از :۔ ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
ظلم، بے عدالتی اور بے انصافی انسانی معاشرہ کی سب سے بڑی مصیبت ہے۔ اس کے برعکس عدل و انصاف انسانی زندگی کے نظام کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے۔ انبیاء و مرسلین کی بعثت اور آسمانی کتب کے نزول کا ایک اہم مقصد سماجی عدل و انصاف ہے چونکہ کسی بھی قوم و ملت اور حکومت و اقتدار کی بقا کا راست تعلق اسی سے ہے ۔جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو قوم اور حکومت مٹ جاتی ہے۔ عدل و انصاف ہر سطح پر یقینی بنانے کے لیے دین اسلام کی نصیحت آموز اور بصرت افروز تعلیمات و ہدایات میں ظلم کرنے، انتقامی کارروائی میں حد سے تجاوز کرنے، ظلم سہنے اور ظالم کی حمایت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بلاتفریق مذہب وملت ہر انسان کی تکالیف کو دور کرنا، اس کی پریشانیوں میں اس کی حتی الامکان مدد و معاونت کرنا اور تمام ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا دین اسلام کے اخلاقی تعلیمات کا ایک ایسا نمایاں پہلو ہے جس میں پوری انسانیت کی راحت و خوشحالی مضمر ہے۔
دین اسلام کسی بھی انسان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنائے یا اس کی راہوں میں رکاوٹیں پیدا کرے جس سے اس کا ذہنی و قلبی سکون غارت ہوجائے۔ہر انسان کو مذہبی، سماجی، معاشی اور نجی معاملات میں مساوات کا حق حاصل ہے لہٰذا ہر انسان کی جان، مال، عزت وآبرو محترم ہے۔ ان حقائق کے باوجود ملکی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک مخالفین و معادنین اسلام حقوق انسانی کو فراموش کرکے اور قباء شرف انسانیت کو تار تارکرکے مسلمانوں پر فتنہ و فساد کی انتہاء اور ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہے ہیں جس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود مسلمانوں اپنے گناہوں سے تائب ہوکر رجوع الی اللہ ہونے کے بجائے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ امت مرحومہ کا مقصود اصلی ہی کھانا، پینا اور سونا ہوکر رہ گیا ہے تب ہی تو آج مسلمان اپنی قوم پر ہورہے ظلم و ستم کا احساس کیے بغیر قوائے ادراکیہ کو دنیائے فانی کی لذتوں اور شہوتوں کی طرف متوجہ کیے ہوئے ہیں جبکہ نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے رسول رحمت نے ارشاد فرمایا مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت ، رحم و شفقت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ اگر ایک عضو (حصہ) کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے ۔ جس طرح تکلیف والے حصے کو جسم کے دوسرے حصے آرام پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اسی طرح مسلمانوں کو مصیبت زدہ لوگوں کے غم کا مداوا کرنے کی کوشش کرتی رہنی چاہیے۔
یہ مثال مسلمانان عالم کے لیے باہمی دکھ درد میں غمگساری و ہمدردی کا واضح پیغام تھا لیکن صدحیف آج ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ دنیا کے بے شمار حصوں میں مسلمان ظلم و ستم اور جبر و استبداد کا شکار ہے اس کے باوجود ہم ان مظلوموں کی حمایت کرنے کے بجائے عیش پرستی کی زندگی گزارنے میں مگن ہے۔ کچھ عرصہ قبل یعنی 31 جولائی 2023ء میں مذہبی نفرت و تعصب کے باعث ہریانہ کے علاقہ میوات میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جو ریاست کا واحد مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 70 فیصد ہونے کے باوجود دونوں فرقوں میں محبت مذہبی رواداری کا جذبہ موجزن تھا لیکن اس کے باوجود اشتعال انگیزی اور تشدد کے ذریعہ میوات کے امن و اتحاد کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی تھی جس میں مسلمانوں کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا تھا، مساجد کو نذر آتش کیا گیا تھا، پیش امام صاحب کو ظلم و ستم کا نشانہ بناکر شہید کردیا گیا تھا، علاوہ ازیں فسطائی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے حکومت ہریانہ بے دریغ اور یکطرفہ قانونی کارروائی کرتے ہوئے ضلع نوح میں مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوز چلا دیا تھا، ریاستی سرکار اور انتظامیہ نے مخصوص فرقہ کے لوگوں کی اندھا دھند گرفتاریاں کرکے پورے علاقہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کردیا تھا جس کے سبب گوڑگائوں اور قرب و جوار کی آبادی سے مسلمانوں نے نقل مکانی پر مجبور ہوگیے تھے۔ ایسے ہی واقعات اب شمالی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع ہلدوانی میں بھی پیش آرہے ہیں ۔حالیہ دنوں میں ہلدوانی کے محلہ ملک کے باغچہ میں موجود سیل شدہ مسجد اور مدرسہ کو انتظامیہ نے عدالت کا فیصلہ آنے یعنی 18 فروری تک کوئی کارروائی نہ کرنے کا تیقن دینے کے باوجود اچانک 8 فروری کو مقامی عوام کو اعتماد میں لیے بغیر طاقت کے بل بوتے پر مسجد کو شہید اور مدرسہ کو مسمار کردیا جس کے بعد فساد پھوٹ پڑا جس میں چھ بے قصور مسلم نوجوانوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں اور زائد 100 بے قصور لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا جس سے خوف زدہ ہوکر بن بھول پورہ علاقہ کے تقریباً 300 مسلم خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ کیا یہ مسلمانوں کو نفسیاتی طور پر خوف زدہ کرنے کی منصوبہ بند سازش تو نہیں؟ کشمیر اورکیرالا فائل بنوانے والے اب کیوں خاموش ہیں؟ کیوں کوئی گجرات، نوح، میوات فائل یا ہلدوانی فائل نہیں بناتا۔
ایسے سخت تشویش انگیز حالات میں اسلامی عقائد، دینی فرائض اوراسلامی اخلاق کی حفاظت و تقویت اوروطن عزیز ہندوستان کی فضاکو مستقل طور پر معتدل و پر راحت بنانے کے لیے مسلمانوں پر دو چیزیں لازم ہیں ایک تو یہ کہ انابت و رجوع الی اللہ ہوں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اپنے عادات و اطوار اور اخلاق و کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے اور گناہوں سے اجتناب و احتراز کرنے کی حتی الوسع کوشش کریں تاکہ اللہ تعالی ہمیں امن و امان اور فتح و نصرت سے ہمکنار کرے۔ دوسرے یہ کہ امت مسلمہ جمہوری انداز میں دستوری و قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے ان مظالم کے تدارک کے لیے بھی بھر پور جد و جہد کریں ۔ ظالم کے حوصلے اسی وقت بلند ہوتے ہیں جب مظلوم اپنے آپ کو اس کے سامنے خود سپرد کردیتا ہے۔
حضرت علیؓ نے فرمایا ظلم کرنا جتنا بڑا گناہ ہے ظلم سہنا بھی اتنا ہی بڑا گنا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس آج کے مسلمان کی عقل پر شہوت اور ہوا پرستی اس قدر غالب ہوچکی ہے کہ ہماری اکثریت آخرت اور آخرت میں جوابدہی کے احساس ہی سے محروم ہوگئی ہے۔ ورنہ کیا بات ہے کہ ایک طرف ہمارے بھائی بہنوں کو مشقتوں و صعوبتوںکا سامنا ہے، ان کو جانی و مالی نقصان پہنچایا جارہا ہے، ان کے بچوں کو یتیم بنایا جارہا ہے، ان کو شہر بدر کیا جارہا ہے اور ہم عیش پرستی میں مبتلا ہوں اور اپنی تقاریب میں بے دریغ پیسہ خرچ کررہے ہوں بعض لوگ تو سودی لین دین کے ذریعہ ایسی تقاریب منعقد کررہے ہیں۔
ایسے خطرات و آزمائشوں کے پرفتن ماحول میں بحیثیت امت مسلمہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے قلوب اذہان میں یہ تصور ہمیشہ مستحضر رکھیں کہ دنیا سراسر دھوکہ ہے اس کی وجہ سے غفلت میں پڑجانا سب سے بڑی اور مہلک غلطی ہے۔ لہٰذا ایمانی و مذہبی غیرت رکھنے والے تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ تنگدستی و سختی کے ان حالات میں مادی فوائد و منفعتوں کو بالائے طاق رکھ کر فی الفور ٹھوس لائحہ عمل طے کریں اور اس کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائیں۔ جذباتی نعرے لگانے کی بجائے پختہ دینی شعور کا ثبوت دیتے ہوئے ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق مغلوب و مقہور مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے آگے آئیں۔
علمائے ربانیین و مشائخین عظام کی نہ صرف یہ ذمہ داری ہے کہ امت مسلمہ کو یہ بتائیں کہ جن بدترین حالات سے آج ہم گزر رہے ہیں وہ دراصل ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں بلکہ انہیں اس بات کی طرف آمادہ کریں کہ وہ ایسے اعمال کا وہ دوبارہ ارتکاب نہ کریں، متمول حضرات کی اخلاقی و مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیوی نعمتوں و راحتوں کی فراخی کے سبب آخرت کو فراموش کرکے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا پیشوا نہ بنائیں بلکہ اپنے عیش و عشرت کی قربانی پیش کرتے ہوئے ان مظلوموں کی مالی اعانت و مدد کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہیں، رفاہی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان نقل مکانی کرنے والوں کو روزگار سے مربوط کرنے میں معاونت کریں، وکلاء صاحبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی قانونی لڑائی لڑنے میں ان کی رہنمائی کریں ، تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بے سہارا بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم کا بندوبست کرکے ان کی دستگیری کریں تاکہ رب کائنات امت مسلمہ کی تمام سابق لغزشوں اور خطائوں کو معاف کرکے اپنی خاص الخاص توجہات وعنایات نازل فرمائے۔
امت مسلمہ میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے مفادات کے حصول کے لیے ان ظالموں کا ساتھ دے رہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ حضور نے فرمایا لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پڑکیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑلے۔رسول اکرمؐ نے فرمایا جو شخص ظالم کو طاقت پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ چلتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے ایسا شخص اسلام سے خارج ہوجاتا ہے چونکہ یہ انسان کی وہ غلط روش ہے جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ میں ظلم و زیادتی کا بازار گرم ہوجاتا ہے جو آگے چل کر جرائم میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی اس ماہ ِمبارک میں تمام مسلمانوں کو اپنی رحمت، مغفرت سے سرفراز فرمائے اور دوزخ سے نجات عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔