محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک۔
۱۔ برہمن بھائی جان
وہ مسلمان تھی، اس کی عصمت ریزی کی گئی ۔ بعدازاںمارڈالاگیااور پھر جلایاگیالیکن کسی مسلمان اور ممبر پر کھڑے ہوکر خطبہ دینے والے مولوی کوبھی یادنہ رہاکہ اس مسلمان لڑکی کے لئے آواز اٹھانی چاہیے۔ اس کی موت یہ حق رکھتی ہے کہ اس کیلئے مسلمان آوازاٹھائیں۔ مگر مولوی صاحب اپ ڈیٹ نہیں تھے۔ اس کی موت سے واقف نہ ہوسکے۔
ایسے میں وہ تنہا برہمن سیاست دان تھاجس نے اس مسلمان لڑکی کے حق میں آوازاٹھائی ۔ شاید اس نے اس لئے ایساکیا، کیوں کہ اس کی بیوی بھی ایک مسلمان ہے اور وہ ایک مسلمان خاتون کادُکھ درد جانتاہے۔ یا اس کی بیوی نے اس کو آواز اٹھانے کے لئے مجبور کیاہو۔ جو بھی بات رہی ہوبہرحال میں تو زندہ باد برہمن بھائی جان ، زندہ باد ہی کہوں گا ۔۔۔۔۔ آپ واقعی دلِ دردمند رکھتے ہیں۔ آپ کو سلیوٹ ہے۔
۲۔ پارٹی فنڈ کاکٹورا
پارٹی کے چندے کے طورپر 35کروڑ دے کر وہ ایم پی ٹکٹ خرید لایاتھا۔ اس لئے مقامی پارٹی قائدین اورمقامی ورکرس کو رقم دینے میں اُس کادِل ہی نہیں تھاکیوں کہ پارٹی نے اس کے ساتھ گیم کھیلاتھا۔ مفت ہاتھ آنے والا ٹکٹ زیادہ سے زیادہ 5کروڑ میں ملتا لیکن ضداضدی سے اس کو 35کروڑ خر چ کروایاگیا اور اس کو تیقن دیاگیاکہ تم ہی جیت جاؤگے۔
پارٹی کے کسی بھی مورچہ (شعبہ) والوں کو انتخابی مہم چلانے کے لئے گاڑی اور کارکنان کے کھانے پینے کاخرچ اس نے نہیں دیا۔ اس کاکہناتھاکہ آپ لوگ مورچہ کے صدر ہیں تو ایسے ہی نہیں بنائے گئے نا، لہٰذا خود پیسہ خرچ کریں ۔ میر ے پاس پیسہ نہیں ہے ۔ سارا پیسہ پارٹی فنڈکے طورپر دے آیاہوں۔جوبھی مانگیں آپ پارٹی سے مانگیں اور انتخابی مہم چلا ئیں۔ رہ گئی انتخابی مہم چلانے کی بات تو میں اپنے خاندان اور ساتھیوں کے ساتھ مہم چلاتارہوں گا۔ مجھے جتنے ووٹ ملنے ہیںضرور ملیں گے۔ اور مجھے یقین ہے میں جیت جاؤں گاکیوں کہ پارٹی قائدین نے ٹکٹ دیتے وقت مجھے تیقن دیاہے کہ وہ مجھے جتاکررہیں گے۔
انتخابی مہم شروع ہوئی لیکن پارٹی کا کوئی شعبہ امیدوار کے ساتھ اسلئے نہیں تھاکہ امیدوار پیسہ خرچ کرنے تیارنہیں ہواتھا۔ آخرکار اس کوذلت آمیز شکست کھانی پڑی۔
اب وہ پارٹی پر دباؤڈال رہاہے اور روپیٹ رہاہے کہ میری پوری رقم پارٹی واپس کرے کیوں کہ مجھ سے پارٹی نے کہاتھاکہ’’35کروڑ چندے کی بدولت مجھے جتایا جائے گا۔یہاں تومیری رقم بھی گئی اور عزت بھی گئی۔اورپر سے دن بدن میری صحت خراب ہورہی ہے‘‘
۳۔ ووٹ بینک
28نشستوں میں سے 20نشستیں جیتنے کانشانہ تھا۔ وہ ہدف شدہ نشستیں اسلئے نہیں جیت سکے کہ اقلیتوں اور اوبی سی ووٹرس کی طرف پارٹی اور خود امیدواروں نے توجہ نہیں دی کیوںکہ ان کے نزدیک وہ ان کاہمیشہ کا ووٹ بینک تھا۔ خصوصاً اقلیتوں کے بارے میں غلط فہمی ہوچکی تھی کہ یہ تو کسی نہ کسی طرح ہمیں ہی ووٹ کریں گے۔ان کے لئے اس کے سوا راستہ نہیں بچاہے۔ نتائج لیکن برعکس آگئے ۔اب رونا دھونا اور اقلیتوں پرکم ووٹنگ کا الزام لگاناکسی کام کانہ تھا۔
پوری ریاست میں اقلیتوں نے غلام بن کراپنے آقا کو ووٹ دینے کی طرح اس پارٹی کوووٹ دِیالیکن کچھ مقامات پر سن گن یہ تھی کہ اقلیتوں کے چند مطالبا ت ہیں براہ کرم ان مطالبات کوسناجائے ، بعض مقامات پر اقلیتیں اپنے مطالبات تحریری شکل میں امیدواروں کوسونپناچاہتی تھیں لیکن امیدواروں نے ان مطالبات کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھ دیابلکہ مطالبات کی طرف توجہ ہی نہیں دی اوران مطالبات کو لینے تک نہیں آئے۔ ایسے مقامات پراس پارٹی اوروہاں کے امیدوار وں سے اقلیتیں مایوس ہوگئیں۔ جس کانتیجہ پارٹی کے چندنوجوان امیدواروں کی ہار کی شکل میں سامنے آیا۔
جس میں ریاست کا کراؤن شہر بھی شامل تھا۔ جہاں پارٹی کا نوجوان امیدوار بری طرح شکست کھاگیا۔دوسری طرف مرکز میں اسی پار ٹی برسراقتدار آگئی ۔ کراؤن شہر کاامیدوار پچھتارہاتھاکہ اقلیتوں کو نظرانداز کرنے کے سبب ایک سنہراموقع ہاتھ سے نکل گیا۔
۴۔ غلاموں کالطف
مسلمان ہارگئے تھے۔ اس لئے ہارگئے تھے کیوں کہ انھوں نے بلاشرط اپنی تائید ایک پارٹی کو دی تھی۔ پھر تو اس پارٹی کو ووٹوں کے ڈھیر لگ گئے اور پارٹی جیت بھی گئی۔ نتیجہ میں آئندہ پانچ سال مسلمانوںکو حکومت سے کچھ نہیں ملا۔ البتہ حکومت نے اتناضرور کیاکہ ایسے قوانین بنانے سے پرہیز کیاجس سے مسلمانوں کے دھرم پر زد پڑتی ہو۔
باقی رہی مہنگائی ، بے روزگاری ،مارپیٹ وغیرہ یہ سب جاری وساری ہے۔ جی رہے ہیں کہ کسی نے کیاخوب کہاہے ’’ غلاموں کو جینے میں لطف آتاہے‘‘مسلمانوں کو شاید یہی کچھ مطلوب بھی تھا۔
۵۔ ترکِ بزم
کوئی بھولا بھالا آدمی تھا۔ اس نے بھری بزم میں پوچھ لیا’’لیڈر بھائیو، اس ملک میں اسلام کب قائم ہوگا؟‘‘
اجلاس میں جمع سبھی سیاسی قائدین کے چہرے پھول گئے۔ کئی ایک چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ دس بارہ سکنڈتک کسی نے کچھ نہیں کہا۔ سائل کاسوال گویا ابھی بھی بزم میں گونج رہاتھا۔ساتھ ہی گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔
آخرایک جواب آیا ’’بھائی صاحب ، شاید آپ نئے ہیں، یامعصوم ہیں۔ یہ ملک جمہوری ملک ہے ۔ یہاں اسلام وِسلام نہیں چل سکتا۔ اس کے قیام کے بارے میں سوچنابھی نہیں ‘‘
بھولابھالا آدمی اٹھااور یہ کہتے ہوئے چل دیا’’تم لوگ اس لائق نہیں ہوکہ تمہارے ساتھ دومنٹ بیٹھاجاسکے ‘‘۔
