✒️صدف ناز
متعلمہ جامعہ ام الہدی پرسونی مدہوبنی بہار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک: ظاہری حسن، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان شکل و صورت کے لحاظ سے حسین و خوب صورت ہو۔ دوسرے: باطنی حسن، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان سیرت و کردار کے لحاظ سے حسین و خوبصورت ہو۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ظاہری حسن ناپائدارہوتا ہے،کیوں کہ انسان شکل وصورت کے لحاظ سے کتنا ہی حسین وخوبصورت کیوں نہ ہو عمر کے ساتھ ساتھ اس کے ظاہری حسن میں کمی آنے لگتی ہے۔ جب کہ باطنی حسن لازوال ہوتا ہے،کیوں کہ ایک سلیم الطبع انسان عمر کے ساتھ ساتھ اپنی سیرت و کردار کے لحاظ سے ترقی کی شاہراہ پر رواں دواں ہوتا ہے۔ چنانچہ شاعر نے کیاخوب کہاہے ؂

حسنِ صورت چند روزہ ،حسنِ سیرت مستقل
اس سے خوش ہوتی ہیں آنکھیں، اس سے خوش ہوتا ہے دل

آج کل عام طور سے رشتے کے انتخاب میں بچیوں میں ظاہری حسن و جمال کو معیار بنایا جاتا ہے،اگر بچی خوبصورت ہے تو ہرچند کہ وہ بے دین ہے، اسے فوقیت دی جاتی ہے ۔جس کا نتیجہ دو تکلیف دہ صورتوں میں سامنے آتا ہے۔(1)جو بچیاں لوگوں کے خود ساختہ معیارِ حسن پر نہیں اترتی ہیں ،ان کے رشتے میں بڑی دشواری ہوتی ہے ،بعض اوقات اس کی وجہ سے بچیاں ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتی ہیں اور والدین بھی مایوسی کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں،اورانہیں ایسا لگتا ہے کہ شایداب ان کی بچی کی شادی نہیں ہوسکے گی ۔(2) بعض مغربی تہذیب کی دلدادہ بچیاں ہر وقت ظاہر کو آراستہ کرنے میں لگی رہتی ہیں،بیوٹی پارلر جاتی ہیں،اور اپنے ظاہری حسن میں اضافے کے لیے غیر شرعی امور کا ارتکاب کرتی ہیں، مثلاًماڈرن خواتین کی طرح بالوں کی غیرشرعی تراش خراش کراتی ہیں، رخساروں کے روئیں اکھیڑواتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ایسی بچیاں اپنی سیرت و کردار کو بہتر بنانے کی طرف ذرا بھی متوجہ نہیں ہوتی ہیں اورنہ اپنے اخلاق و اعمال کی اصلاح کی طرف مائل ہوتی ہیں، کیوں کہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ہمیں زندگی کا ساتھی اسی معیارِ حسن کی وجہ سے بنایا جائے گا ،اور یوں وہ ناتربیت یافتہ رہ جاتی ہیں، پھر نہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرپاتی ہیں ،اور نہ ہی امورِ خانہ داری کو خوش اسلوبی سے انجام دے پاتی ہیں۔
کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے ؂

جس سے آنچل بھی نہیں سر کا سنبھالا جاتا
اس سے کیا خاک تیرے گھر کی حفاظت ہوگی

اس ليے ہمیں چاہیے کہ ہم رشتے کے انتخاب میں حسنِ صورت کے بجائے حسنِ سیرت کو ترجیح دیں ،اور حسنِ شکل کے بجائے حسنِ عمل کو فوقیت دیں ۔چناں چہ ایک حدیث میں آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ایک خاتون سے چار وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: (1)اس کی خاندانی شرافت کی وجہ سے (2) اس کے حسن و جمال کی وجہ سے (3)اس کی دولت و ثروت کی وجہ سے (4)اس کی نیکی اور دینداری کی وجہ سے ۔ اس کے بعد آپﷺ نے ارشاد فرمایا: « تو تم دیندار خاتون کے ساتھ نکاح کرکے کامیابی حاصل کرلو۔»[بخاری:4802]

اس حدیث میں آپﷺ نے اپنی امت کو جو حکم دیا ،وہ یہ ہےکہ شادی بیاہ میں حسن ،دولت ،اور خاندان کو معیار بنانے کے بجائے دینداری کو معیار بناؤاور ساتھ ہی اس بات کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ اگر ازدواجی زندگی میں کامیابی چاہتے ہو تو دینداری کو ترجیح دو۔اللہ جل شانہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے