سیف الاسلام مدنی کانپور
جمہوریت کا جشن حقیقی طور پر اس وقت منایا جائے گا جب ہندوستان کے اندر عدل و انصاف کی ہوا قائم ہوگی۔ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو تحفظ فراہم ہوگا دستوری ضمانتیں عمل میں لائی جائیں گی، مساجد اور عبادت گاہوں کو تحفظ حاصل ہوگا اور ان پر ناجائز قبضوں کو روا نہیں سمجھا جائے گا ۔
____
26/جنوری یوم جمہوریہ کی عظیم الشان تاریخ ہے جو عنقریب آنے والی ہے اور اس دن پورے ملک کے اندر جشن جمہوریہ منایا جائے گا، ترنگے لگائے جائیں گے، پروگرام منعقد کئے جائیں گے اور بڑے پیمانے پر ملک سے محبت کا اظہار کیا جائے گا۔ ملک کے وزیر اعظم بھی لال قلعہ کی فصیلوں سے باشندگان وطن کو خطاب کرتے نظر آئیں گے، یوم جمہوریہ باشندگان وطن کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ آج سے 7/ڈی کیڈ قبل اسی تاریخ میں ہندوستان کے باشندوں کو اپنا قانون دیا گیا تھا کہ آج سے اس ملک کے لوگ خواہ کسی برادری، کسی کاسٹ اور کسی کیڈر کے ہوں، اس قانون کے پابند ہوں گے۔ مبصرین اور پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں کہ جمہوریت ہمیں آزادی کی ضمن میں ملی ہے، اس ملک کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے صدیوں پر محیط پلاننگ اور جنگیں ہوئی، بالٰاخر 15/اگست 1947 میں ہمارا ملک فرنگیوں سے آزاد کرالیا گیا۔ لال قلعہ پر ہندی پرچم لہرایا گیا، آزادی کے نغمے گائے گئے اور گوروں کو دیس نکالا دے دیا گیا،
اور تقریباً تین سال کے بعد ہندوستانی دستور کو مکمل کرلیا گیا اور ملک جمہوری قرار پایا یعنی اس ملک کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا، یہاں ہر مذہب کے لوگ آزادی کے ساتھ اپنے مذہب اور اپنی روایتوں پر عمل کرسکیں گے، بظاہر یہ بہت بڑی بات اور بہت اچھا دستور تھا جس کو ملکی اور عالمی پیمانے پر داد و تحسین ملی۔ وقت گزرتا رہا اور ہم ہر سال جشن آزادی کے ساتھ جشن جمہوریہ مناتے رہے، مگر اب نظر ڈالتے ہیں کہ جمہوریت کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ ہے، کتنا خواب اور کتنا تعبیر ہے، کتنا خیال اور کتنا یقین ہے، آج ہمیں تقریباً جمہوریت کا علمبردار بنے ہوئے 75/سال سے زیادہ ہوگئے لیکن ہمیں حقیقت پسندانہ تناظر میں اس کا تجزیہ بہت بے چین کرتا ہے۔
دنیا بھر میں کئی طرح کے نظام حکومت قائم ہیں مگر ہندوستان جمہوری اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں کہ باشندے اپنی مرضی اور پسند سے اپنے حاکم کا انتخاب کرتے ہیں نیز کوئی بھی رولنگ پارٹی دستور سے اوپر نہیں ہوتی۔ قانون کی بالادستی اپنی جگہ مسلم ہے، یہ ایک پن پوائنٹ ہے جس پر عمل کرنا حکومتوں کے لئے ضروری ہے، لیکن ہمارے ملک عزیز میں اب حالات دیگر ہوچکے ہیں۔ یہاں سر عام دستور کا قتل کیا جاتا ہے، ظالموں کو آزادی دی جاتی ہے، مظلوموں کے مکانات کو غیر دستوری طریقے پر زمین دوز کردیا جاتا ہے عصمت دری کے ملزموں کو ریاست اپنے طور پر جیلوں سے آزاد کردیتی ہیں خواص کمیونٹی اور مسلمانوں کو پریشان کیا جاتا ہے انکو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ تم اکثریت اور حکومت کے رحم و کرم پر ہو،ابھی حال ہی 22/جنوری کو وزیر اعظم کے ذریعہ ایودھیا کی اس جگہ پر جہاں صدیوں تک بابری مسجد رہی اور نمازیں ہوتی رہیں اسکو مندر میں تبدیل کردیا گیا جبکہ سپریم کورٹ صاف کرچکا کہ بابری مسجد کے مقام دعویٰ پر رام جی کی جائے پیدائش ثابت نہ ہوسکی اور نہ ہی یہ ثابت ہوسکا کہ مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی پھر کس طریقہ سے ایک طبقہ کو خوش کرنے اور لمبے دوارانیہ تک حکومت کرنے کے خواب نے یہ فیصلہ کرایا ،یہ پورا فیصلہ انٹر نیٹ پر موجود ہے دیکھا جاسکتا ہے ۔
پورے ملک کے لوگ جو اپنے آپ کو سیکولر کہتے ہیں انہوں نے ساتھ مل کر جشن منایا گو لوگ کہنے کو سیکولر ہوں لیکن یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ برادران وطن اب مسلمانوں کے تئیں بہتر رویہ نہیں رکھتے آج مسلمانوں کے ساتھ ناقابل برداشت رویہ اختیار کیا جارہا ہے مسلمانوں سے نفرت کی انتہاء ہوچکی ہے انکو بے دردی سے کہیں بھی قتل کردیا جارہا ہے اسکول اور کالجوں میں حجاب پر پابندی عائد کی جارہی ہے،ٹرینوں کا سفر تک مشکل نظر آنے لگا ہے کہ کب کون سا حادثہ ہو جائے، کیا یہی اس دیرینہ خواب کی تعبیر ہے۔
جس جمہوریت اور آزادی کا خواب ہمارے بزرگوں اور رہنماؤں نے دیکھا تھا کیا انہی حالات کے لئے مسلمانوں نے علماء نے اور دیگر برادران وطن نے تختہ دار کو چوما تھا کیا اسی دن کے لئے دستور ساز اسمبلی نے دنیا میں سب سے بہتر سمجھاجانے والا ڈرافٹ تیار کیا تھا ہرگز نہیں آج مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ملک کو آزاد ہوئے ایک لمبا عرصہ گذر گیا اس دورانیہ میں قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کی تاریخ رقم ہوتی ہے،بچے بوڑھے اور بوڑھے جہان دگر میں پہونچ جاتے ایک طرف اس ملک نے اس دوارنیہ میں خواطر خواہ کامیابی اور ترقی بھی حاصل کی ہے وہیں دوسری جانب جمہوریت کا جنازہ بھی شان سے نکالا گیا،مسلمانوں کی جان و مال عزت وآبرو پر حملے کئے گئے مسلم کش فسادات کے ذریعہ نسلوں کو برباد کردیا گیا جیتی جاگتی اور چمکتی بستیوں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا کیا ان حالات کے پیش نظر جمہوریت کا جشن حقیقی ہوسکتا ہے کیا ایک خواص قوم اپنے آپکو محفوظ خیال کرسکتی ہے جمہوریت کا جشن حقیقی طور پر اس وقت منایا جائے گا جب ہندوستان کے اندر عدل و انصاف کی ہوا قائم ہوگی، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو تحفظ فراہم ہوگا، دستوری ضمانتیں عمل میں لائی جائیں گی، مساجد اور عبادت گاہوں کو تحفظ حاصل ہوگا ورنہ تو نہ صحیح معنوں میں جمہوریت کی خوشی ہوگی اور نہ اس کے لوازمات کی ۔
میری رات منتظر ہے کسی اور صبح نو کی
یہ سحر تجھے مبارک جو ہے ظلمتوں کی ماری
