ابو احمد مہراج گنج

بھارت میں اس وقت لوک سبھا کا میراتھن الیکشن چل رہا ہے ۔ برسر اقتدار اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کے درمیان زبانی اور لفظی نوک جھونک الیکشن کی روایت رہی ہے اور ساری دنیا میں رائج بھی ہے۔اسی سے پارٹیاں ووٹرز کو اپنے حق میں ووٹ دینے کے لیے متاثر بھی کرتی ہیں ۔

لیکن ادھر گزشتہ سالوں میں برسر اقتدار پارٹی کے رہنماؤں اور خصوصاً ان کے سربراہ عوامی ریلیوں میں جس زبان اور جس لہجے کی گفتگو کرتے تھے وہ زبان اور وہ لہجہ اس 2024کے لوک سبھا الیکشن میں اپنے عروج پرہے ۔الزام ،اتہام،نفرتی بیان ،مذہبی جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والے غلط انفارمیشن کے ساتھ ساتھ جھوٹ اور فریب دہی تو گویا اس الیکشن میں کامیابی کی ضمانت قرار پاگئی ہیں ۔

جب ہمارے ملک کے سب سے بڑے عہدے کے مالک اپنے منصب اور وقار کو ٹھینگا دکھا کر بھولی بھالی عوام کے ذہن کو نئے نئے جھوٹ۔نئے نئے نفرتی بیان اور اکثریت کو اقلییت سے ہراساں کرنے والے الفاظ کے جادو سے بیوقوف بناتے ہیں تو سوائے افسوس کے آپ کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہےکہ بڑے عہدے اور منصب پر پہنچ کر آدمی اپنے بولنے کے طور طریق کو بھی اپنے عہدے اور منصب کے موافق بنالیتا ہے ۔مگر جس نے تیس سال تک بھیک مانگ کر اپنی زندگی کا گزارہ کیا ہو اس سے پروقار زبان اور شائستہ انداز کی امید رکھنا ہی خام خیالی ہے ۔وہ کبھی نہ کبھی اپنی زبان ا اپنے بول چال اور اپنے خیالات سے اس بات کا اظہار کرہی دے گا کہ اسے اقتدار کی جو دولت ملی ہے یا قیادت کا جو موقع ملا ہے وہ خاندانی نہیں ہے کیوں کہ جو خاندانی ہوتے ہیں وہ شبینہ ادیب کے اس شعر کے قالب میں ڈھلے ہوتے ہیں ۔

جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے