محمد یوسف رحیم بیدری
یہ ایک مشق ہے۔جس میں خبروں کی مختلف سرخیوں پرغوروفکر کرناہے اور سوچناہے کہ کون سی سرخی فصاحت وبلاغت سے قریب ہے۔ یا کس سرخی میں کمی رہ گئی ۔اس عمل سے طلبہ وطالبات اردوزبان کی چاشنی کومحسوس کرسکتے ہیں۔ ہم نے اپنی جانب سے بہتر سرخی جس کسی کوکہاہے یا لکھاہے ، ضروری نہیں کہ وہ سرخی آپ کو بہتر لگے ۔کوئی دوسری سرخی بھی پسند آسکتی ہے۔ آپ کی پسند کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ توپھرچلتے ہی سرخیوں کی جانب ۔ پہلی سرخی ہے ۔
۱۔ والدین گھر میں وقت کی تنظیم اور نگرانی کاخصوصی اہتمام کریں ۔ اس سرخی کو بہتر بنانے کے تین آپشن درج ہیں۔کوئی ایک منتخب کیاجاسکتاہے۔
(۱) گھر میں والدین وقت کی تنظیم اور نگرانی کاخصوصی اہتمام کریں (۲) گھر میں وقت کی تنظیم اور نگرانی کا والدین خصوصی اہتمام کریں (۳) وقت کی تنظیم اور نگرانی کاوالدین گھر میں خصوصی اہتمام کریں۔پہلی (۱)سرخی بہتر ہے
۲۔ ائیر انڈیا ایکسپریس کے طیارے کے انجن میں آتشزدگی ۔ اس سرخی کو بہتر بنانے کے دو آپشن درج ہیں۔کوئی ایک منتخب کیاجاسکتاہے۔
(۱) ائیر انڈیا ایکسپریس طیارے کا انجن آتشزدگی کاشکار(۲) ائیر انڈیا ایکسپریس طیارے کے انجن میں آتشزدگی ۔جواب :۔ دوسری سرخی مناسب رہے گی
اب ہم سرخیوں کے بین السطورکی جانب رخ کرتے ہیں۔ یہاں ہمیں کوئی آپشن نہیں ملے گا۔ ان سرخیوں کاصرف اور صرف تجزیہ کرناہوگا۔
(۱) ممتا نے کٹرمسلمانوں کے دباؤ میں سادھوسنت برادری پر حملہ شروع کیا:مودی
سرخی کاتجزیہ پیش خدمت ہے ۔ اس سرخی میں دراصل وزیراعظم مودی کٹرمسلمان کہہ کر مسلمانوں پر حملہ بھی کررہے ہیں اور مسلمانوں کاخوف بھی انہیں ستارہاہے۔ اگر کل کلاں کو کوئی پوچھ لے تو وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے تمام مسلمانوں کے بارے میں نہیں کہاتھا۔ کٹرمسلمانوں کے بارے میں کہاتھا۔عام مسلمان تو سیدھے سادے لوگ ہوتے ہیں۔
(۲)راہول گاندھی بہت اچھے وزیراعظم بن سکتے ہیں :پرینکاگاندھی
سرخی کاتجزیہ یہ ہوسکتاہے کہ پارلیمانی انتخابات چل رہے ہیں ، اسی تناظر میں راہول گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی کا اسٹیٹمنٹ سامنے آیاہے۔انھوں نے دوباتیں اس سرخی کے ذریعہ کہی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ آئندہ وزیراعظم راہول گاندھی ہوں گے۔ دوسری بات یہ کہ موجودہ وزیراعظم نریندرمودی کوجولوگ اچھا وزیراعظم سمجھتے ہیں ،وہ لوگ سن لیں کہ راہول گاندھی ’’بہت اچھے وزیراعظم‘‘ ثابت ہوسکتے ہیں۔اچھے وزیراعظم اوربہت اچھے وزیراعظم میں مقابلہ ہے۔ یعنی سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے شاید اسی کو کہتے ہیں ۔کون چاہے گاکہ اندھ بھکت ناراض ہوں ۔یا کل کلاں کو راہل گاندھی وزیراعظم بن جائیں تو مختلف ریاستوں میں ان کی مخالفت یہ اندھ بھکت نہ شروع کردیں۔اسلئے پہلے ہی ان کے وزیراعظم کو بھی ’’اچھاوزیراعظم‘‘ کہہ کر رائے عامہ اپنے بھائی راہول گاندھی کے حق میں ہموار کی جائے۔
