بیدر۔ 5؍مئی (محمدیوسف رحیم بیدری): ہمناآباد شہرکے درمیان سے گزرنے والی ہائی وے ہو، یا اوراد (بی) شہر سے گزرنے والی مرکزی شاہراہ ہو، یاپھر مختلف دیہات ہوں ، ہر طرف بھگوارنگ کے جھنڈوں کی دھوم ہے۔ حال ہی میں رام نومی منائی گئی اور اس کے بعد ہنومان جینتی منائی گئی۔ کہیں پر رام نومی کے بھگوا جھنڈے ہیں اور کہیں پر ہنومان جینتی کولگائے گئے جھنڈے جوں کے توں لہراتے نظر آرہے ہیں۔ سمجھ میں ہی نہیں آرہاہے کہ 7؍مئی کو بیدر میں پارلیمانی انتخاب ہونے جارہاہے۔ اگر بیدر میں 7؍مئی کو پارلیمانی انتخاب ہے تو پھر یہ بھگواجھنڈے لگائے رکھنا کہاں تک درست ہے ۔ ضلع بیدر کی عوام الیکشن کمیشن آف انڈیا اور خصوصاً ضلع ریٹرننگ افسر اور انتخابی تحصیلدار سے پوچھ رہی ہے۔ اوراد(بی) میں تو شہر کی مرکزی شاہراہ کوجن برقی قمقموں سے کبھی سجایاگیاتھااس کے تین کھمبوں میں سے درمیان کاکھمبا ہی بھگوا رنگ میں رنگ دیاگیاہے جب کہ باقی دوکھمبے سفید ہیں۔ یہ معاملہ بیدرمیں نہیں ہے جب کہ بیدر میں بالکل ویسے ہی کھمبے بسویشور چوک تا امبیڈکر سرکل اور عدالت تا سی ایم سی دفتر لگائے گئے ہیں۔ اودگیر روڈ کے برقی کھمبے بھی سفید ہی ہیں۔ سندبندگی (تعلقہ ہمناآباد) میں بھگوا جھنڈے لگائے گئے ہیں۔ اورادکی ہائی وے پرآنے والے تین چار گاؤں پر ڈی ایس ایس اور دلتوں کے دیگر جھنڈے لہراتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ کہیں نہ کہیں ہرے جھنڈے بھی لگائے گئے ہوں گے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا سے یہی سوال ہے کہ اس طرح گیروے (بھگوا) ، نیلے ، اور ہرے جھنڈے لگاکر انتخابات لڑنے کا موقع دینا کس قدر مناسب ہے ؟ کیا یہ جھنڈے 7؍مئی تک ایسے ہی لگے رہیں گے؟کیا یہ جھنڈے MCCکی مخالفت نہیں کرتے ہیں؟
توقع ہے کہ ان سوالوں کے جوابات عوام تک پہنچائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ عوام کنفیوژن میں ہے کہ اگر جھنڈے وغیرہ شاہراہوں پر لگنے سے MCCکی اگر مخالفت نہیں ہوتی ہے توپھر بیدر کے مختلف مقامات سے جھنڈے کیوں نکالے گئے ہیں ؟بیدر میں بھی وہ جھنڈے رہنے دئے جاتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے