ تقریر تھی، سبھی آرام سے اونگھتے اور زیادہ ترسوتے رہے اور جب تقریر ختم ہوئی تو نیند سے بیدار ہوگئے، اس انداز کی تقریریں اب کہاں ہوتی ہیں…. شکریہ صاحب ”
مہمان نے اپنے دانت باہر نکال دئے۔ اور شکریہ کا جواب کوئی بات کہہ کر دِیا
۶۔عورت، لڑکی ،طالبات :َ۔
مولوی فاروق علی کو کو ئی عورت یا لڑکی بدصورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہ عورتوں اور لڑکیوں کے دیوانے تھے۔ اس دیوانگی کے دوران انہیں بدنامی بھی ہاتھ آئی لیکن وہ اس میدان سے ہٹ نہیں سکے۔
اب سناہے کہ انھوں نے ایک خانگی گرلز ہائی اسکول شروع کردیاہے، ان کے بچے بھی اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
