ابو احمد مہراج گنج
بھارت میں الیکشن ہو اور راحت اندوری مرحوم کی یاد نہ آۓ، ایسا اب ممکن نہیں ہے۔ راحت صاحب نے اپنے اشعار کے ذریعے بھارت کے نیتاوں اور ابھینیتاوں کی ایسی اسکیچنگ کی ہے کہ وہ سالوں یاد رکھے جائیں گے ۔ حالیہ لوک سبھا الیکشن کے تناظر میں دیکھا جائے تو ابھی کل ہی کی بات ہے ہمارے پیارے ملک بھارت کے موجودہ وزیراعظم نے راجستھان کے ایک انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے اپنے مقام و مرتبہ کا لحاظ کئے بغیر کچھ جھوٹ بولا تو کچھ الزامات بھی عائد کئے اور ان سب سے بھی تسلی نہ ہوئی تو اکثریت کی بھیڑ کو اقلیت سے اور اقلیتوں کو اپنے پرانے ایجنڈے سے ہراساں کرنے کی بھرپور کوشش کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ "کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا محنت سے جمع کیا ہوا پیسہ زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو دے دیا جائے؟” اتنا ہی اگر ہوتا کہ "زیادہ بچے پیدا کرنے والے لوگ” تو بھی یہ کم ںڑا جھوٹ نہیں تھا مگر جھوٹ کو سچ کی طرح سے بولنا ان کی فطرت میں شامل ہے ۔ انھوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ایک جھوٹ اور بولا کہ "جو گھس پیٹھیئے ہیں” مطلب کہ مسلمان جو زیادہ بچے پیدا کرنے والے ہیں اور مسلمان جو بیس کروڑ کی آبادی رکھتے ہیں وہ گھس پیٹھیے یعنی غیر قانونی شہری ہیں ۔
یہ دونوں باتیں جھوٹ تو ہیں ہی بھارت کے مسلمانوں پر الزام بھی ہیں۔
بھارت کے مسلمان پچھلے پندرہ سالوں سے اپنے فرٹیلیٹی ریٹ یعنی افزائش نسل کے سب سے نچلے درجے پہ ہیں تو وہیں گھس پیٹھ کی بات بھی حد درجہ غلط اور پروپیگنڈہ ہے جس کا مشاہدہ آسام جیسے سرحدی علاقوں میں کیا جا چکا ہے ۔
تو ہمارے ملک کے وزیراعظم نے یہ جھوٹ اور یہ الزام ایک انتخابی جلسے میں کیوں بولا ؟
ہمارے وزیراعظم اس ملک کی اکثریت کو بے وقوف، جاہل، نادان ہی نہیں بلکہ ان پڑھ، اندھا اور بہرا بھی سمجھتے ہیں۔ جبھی تو بے سر و پیر کی باتیں ہزاروں ہزار کی بھیڑ میں کہتے ہوئے جھجھکتے بھی نہیں ہیں ۔
دراصل پہلے مرحلے میں 120 سیٹوں پر ہونے ووٹنگ کی رپورٹ نے برسر اقتدار پارٹی کے رہنماؤں کو پریشان کن حالات میں لاکر کھڑا کر دیا ہے، اب ایسے حالات میں ایک ہی حربہ ہے جو ان کو واپس الیکشن میں کم بیک کرا سکتا ہے اور اب کی بار چار سو پار پہنچا سکتا ہے ۔ وہ حربہ ہے ڈرانے کا، اقلیتوں کو تحفظ کے حوالے سے اکثریت سے ڈرانے کا اور اکثریت کو اقلیت سے لڑانے کا ۔ جبھی تو راحت اندوری مرحوم نے کہا تھا ۔
ابھی غنیمت ہے صبر میرا، ابھی لبالب بھرا نہیں ہوں
وہ مجھ کو مردہ سمجھ رہا ہے، مگر ابھی میں مرا نہیں ہوں
وہ کہہ رہا ہے کہ کچھ دنوں میں، مٹا کے رکھ دوں گا نسل تیری
ہے اس کی عادت ڈرا رہا ہے، ہے میری فطرت ڈرا نہیں ہوں
امید ہے کہ اقلیتی اور اکثریتی طبقات کے لوگ ڈرے بغیر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے اور کسی جھوٹے کے دام فریب میں الجھے بغیر اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے فیصلہ کُن انداز میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔
