تحریر:- محمد مصطفیٰ کعبی ازہری

فاضل الازہر اسلامک یونیورسٹی مصر عربیہ

جامعہ الامام البخاری سپتری نیپال موجودہ شرق نیپال میں ایک یونیورسیٹی کی حیثیت میں ہے جس کی تعلیم اور تربیت بھی اس کے اعلی مقاصد کا آئینہ دار ہے ۔ وہ اپنے معاصر اداروں سے سبقت رکھتے ہیں اتنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ نیپال کے تمام مکاتب فکر میں یہ مثل تاروں میں چاند دکھائی دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کی دوسرے شعبوں میں بھی کارکردگی اپنے معیار اور حجم ہی کے مطابق ہے ۔ میں نے جب سے شعور کی آنکھیں کھولی ہیں اس جامعہ کا چرچا اسی متداول حیثیت کا غماز پایا ہے ۔ اللہ اس کے اقبال کو ہمیشہ اسی طرح بلند رکھے اور مزید شفافیت اس کی تعلیم اس کے نظام اور اس کی کارکردگی میں عطا کرے آمین ۔
اور جامعہ الامام البخاری بودے برسائین نگر پالیکا 2 رحمت نگر سپتری نیپال شرق نیپال اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں نیپال و ہند کے سنگم پر واقع ہے ، ہندوستان اور وطن عزیز نیپال میں رہنے والے حضرات سے یہ مخفی نہیں ہے کہ جامعہ الامام البخاری سپتری ایک دینی وعصری تعلیمی ، دعوتی اور رفاہی ادارہ ہے اور جو کسی سے تعارف کا محتاج نہیں ہے اور جس نے چند ہی سالوں میں ترقی کے وہ منازل طے کیئے ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں مثلاً : شعبہ دعوت و تبلیغ ، افتاء ، توزیع تصنیف و تالیف نشر و اشاعت اور رفاہی امور اور تعلیمی وترقی شعبے جات میں فعال و متحرک ہیں ۔
اور اس کی بنیاد آج سے 23 سال پہلے اسی بستی کے ہونہار سپوت ہر دلعزیز فضیلۃ الشیخ محمد رضاء اللہ بن رحمت اللہ مدنی حفظہ اللہ رئیس جامعہ الامام البخاری سپتری نیپال ومؤسس مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال حفظہ اللہ ورعاہ اور اس کے اخوان نے بتاریخ 2000 ء مطابق 1420ھ میں رکھی تھی۔
اس وقت سے جامعہ کو پوری جانفشانی وعرق ریزی کے ساتھ سینچتے ہوئے اس مقام تک پہونچایاگیا کہ ابتک یہاں سے ہندو نیپال کی بہت سارے طلباء اپنی علمی تشنگی بجھا کر شہادہ حفظ، ثانویہ اور عالمیت کی اسناد حاصل کرچکے ہیں۔
الحمد للہ جامعہ ہذا اپنے آب وتاب کے ساتھ رواں دواں نظر آرہا ہے اور ادارہ ہذا میں رعایتی فیس پر کام و خدمات انجام دیے جاتے ہیں وہیں 20 سے زائد یتیم اور نادار بچوں کی بھی پوری کفالت کی جارہی ہے۔ يہاں 140 سے زائد طلباء ہیں اور تمام طلباء فیضیاب ہو رہے ہیں، اور طلباء کے لئے خوشگوار کھلی فضاء سے پھیلی ہوئی کئ شاندار عمارت کا انتظام گیا ہے، جن کی اعلی اور معیاری تعلیم کے بارے میں مجھے علم ہے اور جامعہ شعبہ کے تحت تعلیمی مراحل ابتدائیہ تا عالمیت پر منحصر ہیں جو ماہرین وباصلاحیت معلمین اور ماسٹر کی زیر نگرانی رواں دواں ہیں اور ذمہ دار جامعہ ہذا، اساتذہ اور طلباء سے بھی آگاہی حاصل ہوتی رہتی ہے ۔
بفضل اللہ وتوفیقہ مؤرخہ 20 نومبر 2023 مطابق 4 منسیر 2080 بکرمی کو شیخ مجیب الرحمٰن سلفی حفظہ اللہ کے ہمراہ شیخ عبدالرحمن مفتاحی بن شیخ محمد خلیل الرحمن اصلاحی رحمہ اللہ اور شیخ محمد معاذ ایوب سلفی حفظہم اللہ وغیرہ جامعہ الامام البخاری سپتری نیپال زیارت کے غرض سے پہنچے اس کے بعد اراکین جامعہ نے پُرزور طریقوں سے استقبال کیا جن میں فضیلۃ الشیخ محمد رضاء اللہ بن رحمت اللہ مدنی حفظہ اللہ رئیس جامعہ الامام البخاری سپتری نیپال، شیخ حافظ ولی اللہ مدنی ناظم اعلیٰ جامعہ الامام البخاری سپتری نیپال، شیخ محمد سہیم سلفی استاذ جامعہ الامام البخاری سپتری ، شیخ جمیل اختر مدنی عمید الجامعہ جامعہ الامام البخاری سپتری نیپال اور دیگر اساتذہ جامعہ و اراکین اور طلباء موجود تھے اور شیخ مجیب حفظہ اللہ نے سامعین کے سامنے پُرزور انداز میں خطاب کیے ۔ اور راقم الحروف کے لئے بڑے فخر و انبساط اور شرف و اعزاز کی بات ہے کہ ہمارے مربی و استاذ ”فضیلۃ الشیخ محمد ایوب سلفی حفظہ اللہ“ (سابق امام و خطیب جامع مسجد بیلہا نیپال) کے لخت جگر شیخ مجیب الرحمان سلفی حفظہ اللہ ہیں ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرما۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے