محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک۔
۱۔ بھداموسیقار
وہ ایک بھداموسیقار تھا۔ بھدبھد ، کھرکھر ، پوں پوں ، ٹڑنگ ٹنگ ۔۔۔۔جیسی صدائیں موسیقی کے انسٹرومنٹس سے نکالاکرتاتھا۔ ان آوازوں سے اسے عشق کی حدتک لگاؤ تھا۔ دوست اور رشتہ دار اس کی اس مشق سے تنگ آچکے تھے۔ کئی دفعہ کہابھی کہ کچھ اچھا سیکھ لے۔ موسیقی کاسینس خود میں پیداکر، ورنہ بھوکوںمرے گا۔
اس نے کسی کی نہیں مانی ۔ اپنے جنون میں مست رہا۔ جس وقت فاقوں کی نوبت آگئی، اس وقت بھی بھدبھد، کھرکھرکھراکھرون، پوں پوں پام پوم، ڑنگ ڑانگ ، اومان ۔۔۔۔۔۔قسم کی مشقیں جاری رہیں۔ پھر ایک دن وہ بھی آیاجب اسے ایک فلم کے لئے سائن کرلیاگیا۔
فلم قتل وغارت گری پر مبنی تھی۔ فلم ڈائرکٹر کو نئے اورپیچیدہ Creative سینس والے موسیقار کی ضرور ت تھی۔ دونوں کی خوب جمی بلکہ وہ فلم ہی بھدے موسیقار کی بھدی اور وحشت ناک موسیقی کی بدولت ہٹ ہوگئی۔ اب اس کے پاس مزید 8فلمیں ہیں اور اس کی موسیقی آج ایک بے لگام تشدد پسند معاشرے کی پہلی پسند بن چکی ہے۔
۲۔ وحشتیں
وحشتیں بڑھ رہی تھیں اسلئے کہ جیب اور پیٹ دونوں خالی تھے۔
۳۔ رکا ہواسفر
تیسری بار اس نے کہاکہ ’’تھوڑا انتظار کرلو ، پھرسفر پر چلیں گے ‘‘ کچھ ہی دیر بعد دوگھنٹے لیٹ وہ اپنے کام پرپہنچا۔ کام کے دوران یاد بھی نہیں رہاکہ آج وہ شہر سے 200کیلومیٹر دورسفر پر جانے والاتھا۔ شام تک بھی کوئی فون نہیں آیا۔موڈ آف تھالیکن گھر میں بیوی کے سامنے اچھے موڈ میں نظر آنے کی وہ کوشش کرتارہا۔
۴۔ ضعیف دادا
مسلسل کوشش کی بدولت پورے شہر میں 100سے زائد لڑکیاں؍لڑکے آج ہاتھ میں قلم تھامے ، ظلم کے خلاف لکھے جارہے تھے۔ وہ بہت مشکل سے اپنے تہنیتی پروگرام میں پہنچا۔ ضعیفی کی وجہ سے قویٰ جواب دے چکے تھے۔تہنیت قبول کرنے کے بعد اس نے مائیک پر صرف اتناہی کہا’’میں نے اپناکام جیسے تیسے پور اکیاہے۔ قلم کو تھامنے والے لڑکے لڑکیاں بھی اپناکام پوراکریں ، اس کو ادھورا نہ چھوڑیں،سماج اورملک کی ترقی کے لئے یہ ضروری ہے ‘‘
سناہے کہ 100سے زائد لڑکے ؍لڑکیوں نے اس ضعیف دادا کی بات کو اپنے قلم سے باندھ لیاہے۔
۵۔زندگی کارشتہ
’’کوئی فون نہیں اٹھاتاہے تو اس میں برائی کیاہے ؟‘‘ چاچا نے پوچھا ۔ مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ میں خاموش رہا۔ وہ پھربولے ’’ ہوسکتاہے ، وہ کسی کام میں مشغول ہوگایاایسی پوزیشن ہوگی کہ اس وقت فون ریسیونہیں کرسکتا‘‘ میں نے پھر بھی کچھ نہیں کہالیکن جب چاچاجان نے کچھ زیادہ ہی کہہ دیاتو مجھے بولنا پڑاکہ ’’چچاجان ! بات صرف فون اٹھانے تک محدود نہیں ہے، جو لوگ فون کاجواب دیناضروری نہیں سمجھتے ، جنہیںمسلسل کال کرنے کے باوجود بھی کئی دن تک یہ احساس نہیں ہوتاکہ کوئی انہیں مسلسل یاد کررہاہے ،ان سے بات کرنا چاہتا ہے تو ایسے لوگوں کے نمبر بلاک کردیناہی چاہیے ‘‘
چاچا جان نے میری باتوں پرتوقف کیااور پھر کہا ’’غصہ بہت کرتے ہو، زندگی اور رشتہ غصہ سے ہزارہاگنا زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔ اور جو بڑے ہوتے ہیں، ان کااحترام بہر حال واجب ہے ‘‘ منہ لٹکائے چلا آنا پڑااور کیا
