غیرمسلم بھائیوں نے مسلمان بھائیوں کونماز پڑھتے ہوئے مشاہدہ کیا
بیدر۔ 14؍مارچ (محمدیوسف رحیم بیدری): جماعت اسلامی ہند بیدر نے تیسرے روزہ کو مسجد درشن اور افطار کااہتمام مسجد پنسال تعلیم بیدر میں کیا۔ مسجد کے اندرونی حصہ میں برادران وطن تشریف لے آئے۔مسلمان بھائی بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر خصوصی خطاب کرتے ہوئے جناب محمد رفیق احمد گادگی ناظم علاقہ گلبرگہ جماعت اسلامی ہند نے کہاکہ اپنے اپنے وشواس اور اپنی اپنی پرتھا کے لوگوں کو ایک ساتھ مل بیٹھناچاہیے۔ اور مل بیٹھنے کے لئے مسجد سے اچھی جگہ اور کون سی ہوسکتی ہے ؟موصوف نے مسجد میں داخل ہونے کی دعا، اذان اور ممبرومحراب سے متعلق برادران وطن کو تفصیلات بتائیں۔ اور کہاکہ مسجد میں آنے والا اللہ کامہمان ہوتاہے۔ مسجد کے دروازے سارے انسانوں کے لئے ہمیشہ کھلے ہوئے ہوتے ہیں۔ بعدازاں جناب محمد معظم امیرمقامی جماعت اسلامی ہند بیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ روزہ کھولنے کو افطار کہتے ہیں۔ روزے میں پانی اورفروٹ تک نہیں پیا اورکھایاجاسکتا۔ روزہ تربیت دیتاہے کہ برے کام سے رکیں ۔ روزہ رکھنے سے برائی سے رکنے کی طاقت انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ ماہ رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن ناز ل ہوا۔ اس قرآن کے شکریہ کے طورپر مسلمان روزہ رکھتے ہیں۔ ہوا، پانی ، اور سورج کی روشنی کی طرح قرآن مجید بھی سب کے لئے ہے۔ پوری دنیا میں 800کروڑ انسان ہیں۔ ان سب کے لئے قرآن آیاہے۔ ان 800کروڑافراد کی ذمہ داری ہے کہ قرآن کوحاصل کریں اور اس کو پڑھ کر ہدایت حاصل کریں۔ برادران وطن نے مسجد کے مصلیان کے ساتھ روزہ افطار کیا۔ اور پھر جب تمام مسلمان بھائیوں نے فرض نماز اداکی تب پچھلی صف میں بیٹھ کر نماز کامشاہدہ کیا۔ اس موقع پر پھر ایک بار ناظم علاقہ رفیق احمد گادگی نے دُعا سے پہلے خطاب کرتے ہوئے سورہ فاتحہ کاترجمہ پیش کیا۔ اور یہ بھی بتایاکہ آج ہماری مسجد میں برادرانِ وطن آئے ہیں۔ ہم ان کاشکریہ اداکرتے ہیں۔ بعدازاں جماعت اسلامی ہند کے احباب صدر مسجد جناب محمد جاوید صاحب کلاس ون کنٹراکٹر کی قیادت میں برادران وطن سے مصافحہ اور معانقہ کیا۔ مسجد درشن اور افطار کے ناظم نوجوان ساتھی جناب محمد زبیر احمد تھے جب کہ معاونین میں رفیق احمد گادگی کے علاوہ سید یوسف ہاشمی ، عبدالجمیل اورمشہوداحمد شامل رہے۔ واضح رہے کہ اس موقع پرجناب محمد جاوید صاحب کلاس ون کنٹراکٹر نے بتایاکہ پہلے ہم سب ایک دوسرے کے گھر جایاکرتے تھے اور وہ لوگ ہمارے گھر آتے تھے ۔ اب حالات کی مناسبت سے دوری پیدا ہوئی ہے۔ا س دوری کو نزدیکی میں کون بدلے گا؟ ان کی فکرمندی جائزاور معقول ہے۔ اس پر ملت اسلامیہ ہند ضرور غور کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے