از:۔ عبدالعلی بن عبدالقدیر اصلاحی ہاسن
لوک سبھا الیکشن کی ووٹنگ ختم اور رزلٹ آنے میں چند دن باقی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ کسی فریق کو شکست تو کوئی جیت سے سرشار ہوگا۔ اندازے یہی بتاتے ہیں کہ اس الیکشن میں سیکیولر پارٹیاں اپنی تعداد کم کرنے سے اس دفعہ فرقہ پرستوں کو بڑا جھٹکا لگنے کی امید ہے۔ انسانی فطرت ہے جب وہ اپنے کسی حریف کی شکست دیکھتا ہے تو خوش ہوجاتا ہے۔ اپنی موافق جماعت کی کامیابی سے خوشی ہوتی ہے۔
مگر مسلمانوں کے لئے خوشی اور غم، ہار اور جیت میں بھی اس کے جذبات کو قابو میں رکھنے اور ان قابو جذبات کو آئندہ کے پروگراموں میں استعمال کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جیت ہار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر شکست فرقہ پرستوں کو ہوئی ہے تو ہمارا کام جشن منانا یا دل آزاری کرنا نہیں ہے۔ میم بنا بنا کر اپنی اور اپنے مذہب کی پہچان کرانا نہیںہے۔ بلکہ اپنے اخلاق و کردار سے یہ ثابت کرنا ہوگاکہ ہماری دشمنی کسی سے بھی نہیں ہے۔ ہم سب کے دوست ہیں اور بھائی چارہ، حسن و سلوک، باہمی امداد کے خواہاں ہیں۔
ہماری قوت نعرے بازی، جشن، ڈی جے بجانے میں صرف ہونے کے بجائے، شکست خوردہ جماعت کے شر سے اس ملک کی کیسے حفاظت کی جائے۔ اور آنے والے حالات کا کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ ڈی جے، ڈانس، نعرے بازی کے کام کے لئے دوسری قومیں ہیں اور وہ قومیں اپنا کام ہم مسلمانوں سے زیادہ اچھی طرح سے نبھارہی ہیں۔ ہم کیوں ان کے ساتھ اس کام میں شامل ہوکر سب کا مزا خراب کریں؟ ہوسکتا ہے ملک آئندہ اور مشکل حالات سے گزر سکتا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ملک کی عوام کو آنے والے پانچ سال اطمینان کے نصیب ہوجائیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اقتدار پر سکیولر طاقتیں زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکیں۔ ان دنوں مسلمانوں کے کام اور ذمہ داریاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ براہ کرم اپنی قابلیتوں کو نعرے بازی میں اور دوسروں کا مذاق اڑانے میں استعمال نہ کریں۔ جو کام اللہ کو پسند نہیں ہیں ان کاموں سے خود بھی بچیں اور اس ملک کو بھی بچائیں۔
