دوپھڑیا، اٹوا (سدھارتھ نگر): ہرجی کو موت چکھنی ہے، ہر جاندار کو موت کے مرحلہ سے گزرنا ہے، موت لقا ٕ باری تعالی کا ذریعہ ہے، موت وحیات کو اللہ نے اس لیے بنایا ہے کہ حسن ِعمل کے اعتبار سے انسان کی آزماٸش کرے، مٶمنین کو مصیبتوں پر صبرکرتے رہنا چاہیے اور صبربہت اعلیٰ وصف ہے، صبر خسران و زیاں سے حفاظت کرنے والے امور میں سے ہے۔ ان خیالات کا اظہار ”کلیة الکوثر“ دوپھڑیا کے صدر المدرسین استاذ حدیث سید عزیز الرحمٰن نے”مسجد ابراہیم محمد سلطان“ میں منعقد تعزیتی نشست میں اظہار رنج وغم کرتے ہوۓ کیا۔
انہوں نے کہا کہ شیخ سالک بستوی ایک اچھے عالم، خلیق انسان، اچھے شاعر و ادیب اور بہترین منتظِم تھے، انہوں نے کہا کہ میری شیخ سے چار پانچ ملاقاتیں تھیں شیخ کو اصاغر نواز پایا، یقینا ان کی حادثاتی دردناک وفات سے بہت سے لوگ غم و اندوہ میں مبتلا ہوگیے۔
ان کی وفات علمی و ادبی خسارہ ہے، آپ کثرت سے حمد و نعت منقبت اور مراثی لکھا کرتے تھے۔ اب وہ رواں قلم رک گیا ہے مگر انہوں نے بہت کچھ اپنی یادیں چھوڑی ہیں جن سے وہ ان شاءاللہ اللہ یاد کیے جاتے رہیں گے۔ اللہ ان کی مغفرت فرماۓ، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ، پس ماندگان اور ان کے تلامذہ کو صبر جمیل عطا فرماۓ۔
اس موقع پر ضیاء الرحمٰن، حاجی عبدالقیوم، محمد ایوب کے علاوہ بہت سے لوگ موجود رہے۔
