محمدیوسف رحیم بیدری
بید ر، کرناٹک۔
۱۔ آسان راستہ
سوچابہت کچھ تھا۔ 1M سوچاتھا، جب لکھنے بیٹھ گیاتو1Kسے بھی کم لکھ پایا۔ کیایہی کچھ قلمکارکے ساتھ ہوتاہے؟ قلمکارو،جواب تو دو، اس بات کو بھی خفیہ رکھنا درست نہیں ورنہ قلمکاروں کا ایمان غوروفکر کرنے پر سے اٹھ جائے گا۔ پھر تووہ تھیٹر میں دلچسپی لینے لگیں گے۔ایکٹنگ کرنے کے بجائے تماشائی بننے کوترجیح دیں گے۔
۲۔ مرضی مخلوق کی
اس نے کہا ’’میراووٹ میری مرضی‘‘
جواب ملا ’’میرا ملک میری مرضی ‘‘
پہلے والے نے کہا’’وہی تو کررہے ہوتم لوگ ، اپنی مرضی چلارہے ہو، جس سے انارکی جیسی کیفیت پیداہوگئی ہے۔سنو! ووٹ پر میں اپنی مرضی چلاسکتاہوں، کیوں کہ یہ اکلوتاہے مجھ سے ریلیٹڈ ہے لیکن ملک پر تمہاری مرضی نہیں چلے گی ،کیوں کہ ملک سبھی کاہوتاہے۔ سبھی لوگ اس ملک میں رہتے بستے ہیں،اسلئے ملک چلانے کے لئے سبھی لوگوں کی مرضی چاہیے، تمہاری اپنی نہیں، سمجھے ‘‘
وہ کہاں خاموش رہنے والاتھا۔ و ہ اپنے ساتھیوں کولے آیا۔پھر تو نعرے لگنے لگے۔ لوگ سراسیمہ ہوکر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ پبلک کو اندیشہ ہواکہ کہیں فساد نہ ہوجائے ۔پبلک بھی اپنی مرضی کے تابع تھی، معاملہ کورفع دفع کرنے کے بجائے وہ خود دفع ہوگئی۔ پولیس کاکہیں اتہ پتہ نہیں تھا۔ وہ شاید ووٹنگ کرانے میں لگی ہوئی تھی، اسکی ڈیوٹی تھی گویا اس کی بھی مرضی تھی۔
مؤرخ نے لکھا’’زمین آسمان جس نے بنائے ہیں ، اس نے ممالک بھی بنائے ہیں، اسلئے زمین آسمان اور ممالک بنانے والے کی تمام ملکوں پر مرضی چلنی چاہیے۔ مگر یہ بھی شاید مولیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اپنی مخلوق کی مرضی پرایک تماشہ گر تماشائی ہے‘‘
۳۔ طاقت کی بھاشا
بھیم اور میم نے مل کر بچہ ڈھونڈنکالنے میں مدد کی تھی۔پولیس کو اس کااحساس تھا۔ خیربچہ تو مل گیالیکن بہت ساری باتیں سامنے آئی تھیں۔ اس میں سے ایک اہم بات یہ کہ مختلف طبقات مل جل کر جب تک دباؤنہیں ڈالیں گے ، کام نہیں ہوگا۔کام بن گیاتھا۔ بچہ کے والدین اور دیگر سبھی رشتہ دار خوش تھے لیکن پانسات افراد سوچ رہے تھے کہ اکیسویں صدی کاسماج بھی طاقت کی بھاشا ہی سمجھتاہے اور طاقت کی یہ بھاشا بھی مل جل کررہنے سے حاصل ہوتی ہے۔
۴۔ پہلاووٹ
’’ابو میںووٹ ڈال آیا‘‘ بیٹے نے خوشی خوشی باپ سے کہا۔ وہ پہلی دفعہ ووٹ ڈال آیاتھا۔
باپ کوجانے کیاسوجھی کہ اس نے پوچھ لیا’’فجر کی نماز کیلئے کیوں نہیں اٹھے ۔تمہاری والدہ تو کافی دیرتک تمہیں نیند سے بیدار کرنے کی کوشش کرتی رہیں ‘‘بیٹے نے کچھ نہ کہا، سرجھکالیا۔
باپ بڑبڑانے لگا’’پہلا کام ہی اگر سلیقہ سے نہیں کیاگیاتو زندگی کے بہت سارے کام کس طرح سر انجام دوگے ؟مرکر اپنے اللہ کو منہ بھی تو دِکھاناہے‘‘
۵۔ سوچ رہا ہوں
میں نے کہا ”یار! گھر میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اس قدر دھوپ میں گھنٹہ بھر سے قطار میں کھڑے ہو کر ووٹ دینے والے…….خود کو برباد ہونے سے بچانا چاہتے ہیں یا ملک کو؟۔پھر یہاں پولنگ بوتھ پر پہنچا اور داڑھی والے مسلمانوں پر نظر پڑی ہے تو سوچ رہا ہوں کہ یہ سارے مسلمان فرقہ پرستوں سے خود کو بچانا چاہتے ہیں یا اسلام کو؟”
میرے دوست حبیب الاسلام نے میری بات کا جواب دیتے ہوئے کہا”موجودہ دور کی انسانی عملی نفسیات یہ ہے کہ اپنی جان اور سماجی عزت سے بڑھ کرکوئی چیز نہیں ہے، اسلام بھی نہیں…..لہٰذا آگے بڑھ کرووٹ ڈال، نہیں تو پھر گھرجااور سوجا،….. گرمی بہت ہے پیارے”
خیریہ تو دوست سے بات ہوئی ۔ ویسے لٹرلی…. مجھے میرے قارئین سے پوچھنا ہے کہ اب میں کیا کروں ؟
۶۔ بھیڑچال مخالف
پولنگ بوتھ کے اطراف پولیس کاکڑا پہرا تھابلکہ نیم فوجی دستے لگائے گئے تھے۔ پولنگ بوتھ تک آنے کے لئے بڑا سامیدان طئے کرناپڑتاتھا۔ ایک بوڑھی عورت لکڑی ٹیکتی ہوئی آرہی تھی ۔ میں نے اُسے دیکھااور اس کے قریب پہنچ گئی۔ پوچھاکہ کیوں آئی ہو۔ تو بولیں کہ ووٹ ڈالنے آئی ہو۔ میں نے کہااگر تم پہلے ہی کہہ دیتیں تو ہم لوگ گھر پر آجاتے ، تمہیں اتنی تکلیف اٹھانے کی ضرور ت نہ پڑتی ۔ ضعیفہ نے کہا’’ اس میں تکلیف کیسی ؟ سب کچھ ٹھیک ہے البتہ پولیس والے ذرابدتمیزہیں‘‘ مجھے بھی پتہ تھاکہ ووٹرس کے ساتھ پولیس کیاکررہی ہوگی ۔ پوچھ تاچھ بھی سیدھے ڈھنگ سے کی جاسکتی ہے۔ منہ ٹیڑھا کرنا ، غصہ دکھانایادھمکانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ ہندوستانی ہیں۔ ووٹ دے کر خوش ہوتے ہیں۔
بہر حال ضعیف خاتون نے ووٹ دیا اور اکیلی واپس چلی گئیں۔ میں انہیں اس قدر بڑے میدان سے آہستہ آہستہ گزرتے دیکھ رہی تھی۔ مجھے لگ رہاتھاکہ وہ ایک ایماندارخاتون ضرور ہوں گی۔ اسی لئے تو تنہا ہیں۔ اور ان کاووٹ بھی بھیڑ چال کاحصہ نہیں ہوگا۔
