پٹنہ پریس ریلیز (11میی): یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ سنی گئی کہ مولانا کاکا سعید عمری طویل علالت کے بعد 11؍مئی کی سہ پہر ڈھائی بجے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے، وہ جامعہ دارالسلام عمر آباد کےذمہ دار، روح رواں، معروف عالم دین، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر اورکئی اداروں اور تنظیموں کے سرپرست تھے۔

جامعہ دار السلام عمر آباد کے بانی کاکا عمر نے مسلکی تشدد کے خلاف جو اعتدال و توازن کی راہ ہموار کی تھی۔ اس کو پروان چڑھانے میں آپ نے پوری زندگی وقف کردی، ان کے ادارہ کے ترجمان کا نام بھی راہ اعتدال ہے۔ وہ انتہائی متواضع، منکسر المزاج تھے۔ اور صائب الرائے تھے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سیمیناروں اور اجلاس میں ان سے ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ وہ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے مداح، امارت شرعیہ اور اس کی خدمات کے قدرداں تھے، دونوں میں فکری ہم آہنگی اس قدر تھی کہ انہوں نے اسلامک فقہ اکیڈمی کا سیمینار بھی اپنے یہاں کرایا تھا، اس موقع سے شرکاء نے ان کی انتظامی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا تھا۔ ان خیالات کااظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن، نامور عالم دین وفاق المدارس الاسلامیہ کے ناظم، امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ کے نایب ناظم ۔ہفت روزہ نقیب کے مدیر، اردو میڈیا فورم کے صدراورکاروان ادب کے نایب صدر مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی نے اپنے اخباری تعزیتی بیان میں کیا ہے۔

مفتی صاحب نے فرمایا کہ مولانا کاکا سعید عمری کا انتقال بڑا ملی، علمی خسارہ ہے۔ اس دور میں جب لوگ فکری انحطاط کے شکار ہیں، مولانا کا فکری اعتدال، وسطیت کی راہ اور اس کو فروغ دینےکے لیے ان کی جد وجہد کو زمانہ یاد کھے گا۔ مفتی صاحب نے مولانا مرحوم کے لیے دعاء مغفرت، جامعہ دارالسلام عمرآباد اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے لئے نعم البدل اور پس ماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا فرمائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے