تحریر: ٹی این ایم اسٹاف
ترجمہ :۔ محمدیوسف رحیم بیدری
کرناٹک کے ہبلی شہر میں ایک کانگریسی لیڈر کی بیٹی کا قتل تنازعہ کاباعث بن گیا ہے ۔ جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس کو ’لو جہاد‘ کاشاخسانہ بتلایا اور کانگریس پر ڈھلمل قسم کا رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔KLE ٹکنالوجیکل یونیورسٹی میں ایم سی اے کے پہلے سال کی طالبہ نیہا ہیرے مٹھ (24سالہ) کو 18؍ اپریل2024 کوکالج کیمپس میں مبینہ طور پر اس کے سابق ہم جماعت نے چاقو کا وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ جب اسے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا تو اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس نے حملے کے چند گھنٹوں میں ملزم فیاض کو گرفتار کر لیا۔نیہا کے والد، کانگریس کے کونسلر نرنجن ہیرے مٹھ نے کہا کہ ان کی بیٹی کو اس لیے مارا گیا کیونکہ اس نے تبدیلی ء مذہب کے خلاف مزاحمت کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب فیاض کے اہل خانہ نے اپنے بیٹے کے لیے سخت ترین سزا کامطالبہ کیا۔ اس قتل کو لے کر ریاست بھر میں مظاہرے کئے گئے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے گروپوں نے نیہا کے قتل کی مذمت کی ہے۔ بی جے پی نے پیر، 22 ؍اپریل کو ہبلی میں بند کی کال دی، جبکہ دھارواڑ میں مقیم انجمن اسلام نے مسلم کاروباریوں کو تعزیت کے طور پردوکانیں بند رکھنے کی اپیل کی۔ انجمن کے ارکان نے بھی اظہار تعزیت کے لیے نیہا کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔نیہا کا قتل پچھلے مہینے میں ہوئے کم از کم تین دیگر واقعات کے بعد ہوا ہے، جہاں خواتین پر مردوں نے حملہ کیا،اوریہ حملے مہلک رہے ہیں۔سابق پارٹنرز یاان خواتین پر حملے ہوئے جن کے ساتھ انھوں نے تعلقات بنانے کی کوشش کی۔ جس کومسترد کرنے پر اس طرح کے حملے ہوئے۔ اس طرح کے پرتشدد ردعمل مرد اپنے تئیں خواتین کااپنے حقدار ہونے کے احساس کی عکاسی کرتے ہیں۔ایسے مردوں کی پرتشدد سوچ نے انھیں یہ سمجھایاکہ ان خواتین کو خاموش کرنے کا حق انھیں حاصل ہے جو ان کی پیش قدمی کو مسترد کرتی ہیں۔ابھی پچھلے ہفتے ہی، ٹی سریش نامی ایک شخص نے بنگلورو کے جے پی نگر کے ایک پارک میں اپنی سابقہ گرل فرینڈ انوشا کو چاقو مارا۔ انوشا نے پولیس سے شکایت کی تھی جس پر اس سے تحریری حلف لینے کے بعد چھوڑ دیاگیاتھا۔ انوشا کی ماں، جس نے اس قتل کو دیکھا تھا، نے سریش کو اینٹ سے مارا، جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔
14 ؍اپریل کو پولیس نے بنگلورو کے پردیپ کو گرفتار کیا، جس نے میسور میں کام کرنے والی خاتون رخسانہ کو قتل کیا۔ یہاں تک کہ ان کا ایک بچہ بھی تھا۔ اس نے اسے قتل کر دیا اور ٹمکورو کے قریب اس کی لاش کو جلا بھی دیا۔ بچہ بنگلورو میں لاوارث پایا گیا اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔مارچ کے آخر میں، بنگلورو کے گریش نے فریدہ خاتون کو ایک عوامی مقام پر چاقو مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس نے بتایاکہ جب گریش نے اس سے شادی کرنے کو کہا تو فریدہ خاتون نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ گریش نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام بدل کر ریحان احمد رکھ لیا تھا، لیکن بعد میں اپنی بہن کی شادی کرنے کے لیے اپنا نام تبدیل کر کے گریش رکھ لیا تھا۔اس سال فروری میں چکبالا پور کی دیپا پانچ دن تک لاپتہ تھی اس کے بعد اس کی سڑی ہوئی لاش کرائے کے مکان میں ملی تھی۔ پولیس کو ایک ایسے شخص کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس کا بوائے فرینڈ ہے۔فروری 2023 میں، شرینواس نے بیدر میں ایک 18 سالہ پیرامیڈیکل طالبہ شیولیلا کو قتل کر دیا۔ وہ کئی مہینوں سے اس کا پیچھا کر رہا تھا۔مارچ 2023 میں، دیناکر بنالا نے بنگلورو میں کام کرنے والی لیلا پوترا ملاوٹھی پر چاقو سے وار کیا۔ یہ دونوں آندھرا پردیش کے رہنے والے تھے اور مبینہ طور پر رشتے میں تھے۔ اس نے اسے اس وقت مار ڈالا جب اس نے اس سے رشتہ توڑ دیا تھا۔پروین ارون چوگلے، جو ایک ایئر لائن میں کام کرتا تھا، نے نومبر 2023 میں اپنی ساتھیAinaz اور اس کے خاندان کے تین افراد کو جنوبی کنڑ ضلع میں ان کے گھر پر قتل کر دیا تھا۔
قتل پر سیاست:۔ بی جے پی کے کئی لیڈران جیساکہ قومی صدر جے پی نڈا، مرکزی وزیر پرہلاد جوشی، ایم ایل اے مہیش ٹینگیناکائی، اور اروند بیلد نے نیہا کے خاندان سے ملاقات کی ہے، جو لنگایت مٹھ کے سربراہ بھی ہیں۔بی جے پی نے ریاست میں دیگر قتلوں کے ساتھ نیہا کے قتل کا معاملہ بھی اٹھایا ہے، جیسے کہ گدگ میں ایک خاندان کے تین افراد کا قتل ہوا،امن و قانون کی خراب صورتحال کے بارے میں حکمراں کانگریس پر سوال اٹھانے کے لیے بی جے پی نے یہ کام کیا۔ بی جے پی اور دائیں بازو کے گروپوں نے ریاست میں دیگر مثالوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ بیانیہ پھیلاناشروع کیا ہے کہ کانگریس کے ماتحت کرناٹک میں ‘ہندو محفوظ نہیں ہیں’۔خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر لکشمی ہیبالکر نے میڈیا کو بتایا کہ بی جے پی نیہا کے قتل کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس طرح کا قتل ہوا ہو۔ حالانکہ بی جے پی نے کبھی احتجاج نہیں کیالیکن ہمدردی کے ووٹوں پر نظر رکھتے ہوئے زعفرانی پارٹی اس قتل پر سیاست کررہی ہے‘‘ لیکن ان کا بیان ان کی پارٹی کے ممبروں کے متنازعہ تبصروں اور اس حقیقت کے درمیان کھو گیا ۔ اسی درمیان کانگریس کے چند رہنما نیہا کے خاندان سے ملنے گئے ۔ خود وزیر اعلیٰ سدارامیاپر سخت تنقید کی گئی۔ ریاست میں امن و امان کی خرابی پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے، سدرامیا نے کہا”امن و قانون کو برقرار رکھنا حکومت کا فرض ہے اور وہ اسے انجام دے رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ نیہا کو ”ذاتی وجوہات” کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا، جس سے نیہا کا خاندان پریشان ہے اور جس کا بی جے پی فائدہ اٹھاناچاہتی ہے۔فیاض اور نیہا کی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ ہندو کارکنوں کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کروانے کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر دو لوگوں کو ان تصاویر کو پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہ دونوں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ نیہا اور فیاض کے تعلقات ہیں۔ ہبلی دھارواڑ سٹی پولیس نے نیہا کے اہل خانہ کی شکایت کے بعد کہ نیہا کے قتل کے پیچھے اور لوگ ہیں، نارتھ ڈویژن کے اے سی پی شیو پرکاش نائک کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ہبلی-دھارواڑ، اور شمالی کرناٹک کی 13 دیگر نشستوں پر 7 مئی کو انتخابات ہونے والے ہیں، یہاںکافی تعداد میں لنگایت ہیں، وہ کمیونٹی جس سے نیہا ہیرے مٹھ کا تعلق ہے۔
دیگرلڑکیوں کا قتل:۔ بنگلورو میں مردوں کے ذریعہ ان خواتین کو قتل کرنے کے کئی اور واقعات سامنے آئے ہیں جن کے وہ خود کو ‘حقدار’ محسوس کرتے ہیں، بشمول مارچ 2022 میں ایک دلت خاتون کا قتل ہوا۔ شیوکمار ہیرے ہلا نے اپنی گرل فرینڈ دنیشوری پر حملہ کیا اور اسے آگ لگا دی،کہاجاتاہے کہ اس کے والدین کے انکار کے بعد بحث ہوئی ۔ شیوکمار لنگایت طبقہ سے تعلق رکھتاہے۔جولائی 2022 میں، بھوجراج بسواراج نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ کو وجئے نگر ضلع میں قتل کر دیا اور اس کا سر قلم کر دیا۔ پولیس کے مطابق وہ کچھ سال تک ساتھ رہے لیکن بعد میں تعلقات ٹوٹ گئے تھے۔بہت سے واقعات میں، مردوں نے اپنے موجودہ یا سابقہ ساتھیوں پر ہتھیاروں سے حملہ کیا اور خواتین بچ گئیں۔ اسماعیل نامی شخص نے دسمبر 2020 میں اپنی سابقہ گرل فرینڈ’’ آشا ڈی اگسرا‘‘ پر ہبلی میں ایک سڑک کے بیچ میں چاقو سے حملہ کیا۔اسلئے حملہ کیا کیونکہ بیان کیاجاتاہے کہ وہ کسی اور کے ساتھ تعلقات میں تھی۔فروری 2019 میں، ضلع ہاسن میں ایک خاتون پرچاقو سے اس لئے حملہ کیاگیاکیوں کہ اس نے اس کو مسترد کرتے ہوئے ایک مسلمان مرد سے شادی کرنے جارہی تھی ۔ اپریل 2022 میں، ایک شکاری نے بنگلورو میں ایک خاتون پر تیزاب سے حملہ کیا۔ وہ 30 فیصد جھلس چکی ہے۔ وہ کئی مہینوںسے ہراساںکرتارہا
ہے تاکہ وہ خاتون اس سے شادی کرلے۔
(یہ آرٹیکل 22؍اپریل 2024کو شام 4بج کر دومنٹ پرانگریزی نیوزپورٹل The NEWS Minuteیعنی ٹی این ایم میں ان کے اسٹاف کی جانب سے شائع ہواہے، ان ہی کے شکریہ کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ یہاں شائع کیاجارہاہے )۔
