ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ایڈیٹر ماہنامہ اچھا ساتھی۔بجنور

استاذ کا کردار معاشرے کی تعمیرمیں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔اس کی اخلاقی صفات کا عکس طالب علم پر سورج کی روشنی کی طرح پڑتا ہے ۔طلبہ کے سامنے جھوٹ بولنا ،غیبت کرنا یا بددیانتی کرنااستاذ کی اپنی تصویر کو خراب کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے اخلاق کو خراب کرنے کا موجب بھی ہے ۔موجودہ دور میں بعض اساتذہ کھلے عام غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث نظر آتے ہیں،کیا اس کردار کے اساتذہ کوئی صالح معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں ؟
نیپولین بونا پارٹ نے کہا تھا :’’تم مجھے اچھی مائیں دو ،میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔‘‘اس قول میں ذرا سی ترمیم کرکے میں کہتا ہوں :’’ تم مجھے اچھے استاذ دو ،میں تمہیں اچھی قوم دوں گا ۔‘‘ ضروری نہیں کہ ہر ماں بہت باصلاحیت ہو ،ماں نیک ہوسکتی ہے ،وہ اپنے بچے کو بہترین اخلاق سے آراستہ کرسکتی ہے ،مگر ہوسکتا ہے وہ تعلیم نہ دے سکتی ہو،جب کہ ایک استاذ تربیت کے ساتھ تعلیم بھی دیتاہے ۔اس لیے ایک استاذ کو اپنے پیشہ کی اہمیت کو ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے ۔ذیل میں ایک اچھے استاذ کے چند اوصاف کا باختصار ذکر کیا جاتا ہے ۔یہ وہ لازمی اوصاف ہیں جن کی جانب ہمارے اساتذہ و ذمہ داران تعلیم کو توجہ دینا چاہئے ۔
٭اخلاص ہر کام کے لیے شاہ کلید ہے۔ ایک استاذ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مخلص ہوتاہے ۔یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہئے کہ تعلیم کوئی جزوقتی ملازمت( Part time job) نہیں ہے ،بلکہ ہمہ وقتی شغل ہے ۔ ایک استاذ صرف کلاس یا اسکول کے احاطہ میں ہی استاذ نہیں ہوتا بلکہ وہ اسکول کے باہر مسجد اور بازار میں بھی استاذ ہوتا ہے ،اسی طرح ایک استاذ دوران تعلیم ہی استاذ نہیں ہوتا بلکہ یہ رشتہ تا حیات قائم رہتا ہے ۔اگر آپ نے یہ طے کرلیا ہے کہ تدریس کو ہی ذریعہ معاش بنائیں گے تو اس کے لیے مخلص ہوجایے۔تبھی آپ اپنے پیشہ سے انصاف کرسکیں گے ۔آپ کا اخلاص اپنے پیشہ کے لیے بھی ہو اور اپنے شاگردوں کے لیے بھی ۔شاگردوں کے لیے مخلص ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے شاگردوں کو مثالی طالب علم بنانے کی کوشش کریں ، ان کی کامیابی آپ کو ایسے ہی مطلوب ہو جیسے اپنی اولاد کی مطلوب ہوتی ہے ، ان کی کامیابی پر آپ قلبی مسرت محسوس کریں اوران کی ناکامی سے آپ کو تکلیف ہو۔
٭معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں وہی اساتذہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیںجو علم کے حریص(Learner) ہوں اس لیے کہ علم ایک ترقی پذیر شئی ہے ۔انسانی زندگی میں روزانہ تغیر واقع ہورہا ہے ۔آئے دن نئی نئی ایجادات ظہور پذیر ہورہی ہیں،علم کی توسیع کا عمل مستقل جاری ہے ۔ایک عام انسان علم کی وسعت کا اندازہ نہیں کرسکتا۔ایک استاذ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم سے کم اپنے مضمون کے بارے میں مستحضر(update) رہے ۔وہ ہمیشہ سیکھتا رہے ۔اگر سیکھنے کا عمل رک جائے گا تو اس کا علم محدود ہوجائے گا ۔جس طرح تالاب میں اگر صاف پانی نہ ڈالا جائے تو ایک دن وہ تالاب یا تو سوکھ جاتا ہے یا اس کا پانی گندہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک استاذ اگر اپنے علم میں اضافہ نہیں کرتا تو وہ اپنے شاگردوں کو تازہ علم نہیں دے سکتا۔
٭تعمیر معاشرہ کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ اس کو اپنامقصد تدریس بنائیں۔ آپ کیوں پڑھارہے ہیں ؟اس کا جواب آپ کے پاس ہونا چاہئے ۔ایک جواب یہ ہے کہ پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ بچوں کو امتحان میں پاس ہونے کے قابل بنانا چاہتے ہیں ۔تیسرا جواب یہ ہے کہ بچوں کو اس قابل بنانا چاہتے ہیں کہ یہ پیسہ کماسکیں ،چوتھا جواب یہ ہے کہ آپ اپنے شاگردوں کو دنیا اور آخرت میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں اور ایک صالح معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں ۔ہر جواب کے تقاضے اور نتائج الگ الگ ہیں ۔ اگر آپ کے پیش نظر صرف پیسہ کمانا ہی تعلیم و تدریس کا مقصد ہے تو پھر اخلاقیات کا ذکر ہی کیا ؟آج جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈاکٹر کو مریض سے ذرہ برابر ہمدردی نہیں ہے ،وہ صرف مریض کی جیب پر نظر رکھتا ہے ،یہاں تک کہ مریض کے مرجانے پر اس کی لاش بھی پیسے لے کر دی جاتی ہے ،بعض ہسپتالوں میں مردہ کو بھی مصنوعی طور پر اس لیے زندہ رکھاجاتاہے کہ اس کے ورثاء سے پیسہ لیاجاسکے ۔ایک انجینئر رشوت لے کر ایسی تعمیر کرادیتا ہے کہ ایک جھٹکے میں ہزاروں زندگیاں ختم ہوجاتی ہیں،ایک تاجر صرف پیسے کے لیے کم تولتا اور ملاوٹ کرتا ہے ۔یہ سب ان اساتذہ کی تعلیم کا نتیجہ ہے جن کا مقصود صرف پیسہ کمانا تھا۔اگر آپ آخری جواب کو اپنا مقصد بنائیں تو آپ ایک صالح معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں ۔پیسہ تو بقدر قسمت آپ کو مل ہی جائے گا ۔دنیا میں پیسہ بہت کام آتا ہے لیکن پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ۔غلط راستوں اور لوگوں کا گلا کاٹ کر کمایا گیا پیسہ اپنے ساتھ بہت سی مصیبتیں لاتا ہے ۔آج نیرو مودی اور وجے مالیا ملک سے فرار ہیں ،جب کہ ان کے پاس بے انتہا دولت ہے ۔دولت کا حصول اچھی بات ہے لیکن وہ آپ کے پاس جائز راستوں سے آنی چاہئے ۔ایک مثالی استاذ دولت کا پجاری نہیں ہوتا ،وہ اپنے غریب شاگردوں کو بھی اتنی ہی توجہ سے پڑھاتا ہے جتنی توجہ سے وہ مالدار شاگردوں کو پڑھاتا ہے ۔اسکول میںیونیفارم کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ امیر اور غریب یکساں نظر آئیں اور استاذ کی نظر میں سب برابر ہوں۔ایک مثالی استاذ کے سامنے تعلیم کا مقصد بھی واضح ہوتا ہے اور زندگی کا مقصد بھی ۔
معاشرہ کی ضرورت کے پیش نظر افراد سازی کا اہم کام بھی اساتذہ ہی کرسکتے ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ بچے کے اندر بے پناہ خداد اد صلاحیتیں پنہاں ہوتی ہیں ۔ان صلاحیتوں کو پہچان کر نشو نما دینا ایک مثالی استاذ کی ذمہ داری ہے ۔بچے کے اندر کیا صلاحیت ہے ؟کون عالم دین بن کر رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکتا ہے ،کون ڈاکٹر بن کر علاج کرسکتا ہے ،کس کے اندر انتظامی صلاحیت ہے ،کون ایک اچھا اور ایمان دار تاجر بن سکتا ہے ؟کون مصنف اور مقرر ہوسکتا ہے ؟ان سب صلاحیتوں کا ادراک کرنا ایک استاذ کی ذمہ داری ہے ۔اس سلسلہ میں ہم نبی اکرم ﷺ کو دیکھتے ہیں کہ آپ ؐ نے صحابہ کرام کی صلاحیتوں کی شناخت کرکے ان کو اس میدان کا ماہر بنادیا۔بعض صحابہ کو آپؐ نے مبلغ بنایا ۔بعض کو منتظم ،بعض کو دوسری زبانیں سکھا کر مترجم بنایا اور بعض کو کاتب ،بعض صحابہ کو آپؐ نے جاسوسی کی تربیت دی ،بعض کو آپ ؐنے سفارت کاری کا ہنر سکھایا۔سپہ گری تو عرب کے ہر باشندے کی ضرورت تھی ،بعض لوگ اس فن میں بھی مہارت حاصل کرلیتے تھے ،لیکن نبی اکرم ﷺ نے زندگی کے ہر میدان کے لیے صحابہ کو مخصوص تربیت دلائی ۔کیا آپ ڈیڑھ ہزار سال پہلے عرب کے ریگستان میں یہ تصور کرسکتے تھے کہ قیدیوں سے تعلیم کا کام لیاجائے ۔لیکن نبی اکرم ﷺ نے غزوہ بدر کے کافر قیدیوں سے مسلمانوں کو تعلیم دلائی ۔یہ تاریخ کا نہایت انوکھا واقعہ تھا۔ایک استاذ کا کام ہے کہ وہ ہر بچے پر خصوصی نظر رکھے اور اس کی دلچسپیوں کا مطالعہ کرے ،اور اس مطالعہ کی روشنی میں بچے کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرے۔
معاشرہ کی تعمیر میں استاذ کی گفتار، بودو باش اور لباس کا بھی اثر پڑتا ہے۔ بچہ اپنے استاذ کی نقل کرتا ہے ،وہ اپنے استاذ کو والدین کے مقابلہ پرزیادہ آئیڈیل مانتا ہے ۔اس لیے استاذ کی وضع قطع اور بودو باش کا بچے کی شخصیت پر بہت اثر پڑتا ہے ۔ہر زمانے میں شرافت کا لباس، لفنگے پن کے لباس سے الگ رہا ہے ۔ آپ لوگوں کے پہناوے اور چال سے ان کی علمیت اورخاندانی نجابت کا اندازہ لگاسکتے ہیں ۔سرپر لمبی لمبی زلفیں ،نامناسب جگہوں سے پھٹی جینس،ہاتھ میں سگریٹ ہوتو آپ بلا تکلف کہہ سکتے ہیں یہ سب کچھ ہوسکتا ہے استاذ نہیں ہوسکتا ۔ایک مثالی استاذ کی ہر ادا سے وقار ٹپکتا اور عظمت جھلکتی ہے۔اس لیے استاذ کو چاہئے کہ وہ اپنے لباس اور بودوباش کو اخلاقی حدود کے دائرے میں رکھے۔
خوش گفتاری میں دوباتیں شامل ہیں ۔ایک یہ کہ زبان کا آہنگ معتدل ہو ،نہ اتنا پست کہ خود کے سوا کوئی نہ سن سکے اور نہ اتنا بلند کہ ہمسائے بھی دوڑے چلے آئیں ۔قرآن کے مطابق حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جونصیحتیں فرمائی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ ’’اپنی آواز کو پست رکھو،بے شک گدھے کی آواز سب سے مکروہ ہے ۔‘‘(لقمان ۔18)۔ایک استاذ کو چاہئے کہ کلاس میں پڑھاتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھے کہ اس کی آواز سے برابر والی کلاس ڈسٹرب نہ ہو۔ زبان کے تعلق سے دوسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ جو زبان بھی بولے اس کی فصاحت و بلاغت اور گرامر کا خیال رکھے ۔استاذ کی گفتگو طلبہ کے لیے سند اور حوالہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔آپ اردو ،ہندی بولیں یاانگریزی ،لیکن زبان کے معیار کو گرنے نہ دیں ۔بعض اساتذہ طلبہ سے گفتگو کے وقت اپنی دیہاتی زبان کا استعمال کرتے ہیں جو اس قدرغیر فصیح ہوتی ہے کہ طلبہ استاذ کے ذریعہ بولے گئے الفاظ کو ڈکشنری میں تلاشیں تو انھیں نہ ملیں ۔بعض علاقوں میں لکھنے والی زبان الگ ہے اور بولنے والی الگ ۔استاذ کو کوشش کرناچاہئے کہ بولنے وقت لکھنے والی زبان کا ہی استعمال کرے ۔
مختصر یہ کہ استاذ کے اوپر سماج اور ملک کی ایک بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم و ملک کے معماروں کا تخلیق کار ہے ۔وہ جیسے معمار بنائے گا ملک اور سماج ویسا ہی تیار ہوگا ۔اس پہلو سے ہر استاذ کو چاہئے کہ وہ اپنا جائزہ لے اور اپنے اندر مثالی استاذ کی لازمی خصوصیات کو پیدا کرے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے