تقریب نکاح میں معاشرے کی برائیوں اور ان کے سد باب کے طریقوں کا ذکر کرتے ہوئے رسم و رواج اور فضول خرچی سے بچنے کی کی گئی تلقین
سمریاواں، سنت کبیر نگر (محمد رضوان ندوی):
نکاح انبیاء کی سنت ہے، شریعت میں ہر شخص کے حالات اور تقاضوں کے اعتبار سے نکاح کبھی سنت ہے، کبھی مستحب، کبھی واجب ہے کبھی حرام، معاشرے سے بہت سی گندگیاں نکاح کے ذریعے دور ہو سکتی ہیں، وقت اور ضرورت کے مطابق اس میں جلدی کرنی چاہئے، تاکہ معاشرہ برائیوں سے پاک صاف ہو سکے، انسان میں تقوی و طہارت کی صفت پیدا ہو اور نسل انسانی جائز طریقے پر پل بڑھ کر اپنے خالق و مالک کے سامنے سر تسلیم خم کرے، ان خیالات کا اظہار دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ فقہ و ادب مفتی رحمت اللہ ندوی نے جامع مسجد مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں میں منعقد ایک خصوصی تقریب نکاح میں حاضرین کی ایک بڑی تعداد کو خطاب کرتے ہوئے کیا.
انھوں نے کہا کہ معاشرتی برائیوں کی روک تھام میں نکاح کا بنیادی کردار ہے،
اگر وقت پر نکاح نہ کیا جائے تو آوارگی اور بے حیائی کی وجہ سے معاشرہ گندگی اور غلاظت سے پٹ جائے گا، گناہوں کی بدبو اور برائیوں کی سڑن سے انسانی زندگی کی سانس بوجھل ہو جائے گی، ایسے ایسے واقعات اور حادثات پیش آئیں گے جن کی سنگینی تک فکر کی رسائی مشکل ہوگی،
نکاح بہت بڑا ذریعہ ہے جس سے حیا، عفت اور آبرو کی حفاظت آسان ہو جاتی ہے، گناہوں سے دور اور نفرت کا نام ہی تقوی ہے، وقت پر نکاح سے حصول تقوی میں بڑی مدد
ملتی ہے، مولانا نے
رسم و رواج اور فضول خرچی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ شادی بیاہ میں خرافات، رسم و رواج اور بے جا اخراجات سے بچنے میں برکت کے دروازے اور دہانے کھل جاتے ہیں، اس کے برعکس جس قدر واہیات، لغویات اور خرافات میں آدمی اپنی محنت صرف کرتا ہے وہ مقاصد سے دور ہوتا چلا جاتا ہے، تین چیزوں میں کبھی تاخیر نہیں کرنی چاہئے، بچے جب بالغ ہو جائیں تو ان کی شادی تاخیر سے فتنوں کے دروازے کھلیں گے، جنازہ جب تیار ہو تو بلا وجہ کسی کے انتظار میں تاخیر سب کو اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے،اسی طرح نماز کا وقت ہو جائے تو اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے کیوں کہ غفلت اور سستی سے اکثر محرومی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا، مولانا نے کہا کہ سادگی اور اعتدال سے رشتوں میں مضبوطی آتی ہے، شریعت نے اسی لیے ہر چیز کی حد مقرر کردی ہے تاکہ انسانی زندگی حیوانیت اور بے ترتیبی سے پاک رہ کر دنیا کے سامنے نظم و نسق، سلیقہ مندی اور تہذیب و شائستگی کا بہترین نمونہ پیش کر سکے.اس خصوصی تقریب میں مدرسہ تعلیم القرآن کے مہتمم مولانا منیر احمد ندوی کی بیٹی کا نکاح استاد ادب انگریزی مولانا انیس الرحمن ندوی کے ساتھ سادگی کے ساتھ کیا گیا.
تقریب میں مدرسہ کے ممبران، اساتذہ، طلبہ سمیت علاقہ اور دور دراز کے متعدد علماء کرام، سماجی کارکنان اور علمی ہستیاں شریک ہوئیں.
