بقلم: شہاب الدین فلاحی۔
متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی
مسئلہ فلسطین ایک ایسا مسئلہ ہے جو آج پوری دنیا کی نگاہوں میں کھٹک رہا، جسے آج انٹرنیشنل میڈیا بھی کوریج کر رہی ہے، بچہ بچہ آج حماس اور اسرائیل کے بربریت سے واقف ہو گیا ہے۔
فلسطین کے مسئلہ سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ فلسطین و حماس اور اسرائیل کی تعریف و تاریخ کا مختصراً جائزا لیا جائے ۔
حماس کیا ہے؟
حماس فلسطین کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم ہے ، جس کی بنیاد 1987ء میں شیخ احمد یاسین نے رکھی۔
سن 2006 کے عام انتخابات میں حماس نے غزہ پٹی میں اکثریت حاصل کی اور بعد ازاں 2007 میں فتح اور حماس کے مابین پرتشدد جھگڑوں کے نتیجے میں غزہ پٹی پر قبضہ کر لیا۔ تب سے مغربی کنارے پر محمود عباس کی قیادت میں فتح پارٹی کا کنٹرول ہے اور غزہ بدستور حماس کے کنٹرول میں ہے۔
حماس نے غزہ پٹی سے اسرائیل کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ اسے ‘اپنا دفاع‘ قرار دیتی ہے۔ اس تنظیم اور اسرائیل کے مابین سن 2008، 2012 اور 2014 میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔
اسرائیل کی تاریخی حقیقت کیا ہے؟
حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے اور چھوٹے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام تھے، حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے اور اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا۔ اسرائیل کے معنی ہیں عبداللہ یا خدا کا بندہ، بنی اسرائیل ان کے قبیلہ کو کہا جاتا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام تھے جو مصر کے بادشاہ بنے تھے، بنی اسرائیل میں ہی حضرت موسی علیہ السلام مصر کی سرزمین پر پیدا ہوۓ ان کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام صحراۓ سینائی کے علاقہ میں پیدا ہوۓ جو بعد میں فلسطین چلے گئے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام نے انتہائی طاقتور دیو ہیکل جالوت (گولائتھ) کو اللہ کی نصرت سے غلیل سے پتھر مار کر گرا دیا تو فلسطین کے بادشاہ صول نے حسب وعدہ ان کی شادی اپنی بیٹی مشل سے کر دی۔ صول کے مرنے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے ہوا، جن اور ہر قسم کے جانور حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیئے تھے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنّوں کی مدد سے مسجد الاقصی اسی جگہ تعمیر کروائی جہاں حضرت ابراھیم علیہ السلام نے عبادت گاہ تعمیر کرائی تھی، مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ، خانہ کعبہ اورمسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے ۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر فی الحال اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی بہت سارے لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔
مسجد اقصٰی ہی اس عالم میں وہ واحد جگہ ہے جہاں تاریخ انسانی کا سب سے بڑا پروگرام (اجتماع) ہوا جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم تک خدا کے بھیجے ہوئے تمام انبیاء و رسول جمع ہوئے تھے اور پھر وہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لیلۃ الإسراء میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی تھی۔
بیت المقدس منشر و محشر کی سر زمین ہے جیسا حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا ہمیں بیت المقدس کے بارے میں کچھ اہم بات بتائیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : وہ محشر اور منشر ہے یعنی حساب کے لئے لوگوں کو جمع کرنے کی جگہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ لوگوں کو از سر نو زندہ کرنے کی جگہ ہے۔(مسند احمد، سنن ابن ماجہ)
مسجد اقصٰی روئے زمین پر اپنے وجود کے اعتبار سے حرم شریف کے بعد دوسری متبرک مسجد ہے جیسا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی، آپ نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی، آپ نے فرمایا مسجد اقصٰی، میں نے پوچھا دونوں کی تعمیر میں کتنی مدت کا فاصلہ ہے، آپ نے فرمایا چالیس سال (بخاری)۔
فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان اصل تنازع:
اسرائیل یروشلم پر مکمل دعوی کرتا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ یہ اس کا دارالحکومت ہے۔ تاہم اس دعوے کو بین الاقوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔
اسکے علاوہ ایک دوسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں سب سے بڑی ریاست پہلے یہودیوں کی قائم ہوئی تھی، داؤد اور سلیمان علیہ السلام کے ذریعے اور یہودیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ سلیمان علیہ السّلام ہمار پیغمبر ہیں اور ہماری پوری دنیا میں خلافت قائم ہوئی تھی، اور تورات میں اللہ نے ہم س یہ وعدہ کیا تھا کہ ھم تم کو دنیا کی حکومت دیں گے،
لیکن قرآن میں یہ آتا ہے’ کہ ہم نےا ن سے اچھے اعمال کی بنا پر وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے اچھے عمل چھوڑ دئیے تو اللہ نے ان سے حکومت لیکر عیسائیوں کے حوالے کر دی پھر اسکے بعد عیسائیوں کی سب سے بڑی حکومت رہی ۔ لیکن جب اسلام آیا تو اللہ نے عیسائیوں سے خلافت لے کر مسلمانوں کے حوالے کردی، 1920 میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا ہے ، آج امریکہ سپر پاور ہے تو اس سے پہلے رشیہ سپر پاور تھا اور اس سے پہلے خلافتِ عثمانیہ تھی جو پوری دنیا کے چودھری بنے بیٹھے تھے، جب کوئی قوم اچھے عمل چھوڑ دیتی ہے تو اللہ اس سے ریاست و خلافت لے لیتا ہے، چونکہ مسلمانوں میں بھی کچھ کوتاہیاں تھی اسی لیے ان سے بھی خلافت چھین لی گئیں ،
اب یہودیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ سلیمان علیہ السّلام کے ذریعہ جو پوری دنیا میں خلافت قائم کی گئ تھی اسے بحال کیا جانا چاہیے اسی لئے وہ فلسطین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
