محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923
۱۔ خاتمہ یا؟
لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ مل چکاتھا۔ وہ اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھی ہوئی سوچ رہی تھی کہ اس کے بعد زندگی ختم ہے یاایوارڈ ختم ہیں ؟اسے کوئی جواب مل نہیں سکا۔
۲۔ بالیاں
پروفیسر بڑے ہی پڑھے لکھے آدمی تھے ۔اسی لئے تو پروفیسر تھے۔ انہیں سمجھانا آسان نہیں تھا۔ وہ چھوٹی چھوٹی کہانیوں اور افسانچوں کے سخت مخالف تھے۔ ہمیں اِن کہانیوں کوانسانی ضرورت کے طورپر سمجھاناتھا۔نتیش گوئل ، جواداحقر، شاردا شرما، مومن داؤد اور دیگرطلبہ پروفیسر صاحب سے بات کرچکے تھے۔ اب میری باری تھی ۔ میں نے کہا’’سر، دیکھئے ، ہم جو گیہوں کی روٹی بناکر کھاتے ہیں نا،‘‘ پروفیسر بولے ’’اس سے کیاہوتاہے ، آدمی کچھ نہ کچھ کھاتاہی رہتاہے ‘‘ دل نے چاہا سرپیٹ لوں لیکن وہ باعلم شخص تھے ، اس لئے صبرکادامن ہاتھ میں پکڑے اپنی با ت جاری رکھی، آگے کہا’’وہ گیہوں کی بالیاں ہوتی ہیں، چھوٹی چھوٹی ، ایسی ہزارہا بالیوں کوجمع کرنے کے بعد ہی گیہوں اور پھراس کی روٹی ہاتھ لگتی ہے ۔ ویسے ہی ان چھوٹی چھوٹی کہانیوں اور افسانچوں کونظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ روٹی کھاکر آدمی جس طرح مطمئن ہوجاتاہے اور اس میں ایک طاقت آجاتی ہے ۔ ویسے ہی یہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں اور افسانچے ادب کو طاقتور بناتے ہیں ‘‘
میں اپنی بات مکمل کرچکاتھا۔ دوستوں نے تالیاں بجائیں مگر پروفیسر صاحب تیوری چڑھائے مجھے اور میرے دوستوں کوگھورے جارہے تھے۔
۳۔خوشیاں منائیں
لکھنے کاوقت شاید ختم ہوچکاتھا کیوں کہ وہ سوچ ووچ کچھ بھی نہیں رہاتھا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے قلم رکھ دِیااورپھر سوگیا۔
اس قدر خوشیاں منائی گئیں کہ الامان والحفیظ
۴۔ دورہ
یہ دورہ دراصل دنیا کے صدر کادورہ تھا۔وہ آئے ، انھوں نے ظالم ومظلوم سے متعلق کچھ باتیں کہیں۔اور لڑائی روک دینے کاحکمنامہ جاری کرتے ہوئے واپس اپنے ملک چلے گئے۔
ان کے تحریری حکمنامہ کے بعدبھی لڑائی مزید ایک ماہ تک چلتی رہی، جس میں ہزارہا انسان مارے گئے اور لاکھوں زخمی ومعذور ہوگئے۔ اصل میں دنیا کو ایسے صدر کی ضرورت ہے جس کے ایک حکم پر منٹوںکے اندر آناً فاناً لڑائی بند ہوجائے۔ اب یہ کام بھی مظلوموں ہی کو کرناپڑے گا۔ ان ہی میں سے ایک شخص اس بے قیادت دنیا کی قیادت کرے تب ہی لڑائیوں کاخاتمہ ممکن ہے۔
۵۔زندگی فرض ہے
تینوں نے گانجہ لگایاہواتھا۔ نشہ کی جھونک میں ایک کہہ رہاتھا،’’ زندگی سانس کی آمد ورفت کانام ہے‘‘ دوسرے نے اس کے جواب سے اختلاف کرتے ہوئے گانجہ کے زیراثر مسرور ہوکر کہا’’زندگی پیسے کی کھنک کانام ہے ‘‘ تیسرا گنجوٹی ہنسنے لگا۔ دونوں گنجوٹیوں نے اس کو ہنستے ہوئے دیکھ کر کہا ’’پاگل ہوگیاہے پپو ، بالکل پاگل ‘‘
تیسر ے گنجوٹی پپو نے ان کی رائے پر خوشی کااظہارکرتے ہوئے کہا’’یار، زندگی تو غم کو بھول کراپنے فرائض انجام دینے کانام ہے، تم دونوں شایدیہ بات بھول گئے ، بھول گئے نا؟ ‘‘
دونوں گنجوٹیوں نے ایک دوسرے کو دیکھاپھر تیسرے گنجوٹی کی طرف دیکھ کر بولے’’پپو تو صحیح بول رہاہے ، زندگی فرض ہے ہم پر ‘‘

