ابو احمد مہراج گنج

مرحوم راحت اندوری صاحب کا ایک شعر ہے

ایسی سردی ہے کہ سورج بھی دہائی مانگے
جو ہو پردیش میں وہ کس سے رضائی مانگے

گذشتہ دو تین دنوں سے سردی کچھ ایسی ہے کہ انسان تو انسان سورج کو بھی رضائی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔خیر سورج کو رضائی کی ضرورت ہے کہ نہیں اس کا صحیح اندازہ تو سائنس دانوں کو ہی ہوگا۔لیکن سورج کی گرمی سے زندگی کی گاڑی کھینچنے والے انسانوں کو ابھی رضائی کی سخت ضرورت ہے ۔
رضائی سے یاد آیا کہ آج سے بیس سال قبل ہر گھر میں رضائی ہوتی تھی اور اس رضائی پر سفید سوتی چادر ہوتی تھی جو میلے ہونے کے ڈر سے ہلکے نیل میں نہلائی جاتی تھی آج بھی جب سخت سردی محسوس ہوتی ہے تو اس نیل میں نہائی ہوئی چادر میں ملبوس رضائی کی یاد آہی جاتی ہے ۔
لیکن جدیدیت نے جس تیزی سے پیر پسارے ہیں اور ہم سے ہماری بہت سی یادیں چھین لی ہیں ان میں سے ایک رضائی بھی ہے ۔
اب تو گھر کے گھر رضائی کے بوجھ سے آزاد ہو چکے ہیں ۔اب رضائی کی جگہ نرم ،ملائم ،نفیس کاریگری سے مزین کمبل ہمارے بیڈ روم ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں ۔
کمبل میں کیا ہے کہ رضائی والی فیلنگ نہیں آتی ہے ۔اور نہ ہی وہ حدت اور شدت آتی ہے جو رضائی میں ملتی تھی ۔ہاں سیم تن نرم ونازک بازوؤں اور سردی کی شدت سے گلابی مائل گالوں پہ یہ کمبل بوجھ نہیں بن رہے ہیں ۔کیوں کہ ان میں کھردراپن اور وزن دونوں سیم تنوں کے موافق ہوتا ہے ۔لیکن محبوب سے ملنی والی محبت کا اصل مزہ تو رضائی میں ہی ہے۔
دیکھیے رضائی کی جدائی سے ہونے والی باتوں میں کیسے الجھ کر رہ گیا کہ اصل بات تک نہیں پہنچ سکا۔بات دراصل یہ بتانا چاہتا تھاکہ سردی میں جیسے جیسے سردی اپنے شباب کو پہنچتی ہے ویسے ہی ہمارے اردو زبان کے شاعروں کے شعر میں رومانیت بڑھتی جاتی ہے ۔ایک مشہور شاعر نے وصال محبوب کی کیفیت کو کچھ اس طرح سے ذکر کیا کہ۔

تیرے سانسوں کی گرمی کو میں سانسوں میں بسا لوں گا
تجھے تجھ سے چرالوں گا تجھے تجھ سے چرالوں گا

میرا خیال ہے کہ اگر شاعر محترم کو دلی اور اس کے آس پاس کی سردی کا ذرا بھی خیال ہوا ہوتا تو یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ تجھے سردی کے موسم میں رضائی میں چھپا لوں گا
خیر سردی چیز ہی ایسی ہے کہ بہنے والی چیزوں کو تو جما ہی دیتی ہے ۔فکرو نظر پہ بھی پہرے ڈال دیتی ہے ۔نہ حسن کی دیویاں پریوں کے جیسے اتراتے پھرتی ہیں اور نہ ہی حسینوں کے رنگ برنگی اترنگی ملبوسات کی جھلک نظر آتی ہے ۔
خیر سردی میں جب اس بات کا احساس ہوجاے کہ مجھے سردی لگ رہی ہے تو پردیسی کو گھر کی یاد بہت آتی ہے بقول امید فیضی۔

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نید کا بوجھ
ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر چلے جاتے

لیکن گھر جاکر بھی کیا کریں اگر گھر کی وحشتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں تو پھر آپ کو یہی کہنا پڑے گا۔

لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو
نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آۓ

اور جب دسمبر اور جنوری کی برسات میں آپ پھنس گئے ہیں تو پھر آپ کو ایک ہی امید نظر آتی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ

سخت سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت روح میری
جسم یار آ کہ پجاری کو سہارا مل جائے (فرحت احساس)

اب آپ بھی جائیے اور اپنےذوق کے مطابق اپنی سردی کا علاج ڈھونڈھیے کہں ایسا نہ ہو کہ میری باتوں میں آکر آپ بھی پڑوسی سے رضائی مانگنے چلے جائیں آپ کے در ودیوار پر برف جمی ہوئی ہو اور آپ کے کمرے میں آگ لگ جائے ۔

اک برف سی جمی رہے دیوار و بام پر
اک آگ میرے کمرے کے اندر لگی رہے (سالم سلیم)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے