رفیع نعمانی پکڑی خرد مہراجگنج یوپی
دو نومبر 2032ء بروز جمعرات جب ظہر کی نماز سے فارغ ہوا تو مہراج گنج کے ایک واٹس ایپ گروپ "پاسبان علم و ادب” میں انتقال پر ملال کی ایک خبر پر نظر پڑی ۔اس خبر کو پڑھتے ہی سکتے میں پڑگیا پھر یہ آیت "کُلُّ مَن عَلَیھَا فَانً” کو نظر میں رکھ کر پڑھا کہ ضلع مہراجگنج کی ایک عظیم ترین ہستی یعنی پیکر علم وعمل ،شریعت کے علمبردار ،سنت نبوی سے سرشار، ہزاروں علماء کرام کے مشفق استاذ محترم، واسطہ بالواسطہ قابلِ اعتماد تلمیذِ رشید حضرت مولانا شبیر احمد فائز مفتاحی علیہ الرحمہ ساکن چیورہاں مہراجگنج ،کئی مشہور دينى اداروں کے سرپرست، متعدد مدارس میں علمی فیض رساں ،پانچ حفاظ کے والد محترم حضرت مولانا الحاج جلال الدین خان صاحب قاسمی بانی ومہتمم جامعہ رحمانیہ فیض العلوم کپتان گنج کشی نگر یوپی 2/نومبر 2023 کو اپنے مدرسے میں ہی تقریباً ساڑھے بارہ بجے دن میں اس دار فانی سے دار جاودانی کی جانب رحلت فرما گئے اِنّا للّہ وَاِنّا اِلَیہ راجعون ۔
مولانا مرحوم کا پشتینی مکان ضلع مہراجگنج کے مشہور علاقہ مسلم بیالیس گاواں کے لچھمی پور بھرگاواں میں ہے آپ کی ولاوت سن 1950 ہے آپ کے والد محترم کا نام الحاج محمد سید علی ابن کرم اللہ ہے ۔
حضرت مولانا کی ابتدائی تعلیم سرسیا ململیا میں ہوئی جب فائز العلماء حضرت مولانا شبیر احمد فائز مفتاحی ساکن چیورہاں مہراجگنج( المتوفى 2012 )موضع کمہریا خرد میں مدرس بن کر آئے تو مولانا قاسمی مرحوم کے والد صاحب نے سرسیا ململیا سے تعلیم منقطع کراکر حضرت فائز مفتاحی کی خدمت میں پیش کیا وہاں حافظ رفیع اللہ اصلاحی ساکن ببھنولی( المتوفی 24مئى 2009 ) سے بھی اکتساب علم کےچند سال بعد پروانچل کے مشہور قدیمی دینی درسگاہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ میں عربی سوم تک اس کے بعد مفتاح العلوم مئو میں عربی پنجم تک تعلیم مکمل کرکے 1966 میں ازہر ہند دار العلوم دیوبند کا رخ کیا آپ کے ساتھیوں میں حضرت مولانا مفتی محمد افضل حسین قاسمی بستوی (المتوفی 2003 ) مفتی دار العلوم الاسلامیہ بستی ۔ حضرت مولانا محمد افضل صاحب گھوسوی صدر المدرسین واستاذ حدیث وفقہ وعربی ادب مرکزی دارالعلوم محمدیہ گھوسی ضلع مئو . اور مولانا عبد الحنان صاحب ساکن بھلوان گورکھپور وغیرہ ایک ساتھ داخلہ لےکر دورۂ حدیث تک تعلیم کی تکمیل کی ۔
تعلیم کی تکمیل کے بعد اپنے ہی علاقہ کے مشہور قدیمی درسگاہ جامعہ عربیہ تاج العلوم لچھمی پور خاص میں سال بھر اس کے بعد مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم گنیش پور چند سال پھر اس کے بعد انجمن اسلامیہ انول بازار گورکھپور میں دو سال رہے۔ مدرسہ مصباح العلوم اسونجی بازار گورکھپور میں بھی کچھ دنوں رہے ۔جب 1985 میں مفتی محمد شوکت قاسمی ساکن بلوا مہراجگنج( المتوفی 28 مئى 2022) الجامعتہ الاسلامیہ دار العلوم حسینیہ دھنہا بیجولی مہراجگنج کی بنیاد ڈالی تو مولانا مرحوم کو تدریسی خدمات کے سلسلے میں مدعو کیا مولانا مرحوم وہاں بھی سال بھر تک رہے مذکورہ تمام مدارس میں تعلیم وتدریس سے وابستگی رہی اس کے بعد باضابطہ طور پر قصبہ کپتان گنج کشی نگر میں ایک مکتب کو ادارے کی شکل دے کر دینی وملی خدمات انجام دینے لگے پھر کچھ سالوں کے لیے دوبارہ مدینۃ العلوم گنیشپور میں تشریف لاکر تشنگان علوم نبویہ کے متوالوں کی تشنگی بجھائی بالآخر 1995 کے بعد اپنی قائم کردہ درسگاہ رحمانیہ فیض العلوم کپتان گنج کے مسند اہتمام کو تادم حیات نہایت امانت داری اور خداترسی سے زینت بخشی ۔
راقم الحروف وہاں کے اساتذہ کرام سے بارہا سنتا تھا کہ مولانا مرحوم اپنے مدرسہ کے اساتذہ سے بہت محبت سے پیش آتے تھے یہاں تک کہ لاکڈاؤن کے زمانے جب ضلع مہراجگنج گورکھپورکے دوچار نظماء کو چھوڑ کر نظماء مدارس عربیہ اپنے مدرسہ کےمدرسین سے کنارہ کش اور روپوش ہوگئے تھے اس نازک اور ناگفتہ بہ حالات میں بھی مولانا مرحوم اپنے مدرسہ کے تمام مدرسین کی مکمل تنخواہوں کو مزید ایک ہزار کے اضافہ کے ساتھ ادا کیا
2021کے رمضان المبارک کے مہینے میں خاکسار رفیع نعمانی مولانا حافظ محمد خالد صاحب قاسمی استاذ عربی جامعہ ابوبکر صدیق ترکلوا اسٹور مہراجگنج کے ہمراہ پرتاول مسجد میں نماز ظہر کے لیے پہنچے تو مولانا مرحوم سے ملاقات ہوئی دوران گفتگو مولانا خالد صاحب نے دریافت کیا کہ حضرت قرآن پاک کی تلاوت کا کیا معمول ہے تو مولانا نے فرمایا کہ جتنے روزے رمضان کے ۔اتنے ختم قرآن کے۔ اور فرمایا الحمد للہ یہ معمول سن 2000 ء سے اب تک ہے ۔حضرت مولانا زہد وتقویٰ سے مزیّن پاکیزہ کردار وافکار کے حامل تھے۔ ریا وسمعہ سے بیزار رہتے تھے ۔حرص وہوس سے دور دور تک کا واسطہ نہ تھا ۔سنت نبوی سے خاص تعلق استوار رہا
سادگی میں اپنى زندگی کے بیش بہا لمحات اسلاف کے طرز پر گزار دى
یہ حضرت کا قرآن پاک سے لگاؤ ہی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے پانچ صاحب زادے حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ دار العلوم دیوبند کے فاضل ہیں جن میں دو مفتی بھی ہیں اور سب ماشاء اللہ اپنے والد محترم کی طرح تقوی و طہارت خلوص وللّہیت اور عمدہ اخلاق وکردار کے مالک ہیں آج کے اس اخلاق سوز دور میں بھی آپ کے گھر میں پردے کا خاص اہتمام ہے سب کی شادیاں بھی سنت کے مطابق ہوئیں مولانا ایک کامیاب مدرس کے ساتھ ساتھ بہترین خطیب بھی تھے احقر کو ہرپور تیواری کی مسجد قاسم میں بارہا بیانات سنتے کا موقع بھی نصیب ہوا ہے اور علاقہ کے دینی جلسوں میں بھی مقبول مقرر ہوتے تھے ادھر کچھ عرصہ سے پرتاول کی مسجد میں درس قرآن بھی دیتے تھے
صد حیف ! آج ہمارے درمیان سے نصف صدی سے زائد عرصہ تک تعلیم وتعلم وملی خدمات کے فرائض کو انجام دیتے ہوئے اپنے متعلقین متوسلین کو روتا سسکتا چھوڑ کر راہئ ملک عدم ہوگئے آپ کی نماز جنازہ آپ کے صاحب زادے مولانا حافظ محمد ارشد قاسمی صاحب نے 3 نومبربروز جمعہ صبح ساڑھے نو بجے ادا کرائی اور ہزاروں سوگواروں نےپر نم آنکھوں کے سامنے مولانا کے جسد خاکی کو آپ کے آبائی گاؤں کے قبرستان میں سپرد خاک کیا اور دعائے مغفرت کرکے واپس ہوئے
اللہ تعالی آپ کا نعم البدل عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
دُنیا سے کوچ کرگیا اک مردِ حق "جلال”
فیض العلوم غم میں ہے سب کو ہوا ملال
یارب دعا ہے جنّتِ فردوس دے اسے
سایہ تو اس کی قبر پہ رحمت کا اپنی ڈال
