بشکریہ: مولانا فرمان مظاہری
سعادت گنج،بارہ بنکی(یو۔پی)
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ امت کی رہنمائی کے لئے نبیٔ آخرالزماں ﷺ کے بعد اللہ تعالی نے وارثین انبیاء کا انتخاب فرمایا۔ تاکہ راہ راست سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو ہدایت کے راستے پر لانے کا کام کریں۔ انہیں برگزیدہ ہستیوں میں ضلع بارہ بنکی رسولی کے حضرت مولانا شاہ عبدالغنی تھے۔ تاریخی اعتبار سے آپ کی ولادت قصبہ رسولی بارہ بنکی میں 1305 ہجری ماہ ربیع الثانی میں ہوئی۔ حضرت مولانا کے آبا و اجداد کا آبائی وطن ضلع بارہ بنکی کے احمدپور دیوکلی و سہری تھا۔
جد امجد کی شہادت کے بعد ان کے والدمحترم کا مستقل قیام رسولی ہوگیا۔ پھر یہ خاندان یہیں سکونت پذیر ہوگیا۔
حضرت مولانا نے اپنی ابتدائی تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے اپنے والدمحترم سے اور پھر مدرسہ کریمیہ رسولی میں مولانا رجب علی سے ابتدائی فارسی کی کتابیں پڑھیں۔ رفتہ رفتہ اپنی علمی لیاقت میں اضافے کے لئے عرب کے ایک مایۂ ناز عالم دین سے صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔ مزید حصول علم کے لئے مولانا رجب علی کی وساطت سے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا صدیق انبیٹہوی کے پاس بھیج دیا۔ وہاں آپ نے شرح جامی تک تعلیم حاصل کی۔ پھر مولانا صدیق صاحب نے آپ کو مولانا خلیل احمد مہاجر مدنی رحمۃ اللہ کے پاس عالمی شہرت یافتہ دینی درسگاہ مظاہر علوم سہارنپور میں عالمیت کی تکمیل کے لئے داخل کروا دیا۔ جہاں آپ نے 25 شعبان المعظم 1335ھ کو سند فراغت حاصل کی۔
آپ ایک باصلاحیت اور باکمال عالم دین ہونے کی وجہ سے مادر علمی کے مشفق و مربی اساتذۂ کرام نے مظاہرعلوم میں ہی درس و تدریس کے خدمات انجام دینے کا مشورہ دیا۔ لیکن مولانا نے اپنے علاقے کی غیراسلامی رسومات و خرافات کے سدباب کی خاطر ارباب مظاہرعلوم سے معذرت کردی۔
جس پر اساتذہ کرام نے آپ کو دعاؤں سے نوازا۔ آپ نے فراغت کے بعد دیگر عالمی شہرت یافتہ مدارس میں بہترین تدریسی خدمات انجام دیں۔ جن میں سب سے پہلے آپ نے مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور کانپور پھر اس کے بعد جامعہ عربیہ احیاءالعلوم مبارک پور اعظم گڑھ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اعظم گڑھ جامعہ کو خیرباد کہہ کر اپنے وطن عزیز ضلع بارہ بنکی کے قصبہ زید پور کی دینی درسگاہ جامعہ امدادالعلوم میں درس دینے لگے وہاں علم و عرفان کا ایسا دریا بہایا کہ کچھ ہی عرصوں میں دینی تعلیم سے مزین ایک بڑی جماعت تیار ہوگئی۔ جس سے آپ کی شہرت پورے ضلع میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ لیکن اس وقت آپ کے آبائی وطن رسولی میں غیراسلامی رسومات اورخرافات و بدعات اپنے پورے شباب پرتھی۔ جن کے سدباب کے لئے آپ نے زیدپور مدرسے کو الوداع کہتے ہوئے رسولی میں لوگوں کے لئے علم و عرفان اور رشد و ہدایت کی نیت سے ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ جس کا نام مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم ہے۔ آپ نے اس ادارے کے ذریعے ملت میں دینی بیداری ، لوگوں کو غیر اسلامی رسومات سے متنفر کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ حتی الامکان لوگوں کو غلط راستے پر چلنے کا احساس ہونے لگا۔ لیکن جیسا کہ ہر دور میں ہوتا آیا ہے کہ جب جب حق نے اپنی آواز بلند کی تو باطل نے اس آواز کو دبانے کے لئے ظلم و بربر یت پر کمر بستہ ہونے لگا ہے۔ مولانا کیساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔ آپ کو بھی علاقے کے لوگوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اتنی شدید مخالفت کہ جس کی پاداش میں آپ کا اور آپ کے اہل خانہ کا تقریبا ڈیڑھ سال تک شوشل بائیکاٹ (حقہ پانی بند) کردیا گیا۔ لیکن دین کے راستے میں آنے والی تکلیف و اذیت پر صبرکیا اور ثابت قدمی کے ساتھ جمے رہے۔ ایسے برے حالات میں علاقے کی ایک مخلص و ہمدرد جماعت نے مولانا کا بھرپور ساتھ دیا اور شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ ان تمام حالات کے باوجود مولانا نے ادارے کو مسلسل جد و جہد ، اخلاص و للہیت کے ساتھ آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے کی حتیٰ الامکان کوششیں جاری رکھیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج یہ ادارہ ضلع بارہ بنکی کے دیگر مدارس میں سب سے زیادہ نمایاں اور ممتاز ہے۔ اب تک یہاں سے سیکڑوں علماء ، ہزاروں حفاظ اور دیگر قراء حضرات فیضیاب ہوکر ملک کے مختلف حصوں میں علم و عرفان کے سر چشمہ بنے ہوئے ہیں۔
حضرت مولانا کے اساتذہ کرام جن سے آپ نے تعلیم حاصل کی ان میں مولانا رجب علی رسولوی ، حضرت مولانا محمد صدیق صاحب انبیٹوی ، حضرت مولانا خلیل احمد مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا محمدیحییٰ رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا عبداللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا عبد الوحید صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا محمد ظفر صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا محمد عنایت صاحب مظاہرعلوم ، حضرت مولانا محمد الیاس صاحب مظاہرعلوم ، حضرت مولانا عبدالرحمٰن صاحب مظاہرعلوم ، مولانا محمدتجمل صاحب مظاہرعلوم ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہونے کے ساتھ ساتھ خلیفہ مجاز بالصحبت بھی تھے۔
آپ کی تصانیف:
1۔اشرف القوائد 2۔ فارسی گرامر 3۔ حج کا آسان طریقہ 4۔ حج کے مقدس مقامات 5۔ شجرۃ طیبۃ 6۔ تنویر الشعور
آپ کی وفات 9 دسمبر 1983 بروز جمعرات بعد نماز عصر کے بعد ہوئی۔ ہزاروں سوگواروں کے ایک جم غفیر کی موجودگی میں رسولی کے جامعہ مدینۃ العلوم کےسامنے ان کی وصیت کے مطابق 10 دسمبر بعدنماز جمعہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ متعینہ جگہ پر آپ کو سپرد خاک کردیا گیا۔ مولانا نے ایک طویل عمر پائی اللہ تعالیٰ مولاناکے درجات بلند فرمائے۔
