(عصمت چغتائی)

مسرت جہاں

جامعہ نگر ،نئ دہلی110025

عصمت چغتائ ہندوستان کی ایک مشہور اردو مصنفہ جنھوں نے افسانہ نگاری ،خاکہ نگاری اور ناول نگاری میں نام پیدا کیا ۔عصمت اپنے معاصرین میں اپنے فکروفن کے اعتبار سے کافی اہم اور معتبر خاتون مانی جاتی تھیں۔عصمت نے اپنے افسانوں میں متوسط طبقے کی عورتوں کی جنسی گھٹن اور نفسیاتی پیچیدگیوں کی حقیقی پیشکش کی ہے۔ عصمت سے پہلے کسی خاتون فکشن نگار نے ان موضوعات پر خامہ فرسائ کی جرأت نہیں کی ۔اپنے دور میں ہزار مخالفت کے باوجود مسلم معاشرے میں پائ جانے والی برائیوں پر عصمت نے بے خوف و خطر اظہار خیال کیا اور اپنی کہانیوں کا تانا بانا اسی کے ارد گرد بنا۔تاکہ ان برائیوں سے معاشرے کو باخبر کر سکیں۔

عصمت کی پیدائش 21اگست 1915 بدایوں،اتر پردیش میں ہوئی تھی۔عصمت کو بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا ۔انھوں نے اعلی تعلیم کیلئے اپنے والدین کو قائل کر لیا تھا۔انھوں نے بی-اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معلمہ کی پڑھائ حاصل کی۔بی -اے کی ڈگری کے بعد بی -ایڈ کی ڈگری حاصل کی ۔اسطرح وہ پہلی ہندوستانی مسلم خاتون تھیں جنھوں نے یہ دونوں ڈگریاں حاصل کیں۔انکے پہلے استاد اور رہنما انکے بھائ عظیم بیگ چغتائ تھے۔

عصمت کی شادی اس وقت کے مشہور ڈائیرکٹراور قلم کار شاہد لطیف سے ہوئ تھی۔عصمت چغتائ نے فلمی قلمکاری میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

عصمت چغتائ سے پہلے کئ خواتین ادبی دنیا میں قدم رکھ چکی تھیں مگر عصمت کے بے باک قلم نے بہت جلد پوری ادبی دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ۔انھوں نے نثر کی ہر صنف میں اپنے نقوش ثبت کیے جن میں افسانہ ،ناول ،ڈرامہ ،خاکہ،

مضامین ،سفر نامہ ،آپ بیتی اور رپور تاژشامل ہیں۔

عصمت چغتائ کو خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی پہلی مصنفہ بھی کہا جاتا ہے۔

عصمت چغتائ اردو کی ترقی پسند ادبی تحریک کے ہر دستے میں شامل تھیں ۔وہ غالباً اردو کی پہلی ادیبہ تھیں جنکی کسی تحریر پر پابندی عائد ہوئ اور ان پر فحاشی کے الزام میں باقاعدہ مقدمہ چلا۔ یہ افسانہ”لحاف "تھا۔جو بقول عصمت چغتائ کے ایک سچے واقعے پر مشتمل تھا۔”لحاف” 1942میں اردو علمی میگزین آداب لطیف میں شائع ہوا تھا۔جسمیں انھوں نے دو خواتین کے درمیان جسمانی رشتے کوواضح طور پر بیان کیا ہے۔تاہم یہ تحریر انکے لئے عدالتی کاروائیوں اور وقتوں کا سبب بن گئ۔عصمت نے اس مقدمے کا سامنا کیااور عدالت نے انھیں با عزت بری کیا۔

عصمت چغتائ نے اپنے بڑے بھائ عظیم بیگ چغتائ کی وفات پر "دوزخی’کے عنوان سے ایک شاندار خاکہ تحریر کیا۔ادب کے ناقدین نے اس خاکے کابھرپور خیر مقدم کیااور یہ اردو ادب کا ایک شاہکار ادب پارہ قرار پایا۔

عصمت چغتائ نے اپنے افسانوں کے ذریعے ہر عمر کی پردہ نشین گھریلو خواتین اور گھر سے باہر کی عورتوں کی نفسیات اور انکی جنسی احساسات و جذبات کے بیان میں انتہائ دروں بینی،داخلیت اور بےباک حقیقت نگاری سے کام لیا ہے۔عصمت چغتائ کے وہ افسانے جن میں عورت کے تصور کو بہت ہی موءثر انداز میں پیش کیا گیا ہےان میں "چوتھی کا جواڑا”، "چھوٹی آپا”، "پنکچر”، "گیندا”، "گھر والی”، "بہو بیٹیاں”، "لحاف”، "دوہاتھ”، "سونے کا انڈا”، "ساس”، "ننھی کی نانی”، "ڈائن”،”پتھر دل کافر”، "پیشہ”، "جھوٹی تھالی” خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔عصمت کے ان افسانوں میں انکی غیر معمولی صلاحیت دیکھنے کو ملتی ہے۔اور ایک ایسی فنکار عورت کی شبیہ ابھرتی ہے جو بے خوف اور نڈر ہے۔یہ باغی عورت نتائج سے بے پرواہ ہو کر مختلف زاویوں سے لکھتی ہے۔

عصمت چغتائی نے تقریبأ سبھی اہم مسائل پر افسانے لکھے ہیں۔اولاد ہونے کی خواہش اور لڑکی کے پیدا ہونے پر ماتم ہمارے سماج کی تلخ ترین حقیقت ہے۔دور جہالت سے لیکر اج تک انسان اس سوچ سے پیچھا نہیں چھڑا سکا ۔یہ مسلہ اج تک جوں کا توں ہے۔

عصمت چغتائی کا قلم بےباک ہی نہیں بہت ذمہ دار بھی ہے۔عصمت کے افسانے دیدۂ عبرت نگاہ رکھنے والوں کیلئے اردو ادب کا ایک گراں قدر سرمایہ ہیں۔

انکی فنی خدمات کے اعتراف میں انھیں مختلف اعزازات سے نوازا گیا جن میں مخدوم ایوارڈ،ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ،اقبال سمان اور نہرو ایوارڈ اہم ہیں۔

عصمت چغتائی کا انتقال 24 اکتوبر 1991 کو ممبئ میں ہوا۔

عصمت اپنے صاف گو اور بے خوف لکھنے کے طریقے کی بدولت بہت سے بے آواز لوگوں کی پرجوش آواز بن گئیں۔انھوں نے اپنی تحریروں سے نوجوان مصنفین پڑھنے والی اور ذی فہم عوام کو بے حد متاثر کیا ہے۔عصمت چغتائ کے افسانوں کی ان ہی خوصیات کیوجہ سے اردو کے افسانہ نگاروں کی فہرست میں انکا مقام ہمیشہ رہیگا ۔سماج کے وہ مسائل جو عصمت کے زمانے میں تھے اور اج بھی کم و بیش باقی ہیں اور اگر نہ بھی رہیں تو بھی عصمت چغتائ کے افسانوں کی اہمیت کم نہ ہوگی کیونکہ اور کچھ بھی نہ ہو تو بھی زبان کا جادو اور اسلوب کی گرمی انھیں باقی رکھے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے