بارہ بنکی/دہلی(ابوشحمہ انصاری): غالب کا عہد اور اردو غزل پر شعبۂ اردو، ستیہ وتی کالج، یونیورسٹی آف دہلی میں ایک خصوصی لکچر کا اہتمام کیا گیا۔اس پروگرام میں مہمان مقرر کی حیثیت سے پروفیسر مشتاق عالم قادری، شعبۂ اردو ، یونیورسٹی آف دہلی نے شرکت کی۔ صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر قمر الحسن نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم شعبۂ اردو کی طرف سے تمام مہمانان، اساتذہ، طلباء و طالبات کا استقبال کرتے ہیں۔ ہمیشہ سے ہماری کوشش رہی ہے کہ شعبۂ اردو میں مختلف پروگرام ہوتا رہے تاکہ ہمارے طلبا و طالبات اس سے استفادہ کر سکے۔
پروفیسر مشتاق قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’غالبؔ کی شخصیت جامع الصفات ہیں۔ وہ ایک معروف شاعر کی حیثیت سے پوری دنیا میں مقبول ہیں۔ ایک کہنہ مشق نثر نگار اور زندگی کو مختلف زاویوں سے دیکھنے والا بلند پایہ انسان ہیں۔ جدید نثر کے بنیاد گزار بھی ہیں۔ شاعری میں غزل کے علاوہ قصیدے ، رباعیات ، قطعات اور مثنویاں وغیرہ غالب سے یادگار ہیں۔ جس کی وجہ سے اردو شاعری میں غالب کو ایک آفاقی شاعر ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔
واضح ہوکہ اس خصوصی لکچر میں ستیہ وتی کالج کی پرنسپل پروفیسر انجو سیٹھ نے شرکت کی اور شعبہ کی ترقی کے بارے میں تبادلۂ خیال کرتے ہوئے کہا کہ’’ میرے گھر کی زبان بھی اردو رہی ہے اس لیے میں چاہتی ہوں کہ شعبۂ اردو مختلف ڈسپلن کے ساتھ مل کر کام کرےتاکہ ہمارا تعلق دیگر شعبوں سے بہتر ہوسکے۔ اس سے شعبۂ اردو مزید ترقی کرے گا‘‘۔ شرکا میں ڈاکٹر سنجے سیٹھ،ڈاکٹر رتنیش ترپاٹھی ،ڈاکٹر عارف اشتیاق، ڈاکٹر افسانہ حیات، ڈاکٹر فخر عالم، ڈاکٹر فیاض عالم، ڈاکٹر بشیر شاہین اور ڈاکٹر رکن الدین کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔ اخیر میں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر قمر الحسن نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
