محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
قرآن کریم کی تلاوت کرنا باعث اجر وثواب ہے، احادیث میں اس کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے، چنانچہ حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا” جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا، اس کے لئے اس کے بدلہ میں ایک نیکی ہے اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (گویا صرف الم پڑھنے سے تیس نیکیاں مل جاتی ہیں) "
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا” قرآن مجید پڑھا کرو، یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا۔(بخاری شریف) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” حسد (رشک) تو بس دو آدمیوں سے ہی کرنا جائز ہے، پہلا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن (پڑھنا و سمجھنا) سکھایا تو وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کا پڑوسی اسے قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے، تو کہہ اٹھتا ہے کہ کاش ! مجھے بھی اس کی مثل قرآن عطا کیا جاتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال بخشا ہے اور وہ اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرتا ہے۔ دوسرا شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے کاش ! مجھے بھی اتنا مال ملتا جتنا اسے ملا ہے، تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔“(متفق علیہ)
ہجرت سے پہلے مکی دور میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک نہایت ہی بے مثال واقعہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے نقل فرمایا ہے، جس میں تلاوت قرآن سے متعلق ان کے یہ الفاظ محو حیرت واستعجاب میں ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔ فرماتے ہیں“ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے مکان کا ایک حصہ نماز کے لیے خاص کردیا تھا۔ جس میں نماز ادا کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے۔ تو مشرکین مکہ کی عورتیں اور بچے ان پر ٹوٹ پڑتے۔ ان کی رقت آمیز تلاوت سے محظوظ ہوتے اور اسے غایت درجہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے۔ بات دراصل یہ تھی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نہایت ہی نرم دل انسان تھے۔ تلاوت قرآن کے وقت اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ پاتے اور وہ بے اختیار بہہ پڑتیں۔(صحیح بخاری) چنانچہ جس طرح قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا لازم ہے ایسا ہی قرآن کریم کا ایک حق یہ بھی ہے کہ روزانہ پابندی سے اس کی تلاوت کی جائے، اور اپنی اولاد کو قرآن سكھایا جائے، اور تلاوت قرآن پاک کی تلاوت کا عادی بنایا جائے. تاکہ ہماری اولاد اس پاکیزہ صفت لوگوں کی صف میں شامل رہیں جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے” اولاد صالح” فرمایا ہے، جس کے ذریعے انسان مرنے کے بعد بھی نیکیاں حاصل کرتا رہتا ہے، انسان دنیوی زندگی میں اپنی موت سے پہلے پہلے جو بھی نیک کام کرتا ہے چاہے اپنی زبان سے ہو کہ ہاتھ سے یا اپنے مال کے ذریعہ اس کا ثواب ضرور پائے گا، لیکن مرنے کے بعد انسان کے عمل کا دفتر بند ہوجاتا ہے، اور ایک لمحہ کے لیے بھی کوئی عمل کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے، اس لیے نیکیوں پر اجر و ثواب کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے، البتہ چند اعمال واسباب ایسے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی اس کا اجر میت کو پہنچتا رہتا ہے، اور یہی حال اس کے برے عمل اور گناہ کا بھی ہے. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ”جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل بند ہوجاتا ہے، مگر تین چیزیں (۱) ایک صدقہٴجاریہ یعنی ایسا صدقہ جس سے زندہ لوگ نفع حاصل کرتے رہیں (۲) دوسری ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں (۳) تیسری ایسی نیک اولاد جو اپنے والدین کے لیے دعا کرتی رہے، ان تین قسم کے اعمال کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، یعنی اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہے گا۔(مسلم شریف) جس طرح میت کو اپنے بعض اعمال کا اجر وثواب پہنچتے رہنا متعدد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، اور اہل ایمان کا ان احادیث پر عمل بھی پایا جاتا ہے، اسی طرح میت کو کسی نیک عمل کے ذریعہ نفع پہنچانا اور میت کا اس سے نفع اٹھانا احادیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ مثلاً حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ "میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! ہم اپنے مُردوں کے لیے دعا کرتے ہیں، ان کے لیے صدقہ کرتے ہیں اور ان کی طرف سے حج کرتے ہیں، کیا ان اعمال کا ثواب ان مُردوں تک پہنچتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” ان کو ثواب پہنچتا ہے، اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں، جیسے تم میں سے کوئی خوش ہوتا ہے، جب اسے کھجور کا طبق ہدیہ کیا جائے۔” ایک اور حدیث میں ہے، جس شخص نے اپنے والدین یا دونوں میں سے ایک کی قبر کی زیارت کی اور قبر کے پاس یٰسین شریف پڑھی تو اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔”(ترمذی شریف) حدیث و فقہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے، کہ ایصال ثواب کے لیے مالی عبادتوں کا طریقہ زیادہ نفع بخش ہے، کہ اس سے عام انسان کو بھی نفع ہوتا ہے، اور میت کو بھی اجر وثواب پہنچتا رہتا ہے، البتہ قرأت قرآن (قرآن خوانی) کے ذریعہ ایصال ثواب کیا جائے، تو پھر فقہ وفتاویٰ کی روشنی میں چند امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی قرآن خوانی کئی پابندیوں اور لازم کیے ہوئے امور کے ساتھ ہوا کرتی ہے، جن کی شریعت میں کوئی اصل خیرالقرون میں نہیں ملتی، ایسی خلاف شرع پابندی اور التزام والی "قرآن خوانی” قابل ترک ہے، اس میں شرکت بھی ممنوع ہے ایصال ثواب کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ نوافل ،تلاوت قرآن اور نقد صدقات، خیرات کرکے مرحومین کے لئے ایصال ثواب اور بخشش کی دعاء کی جائے ۔
مروّجہ قرآن خوانی کا حکم فتاویٰ کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں (۱) امام ربّانی فقیہ عصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں”ثواب میت کو پہنچانا بلا قید وتاریخ وغیرہ اگر ہو تو عین ثواب ہے، اور جب تخصیصات اور التزامات مروّجہ ہوں تو نادرست اور باعث مواخذہ ہوجاتا ہے” (فتاویٰ رشیدیہ)(۲) حضرت مفتی سید عبدالرحیم صاحب لاجپوری رحمۃاللہ علیہ مفتی اعظم گجرات تحریر فرماتے ہیں” رسم و رواج کی پابندی اور برادری کی مروت اور دباؤ کے بغیر اور کوئی مخصوص تاریخ اور دن معین کیے بغیر اور دعوت کا اہتمام اور اجتماعی التزام کے بغیر میت کے متعلقین، خیرخواہ اور عزیز واقرباء ایصال ثواب کی غرض سے جمع ہو کر قرآن خوانی کریں تو یہ جائز ہے، ممنوع نہیں ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ۳۸۹/۱)(۳) حضرت مولانا سید زوّار حسین نقشبندی رحمۃاللہ علیہ اپنی کتاب ”عمدة الفقہ“ میں لکھتے ہیں: قرأت قرآن کے لیے قبر کے پاس بیٹھنا نیز قرآن شریف پڑھنے کے لیے حافظوں اور قرآن خوانوں کو بٹھانا بھی بلا کراہت جائز ہے، جبکہ پڑھنے والے اجرت پر نہ پڑھتے ہوں اور پڑھوانے والے کو اجرت (دینے) کا خیال نہ ہو۔ (عمدة الفقہ،ص:۵۳۶/۲)
(٤) حضرت فقیہ الامت مفتی اعظم ہند مفتی محمودحسن گنگوہی رحمۃاللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں، "الجواب حامدا ومصلیا، افضل تو یہی ہے کہ جب ایک جگہ مجمع قرآن شریف پڑھے تو سب آہستہ پڑھیں، لیکن زور سے پڑھیں تب بھی گنجائش ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ، ص:۲۵/۱) ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں، ایصال ثواب میں نہ تاریخ کی قید ہے کہ شب برأت ۱۵/شعبان، ۱۰/محرم اور ۱۲/ربیع الاوّل ہو۔ نہ ہیئت کی قید ہے، کہ چنوں پر کلمہ طیبہ پڑھا جائے یا کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ دی جائے۔ نہ سورتوں وآیتوں کی تخصیص ہے کہ قل اور پنج آیات ہوں اور نہ کسی اور قسم کی قید ہے، یہ سب قید ختم کردیا جائے کہ یہ شرعاً بے اصل ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بغیر ان قیدوں کے ثواب پہنچایا ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ، ص:۲۰۶/۱ قدیم)
(۵) حضرت مفتی احمد بیمات رحمۃاللہ علیہ خلیفہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃاللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں، الجواب حامداً ومصلیاً۔ جب کسی دن یا تاریخ کو لازم نہ کیاجائے کھانے پینے کا مستقل انتظام نہ کیا جائے نیز اسے ایسا ضروری اور لازم نہ سمجھا جائے کہ اس قرآن خوانی میں شریک نہ ہونے والے پر طعن و تشنیع کی جائے تو بغرض ایصال ثواب جائز ہے، اس لیے کہ ایصال ثواب کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے۔ فقط: واللہ اعلم بالصواب (فتاویٰ فلاحیہ، ص:۴۰۸/۱)
حاصل کلام یہ کہ کسی کے انتقال پر ایصال ثواب کے لیے شریعت میں مختلف طریقے ہیں، کسی بھی طریقہ پر عمل کیا جاسکتا ہے، البتہ ایسا طریقہ اختیار کیا جائے تو بہتر ہے جس سے عام لوگوں کو تا دیر فائدہ حاصل ہوتا رہے اور میت کو بھی اس کا اجر وثواب پہنچتا رہے اور ختم قرآن کرنا یا کم از کم یٰسین شریف پڑھنا یا پڑھوانا بھی درست ہے، شرط یہ ہے کہ خلاف شرع قید و پابندی نہ ہو چاہے، مسجد میں ہو یا گھر میں۔ زمانہٴ سلف سے اس کا معمول جاری ہے، چنانچہ مدارسِ دینیہ میں بھی کسی شخصیت کے انتقال پر اگر قرآن خوانی ہوتی ہے تو وہ مذکورہ قیود و پابندیوں سے خالی ہوا کرتی ہے، اس لیے ایسی پاکیزہ قرآن خوانی کے جائز، بلکہ مستحسن ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اکابر علمائے دیوبند اور اسلاف کے واقعات میں اس کا ذکر موجود ہے۔ مثلاً حجة الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃاللہ علیہ کے صاحب زادے ریاست دکن کے قاضی مولانا حافظ محمد احمد نانوتوی رحمۃاللہ علیہ کا جب انتقال ہوا، اس وقت برصغیر کے سیکڑوں مدارس میں، جبکہ ہزاروں کبار علماء موجود تھے، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔ (تفصیل کے لیے دارالعلوم دیوبند کی سالانہ روئداد ملاحظہ ہو) لہٰذا بعض اہل علم کا ایصال ثواب کے لیے مطلقاً اجتماعی قراٴت قرآن کو بدعت قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
دارالافتاء بنوری ٹاؤن کراچی سے ایک سوال کے جواب میں تحریر ہے "ایصالِ ثواب یا برکت کے حصول کے لیے قرآن خوانی جائز ہے، بشرطیکہ اس میں چند اُمور کا لحاظ رکھا جائے (1) یہ کہ جو لوگ بھی قرآن خوانی میں شریک ہوں، ان کا مطمحِ نظر محض رضائے الٰہی ہو، اہلِ میّت کی شرم اور دِکھاوے کی وجہ سے مجبور نہ ہوں، اور شریک نہ ہونے والوں پر کوئی نکیر نہ کی جائے، بلکہ انفرادی تلاوت کو اجتماعی قرآن خوانی پر ترجیح دی جائے کہ اس میں اِخلاص زیادہ ہے۔ (2) یہ کہ قرآنِ کریم کی تلاوت صحیح کی جائے، غلط سلط نہ پڑھا جائے، ورنہ اس حدیث کا مصداق ہوگا کہ’’بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے ! ‘‘(3) یہ کہ قرآن خوانی کسی معاوضہ پر نہ ہو، ورنہ قرآن پڑھنے والوں ہی کو ثواب نہیں ہوگا، میّت کو کیا ثواب پہنچائیں گے؟ ہمارے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ قرآن خوانی کے لیے دعوت کرنا اور صلحاء و قراء کو ختم کے لیے یا سورہٴ انعام یا سورہٴ اِخلاص کی قرأت کے لیے جمع کرنا مکروہ ہے۔ (فتاویٰ بزازیہ)(آپ کے مسائل اور ان کاحل 4/429،مکتبہ لدھیانوی) (4) قرآن خوانی کے لیے کوئی دن خاص کرکے (مثلاً سوئم، چہلم وغیرہ) اس کا التزام نہ کیا جائے، اگر خاص دن کا التزام کیا جائے تو بھی درست نہیں ہوگا۔ لہٰذا اگر مذکورہ بالا شرائط کی رعایت کی جائے، اور اجتماعی طور پر قرآن خوانی کو لازم نہ سمجھا جائے، بلکہ اگر اتفاقاً اکٹھے ہوجائیں یا وہاں موجود لوگ مل کر قرآن خوانی کرلیں، یا اگر کوئی پڑھنے والا دستیاب نہ ہو تو جو پڑھنا جانتے ہیں ان سے پڑھوا لیا جائے اور اس پر اجرت کا لین دین نہ کیا جائے اور نہ ہی اس کے عوض میں دعوت کا التزام کیا جائے تو یہ جائز ہے۔ لیکن جہاں ان شرائط کا لحاظ نہ کیا جائے تو وہاں اس طرح اجتماعی قرآن خوانی کرنا درست نہ ہوگا۔واللہ اعلم بالصواب. (دارالافتاء بنوری ٹاؤن کراچی) فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ایک سوال کے جواب میں تحریر ہے. "مروجہ قرآن خوانی کہ جس میں حفاظ و قراء کو اہتمام سے جمع کیا جاتا ہے نیز اس میں اور دیگر التزام و قیود بھی ہوتے ہیں۔ ایسی رسمی قرآن خوانی میں جمع ہوکر پڑھنے اور پڑھوانے والوں ہی کو کچھ ثواب نہیں ملتا تو وہ دوسروں کو کہاں سے پہونچا دیں گے؟ ایسی رسمی قرآن خوانی میں دعاء کرانے اور کھانا کھانے کے لئے جانا بھی جائز نہیں، محلہ کی عورتیں جمع ہوکر قرآن خوانی کریں اس کا حکم بھی وہی ہے کہ جو مردوں کی قرآن خوانی کا ہے اور اس کا بدعت ہونا آپ کو بھی معلوم ہے۔ ایصال ثواب کی بہتر و بے غبار صورت یہ ہے کہ جو شخص جب چاہے جہاں چاہے جتنا چاہے قرآن کریم پڑھ کر درود شریف نوافل پڑھ کر کسی غریب مسکین محتاج کی ضرورت پوری کرکے مسجد مدرسہ وغیرہ میں ضرورت کا سامان دے کر یہ نیت کر لیا کرے کہ یا اللہ اس کا ثواب فلاں فلاں کو پہونچا دیجئے اس طرح ایصال ثواب میں نہ لوگوں کو جمع کرنے کی ضرورت ہے نہ کھانے ناشتہ وغیرہ کا انتظام کرنے کی حاجت ہے مدرسہ کے بچوں کو جمع کرنے میں تو اور بھی مفاسد ہیں بسا اوقات ان کی تعلیم و تربیت کا نقصان ہوتا ہے بچوں کے ماں باپ اعزہ کی تکلیف کا موجب ہے بہت سے لوگ بھی بچوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے بعض لوگ حقارت کی بھی نظروں سے دیکھتے ہیں اس لئے مدرسہ کے ذمہ داران کو بچوں کے بھیجنے سے صاف معذرت کر دینا چاہئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند) ایک اور فتویٰ میں کہا گیا ہے. "بسم الله الرحمن الرحيم، میت کے لیے ایصال ثواب تو ثابت ہے لیکن اس کے لیے معاشرے میں جو طریقہ رائج ہے وہ مکروہ اور ناپسندیدہ ہے مثلاً مرنے کے تیسرے، دسویں یا چالیسویں دن ہی قرآن خوانی کرانے کو باعث ثواب سمجھتے ہیں یہ دن و تاریخ کی تعیین وتخصیص ثابت نہیں، اسی طرح اس کے لیے باضابطہ لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور پڑھنے والے پارہ جلد ختم کرنے کی فکر میں بہت تیز رفتاری سے پڑھتے ہیں اور قواعد تجوید کی رعایت نہیں کرتے اس سے بسا اوقات ثواب ملنے کے بجائے گناہ ہو جاتا ہے نیز ختم کے بعد ناشتہ کھانا وغیرہ کھلایا جاتا ہے نیز یہ کھلانا پلانا کبھی میت کے ترکہ سے ہوتا ہے جو درست نہیں اس لیے قرآن خوانی کا مروجہ اجتماعی طریقہ لائق ترک ہے، ایصال ثواب کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انفرادی طور پر لوگ جب چاہیں اور جس قدر چاہیں تلاوت قرآن کرکے یا نفلی نمازیں پڑھ کر یا صدقہ خیرات کرکے ثواب میت کو بخش دیا کریں۔واللہ تعالیٰ اعلم.(دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند) دارالعلوم دیوبند وقف کے دارالافتاء کا ایک جواب ملاحظہ فرمائیں. "الجواب بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ میت کے لیے ایصال ثواب کا ثبوت احادیث اور سلف کے تعامل سے ثابت ہے اور جس طرح مالی عبادت کا ثواب میت کو پہنچتاہے اسی طرح بدنی عبادت کا ثواب بھی میت کو پہنچتاہے ۔علامہ شامی نے اسے اہل السنت والجماعت کا مسلک قرار دیا ہے ۔(رد المحتار،مطلب فی زیارۃ القبو2/243) قرآن کریم کے ذریعہ میت کو ثواب پہنچانا بھی درست ہے او راس سے میت کو فائدہ پہنچتاہے اور یہ عمل بھی حدیث اور سلف کے تعا مل سے ثابت ہے۔ (السنن الکبری للنسائی،حدیث نمبر:10847) تاہم یہاں چند باتیں پیش نظر رکھنی ضروری ہے ، اُسی عمل کا ثواب میت کو پہنچتاہے جو عمل انسان خالص اللہ کی رضا کے لیے کرے اوراس کا ثواب میت کو بخش دے ، جو عمل خالص رضائے ا لہی کے لیے نہ ہو اس کاثواب خود کرنے والے کونہیں ملتا تو دوسروں کو اس کا کیا فائدہ ملے گااسی وجہ سے حضرات علماء نے مروجہ قرآن خوانی پر سخت نکیر کی ہے اس لیے کہ اس میں بہت سے مفاسد جمع ہوجاتے ہیں ۔پڑھنےوالا اس نیت سے پڑھتاہے کہ اس پر کچھ ملے گا اور پڑھانے والوں کے بھی ذہن میں رہتا ہے کہ مدارس کے طلبہ کو بلایا تو اس کو کچھ ہدیہ کے نام پہ دینا ہوگا یا کھانا کھلانا ہوگا ظاہر ہے کہ اس عمل میں جانین سے اخلاص کا تحقق نہیں ہوتا۔اس لیے قرآن خوانی کی مروجہ صورت جس میں پڑھنے والوں کے لیے کھانے پینے کا نظم ہو یا شرطیہ یا بلاشرط کے بچوں کو کچھ دینے کا رواج ہو یا مدرسہ کے لیے رسید کٹانے کو ضروری قرار دیا جائے یہ سب ناجائز ہے .(شامی ، مطلب فی الاستئجار علی المعاصی٦/٥٦) اگر لوگ مدارس سے قرآن خوانی کے لیے رابطہ کریں تو اس کی منا سب صورت یہ ہےکہ ان کو بچوں کی تعلیم کو تربیت کا حوالہ دے کر منع کردیا جائے اور یہ کہا جائے کہ مدرسہ میں بچے ہر وقت قرآن پڑھتے ہیں آپ کسی وقت تشریف لے آئیں بچوں نے جو قرآن پڑھا ہے اس میں ایصال ثواب کی نیت کرکے مرحوم کےلیے دعا کردی جائے گی یا مرحوم کا نام لے لیا جائے اور حفظ کی درسگاہ میں سبق کے اختتام کے وقت مرحوم کے لیے دعا کرادیا جائے تو یہ بہتر متبادل ہوسکتاہے ا س کے علاوہ ان کو انفرادی طورپر قرآن پڑھنے اور میت کو اس کا ثواب پہنچانے کی ترغیب کی جائے ۔ واللہ اعلم بالصوا. (دارالافتاءدارالعلوم وقف دیوبند) دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت کے مطابق قرآن خوانی اور ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین. ***
