ڈاکٹر شارب رضوی

کلب منافق صاحب قبلہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہوئے دور حاضر کے شمر و لعین صفت افراد نے اپنی صفائی میں کہا کہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کا دوست ہوں میں انہیں اوپر اٹھتا ھوا دیکھنا چاہتا تھا وہ تو کُچھ شر پسند عناصر نے واویلا شروع کر دی جسکی وجہ سے کُچھ شریف لوگ بھی اِس زمرے میں حادثے کا شکار ہو گئے مُجھے اُن سب کے لئے بہت دکھ ہے آقائے فساد ہی اسکا کوئی حل تلاش کر سکتے ہیں کہ میں اس دلدل سے کیسے نکلوں۔

آقائے فساد حضرت جناب کلب منافق صاحب قبلہ فرماتے ہیں ایک تھالی میں چند پھول، ناریل، قلاوہ اور بُجھی ہوئی اگربتی کی راکھ لیکر آجائیں تو ہم پانچ لوگ ملکر اسے ایسی شکتی سے گھمائیں گے کہ پتھر کی مورت بول اٹھیگی بس تب سے تھالی گھمائے جا رھے ھیں۔ شمر و لعین جو ابھی تک ندامت سے سر جھکائے ہوئے کھڑے تھے وہ بھی اب اپنی ذہانت پر رشک کر رہے ہیں کہ یہ کام تو جناب حضرتِ شیطان بھی نہیں کر سکے جو ہمنے کر دیا اسی بات سے خوش ہو کر شاعر اہلِ سِتم نے لعین اکبر پر اپنی درد بھری آواز میں فلبدی اشعار کہہ کر قصیدہ پیش کرنے کی اجازت مانگی اور وہیں کھڑے کھڑے پڑھ دیا اسکے بدلے میں لعین اکبر نے لفافہ پوشی کی رسم ادائیگی کی اور قومی سطح پر شاعر اہلِ سِتم کو انٹرو ڈیوز کرانے کا وعدہ بھی کیا اِس محفلِ اغیار کے ختم ہونے کے بعد کئی سگ بربریت کو پونچھ کی مانند اپنی داڑھی ہلاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اب فیصلہ آپ پر ہے کہ آپ کتا کسے سمجھتے ہیں جہاں تك میں سمجھتا ہوں اصلی کتا وہی ہے جو نام کام اور وفاداری کے ساتھ اپنے مالک کی پیروی کرے انکا حکم بجا لائے ورنہ وہ صرف نام کا ہی کتا کہلائیگا۔اِس سلسلے میں آپکی کیا رائے ہے کمنٹ باکس میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے