"فلسطین میں نسل کشی کے تعلق سے روزنامہ راشٹریہ سہارا و روزنامہ دینک بھاسکر کے ادارتی صفحات کا تجزیہ” از 10 اکتوبر تا 10 نومبر 2023
مقالہ نگار: امام علی فلاحی
زیر نگرانی: ڈاکٹر معراج احمد مبارکی
(اسسٹنٹ پروفیسر- شعبہ ترسیل عامہ و صحافت، اُردو یونیورسٹی)
تعارف:-
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں ایم اے جرنلزم سال دوم کے طلباء کے نصاب میں ایک Dissertation (مقالہ نگاری) بھی شامل ہے اسی لیے ایم اے جرنلزم میں زیر تعلیم طلباء کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ کورس کے اختتام پر ایک Dissertation لکھیں اور اسے جمع کر کے اپنی سند حاصل کریں، بایں سبب ایم اے جرنلزم سال دوم کے سبھی طلباء نے تحقیقات کی بنیاد پر ایک مقالہ لکھا ہے، میں نے بھی برائے حصولِ سند تحقیق کی بنیاد پر ایک مقالہ لکھا جسکا عنوان "فلسطین میں نسل کشی کے تعلق سے روزنامہ راشٹریہ سہارا اور روزنامہ دینک بھاسکر کے ادارتی صفحات کا تجزیہ ہے”۔
میں نے اپنے اس مقالے میں جس موضوع کا انتخاب کیا ہے وہ مسئلہ فلسطین ہے جو بہت ہی حساس موضوع ہے، انسان اور انسانیت سے جڑا مسئلہ ہے، جسے لوگ پڑھنے اور سننے میں زیادہ ترجیح دیتے ہیں اسی لیئے میں نے مسئلہ فلسطین کو اپنا موضوع تحریر منتخب کیا ہے۔
میں نے اس تحقیقی مقالے میں ایک ہی جگہ (دہلی) سے شائع ہونے والے دو ایسے اخباروں کے ادارتی صفحات کا تجزیہ کیا ہے، جنہیں ملک ہندوستان میں بہت ہی بڑے پیمانے پر پڑھا جاتا ہے۔

پہلا اخبار "روزنامہ راشٹریہ سہارا” ہے اور دوسرا اخبار "روزنامہ دینک بھاسکر” ہے۔
"روزنامہ راشٹریہ سہارا” ملک ہندوستان کا واحد وہ قومی اردو اخبار ہے جسکے کل 9 ایڈیشن بیک وقت 7 ریاستوں سے شائع ہوتے ہیں۔
اسی طرح روزنامہ دینک بھاسکر بھی ہندوستان کا ایک مشہور و معروف ہندی اخبار ہے جسکے کل 65 ایڈیشن بیک وقت ہندوستان کی 12 ریاستوں سے شائع ہوتے ہیں۔
سات اکتوبر 2023 کو کیا ہوا؟
سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیل اور فلسطین کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن ثابت ہوا تھا کیوں کہ اسی روز حماس نے اسرائیل کے جدید ترین جاسوسی نظام کو شکست دے کر اور اسرائیل پر اچانک حملہ کرکے اسرائیلی ریاست کے ناقابل مسخ ہونے کے بھرم کو ریزہ ریزہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
"دی گارڈین” کی رپورٹ کے مطابق ایک نئی برطانوی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سات اکتوبر حملے کے وقت حماس کے ہزاروں جنگجوؤں کو ہدایات زبانی طور پر دی گئی تھی۔ پیغامات کو خفیہ رکھنے کا مقصد اسرائیلی جاسوسوں سے بچنا اور اسرائیل کے جدید ترین جاسوسی نظام کو دھوکہ دیکر اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے بڑھتے ہوئے مظالم کو روکنا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ اردن، لبنان، سوریہ، غزہ پٹی میں اس وقت 68 فلسطینی پناہ گزین کیمپ قائم ہیں، جس میں سے 58 سرکاری اور 10 غیر سرکاری ہیں، 1947 اور 1948 کے جنگ میں جو فلسطینی بے گھر ہوئے تھے وہی لوگ اس کیمپ میں مقیم ہیں جن پر وقتاً فوقتاً اسرائیل ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑتے رہتا ہے اسی ظلم و بربریت کو دیکھتے ہوے حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر اچانک حملہ بولا تھا۔
ریویو لٹریچر :-
میں نے جب ادب کا جائزہ لیا تو اسمیں میں نے چار کتابوں کا مطالعہ کیا جسمیں سے پہلی کتاب کا نام "فلسطین کسی صلاح الدین کے انتطار میں” جسکے مصنف مولانا نور عالم خلیل امینی ہیں، دوسری کتاب "مسئلہ فلسطین: سامراج اور عالم اسلام” ہے جسکے مصنف مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی ہیں، تیسری کتاب "فلسطین سازشوں کے نرغے میں” ہے جسکے مصنف ڈاکٹر محمد سمیع اختر (استاد شعبہ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) ہیں، چوتھی کتاب "مسئلہ فلسطین” ہے جسکے مصنف ایڈورڈ سعید ہیں، ان تمام کتابوں میں سے صرف ایک کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
کتاب: مسئلہ فلسطین۔
اس کتاب کے مصنف "ایڈورڈ سعید” ہیں اور ایڈورڈ سعید کا تعلق یروشلم سے رہا ہے، انکی پیدائش بھی یروشلم میں ہوئ ہے۔
ایڈورڈ سعید نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم بھی بیت المقدس اور مصر کے اسکولوں میں حاصل کی ہے اور اعلٰی تعلیم کے لئے امریکہ چلے گئے۔
ایڈورڈ سعید اپنی اس کتاب میں رقم طراز ہیں کہ
آج عرب فلسطینیوں کے تین طبقے وجود میں آگئے ہیں۔
ایک طبقہ تو ان لوگوں پر مشتمل ہے جو 1967ء سے قبل ہی سے اسرائیل میں موجود چلے آرہے ہیں۔ دوسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جن پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ کے دوران میں قبضہ کیا تھا، رہا تیسرا طبقہ تو یہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو اپنے وطن کو خیر آباد کہ چکے ہیں اور اب فلسطین سے باہر مختلف ممالک اور علاقوں میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔
ایڈورڈ سعید لکھتے ہیں کہ آج وہ فلسطینی جن پر اسرائیل قابض ہے یا وہ فلسطینی جو دوسرے ممالک اور علاقوں میں پناہ گزیں ہیں اور وہ اپنے حقوق پر جو اصرار کر رہے ہیں وہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کی کوئی نظیر ہی نہ ملتی ہو کیوں کہ اس کی کامل تائید ہر اس بین الاقوامی قانونی اور اخلاقی میقات سے ہو جاتی ہے جس سے دُنیائے جدید آشنا ہے۔ 1948ء میں اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا جو اعلان نامہ منظور کیا تھا اس اعلان نامہ کی شق نمبر 13 میں یہ بات واضح طور پر بتائی گئی ہے کہ ہر مملکت کی حدود کے اندر ہر شخص کو نقل و حرکت اور رہائش کا حق حاصل ہے۔ ہر شخص کو کوئی بھی ملک بشمول اس کا اپنا ملک چھوڑنے اور اپنے ملک میں واپس آنے کا حق حاصل ہے۔
لیکن آج ایسے ہتھکنڈے اختیار کیے گیے ہیں کہ فلسطینیوں کے لیے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ اپنے وطن فلسطین میں واپس لوٹ سکیں اور اپنی جائدادوں کا معاوضہ طلب کرسکیں۔

ریسرچ میتھڈ لوجی:-
میں نے اس مقالے میں جو تحقیق کی ہے وہ مکمل ایک ماہ کی تحقیق ہے یعنی کہ میں نے 10 اکتوبر تا 10 نومبر مذکورہ اخبارات کے ادارتی صفحات کا مقداری و معیاری تحقیق کیا ہے۔
مقداری تحقیق اس لیے کی ہے تاکہ اسکے ذریعے یہ جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کی جائے کہ ان دونوں اخباروں کے ادارتی صفحات پر کل کتنے مضامین شائع ہوے ہیں؟ کس اخبار نے کتنی مرتبہ اپنے ادارتی صفحہ پر مسئلہ فلسطین کو تحریر کیا ہے؟ کس اخبار نے کتنی مرتبہ فلسطین کے مسئلے کو اپنے اداریہ میں شامل کیا ہے؟
اور کوالیٹیٹیو ریسرچ اس لیے کی ہے تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ ایک ہی شہر سے شائع ہونے والے دو مختلف اخباروں کے کالم نگار اور قارئین کے افکار و نظریات کیا ہیں، ہندی اخبار کے نظریات کیا ہیں اور اردو اخبار کے نظریات کس طرح کے ہیں۔
تجزیہ و خلاصہ:-
اگر اس مقالے کو مقداری تحقیق کی رو سے دیکھا جائے اور دونوں اخباروں کے ادارتی صفحات پر شائع شدہ فلسطین میں نسل کے متعلق مضامین کی تعداد پر بات کی جائے تو مذکورہ دونوں اخباروں کے ادارتی میں باعتبار تعدادِ مضامین بڑا فرق نظر آتا ہے وہ اس طرح کہ روزنامہ دینک بھاسکر نے ایک مہینے میں اپنے اخبار کے ادارتی صحفہ پر مع اداریہ 167 مضامین شائع کئے ہیں، جس میں سے فلسطین کے متعلق صرف 16 مضامین اور 2 ادارئیے تھے۔
اور اگر وہیں روزنامہ راشٹریہ سہارا کی بات کی جائے تو اس اخبار نے اپنے ادارتی صحفہ پر ایک مہینے میں مع اداریہ 163 مضامین شائع کئے ہیں جس میں سے فلسطین کے متعلق 35 مضامین اور 5 ادارئیے تھے۔
جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ روزنامہ راشٹریہ سہارا نے روزنامہ دینک بھاسکر کے کے مقابلہ میں اسرائیل و فلسطین کے مضامین کو زیادہ ترجیح دی ہے بالمقابل دیگر مضامین کے۔
اور اگر اس مقالے میں کوالیٹیٹیو ریسرچ کے حوالے سے بات کی جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ ایک ہی شہر سے شائع ہونے والے دو مختلف اردو اور ہندی اخباروں کے قارئین و کالم نگاروں کے افکار و خیالات بالکل مختلف ہیں۔
وہ اسطرح سے کہ روزنامہ دینک بھاسکر کے کالم نگاروں کے نگارشات کھلے عام اسرائیلی عوام کے حق میں ہیں جبکہ اسی شہر سے شائع ہونے والے روزنامہ راشٹریہ سہارا کے کالم نگاروں کے نگارشات فلسطینی عوام کے حق میں ہیں۔
کیوں کہ کیونکہ دینک بھاسکر کے کالم نگاروں نے جہاں فلسطینی عوام کو انتہائی دہشت گرد لکھا ہے وہیں پر روزنامہ راشٹریہ سہارا کے کالم نگاروں نے فلسطینی عوام کو مظلوم و مجبور قرار دیا ہے۔
ایک جگہ جہاں دینک بھاسکر کے کالم نگاروں نے یہ لکھا کہ حماس نے چودہ سو سے بھی زیادہ بے گناہ اور اسرائیلی شہریوں کو قتل کیا ہے تو وہیں دوسری جانب روزنامہ راشٹریہ سہارا کے کالم نگاروں نے یہ لکھا ہے کہ اسرائیل نے فلسطین کے ہزاروں لوگوں خاص کر بچوں اور عورتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔
ایک طرف جہاں بھاسکر کے کالم نگار یہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل کا ساتھ دینا جائز ہے تو ہیں دوسری جانب سہارا کے کالم نگار یہ تحریر کرتے نظر آئے ہیں کہ کہ اسرائیل کی مخالفت کرنا ازحد ضروری ہے۔
بھاسکر کے کالم نگار نے جہاں یہ تحریر کیا ہے کہ حماس نے اسرائیل کے مرد و عورتوں کو گولیوں سے اڑا دیا اور انتہاء تو یہ کردی کہ ایک اسرائیلی خاتون کو برہنہ کرکے غزہ کی پٹی میں اسے چلایا تو وہیں سہارا کے کالم نگار نے یہ لکھا کہ اسرائیل نے فلسطینی خواتین کے ساتھ بیحد ظلم و ستم کا رویہ اختیار کیا ہے۔
بھاسکر کے کالم نگار نے لکھا ہے کہ دہشتگردی کی تعریف جو بھی ہوگی وہ تعریف حماس کے اوپر پوری طرح اترتی ہے یعنی کہ حماس دہشت گرد ہے تو جوابا سہارا کے کالم نگار نے یہ لکھا ہے کہ دہشتگرد تو اسرائیل ہے۔
خلاصہ
اگر مذکورہ بالا دونوں اخباروں کے ادارتی صحفہ کا کوالیٹیٹیو ریسرچ کیا جائے تو یہ بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ ایک ہی شہر دہلی کے دو مختلف زبانوں کے اخباروں کے کالم نگاروں اور انکے قارئین کے نظریات بالکل مختلف ہیں، روزنامہ راشٹریہ سہارا کے کالم نگار اور انکے قارئین فلسطینی عوام کے حق کی بات کرتے اور انکی حمایت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ روزنامہ دینک بھاسکر کے کالم نگار اور انکے قارئین اسرائیلی عوام کے حق میں بات کرتے اور ان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔
