سیدہ شاہانہ سلطانہ (زبیدہ)
میری لخت جگر تجھے تو اللہ نے امانت کے طور پر ہمیں سونپا ہے۔تیرا اپنا گھر تو تیرے شوہر کا گھر ہے۔عظمی کے والدین نے یہی باور کرواتے  ہوئے اسکو نکاح کرکے   اپنے گھر سے وداع کردیا۔اور والدین کی دعاؤں لے کر وہ سسرال چلی آئی۔
ایک دن اپنی ساس کے منہ سے اپنی تعریف اور یہ بات سن کر گویا اسکو چکر آگیا۔اسکی ساس کہہ رہی تھیں کی۔
ارے ہماری بہو ہے تو بہت اچھی لیکن پراۓ گھر سے آئی ہے۔اور وہ تھوڑی نہ اپنی بیٹی جیسے میرا خیال رکھے گی۔اب پرایا مال پرایا ہی رہتا ہے ۔اپنی حکومت تھوڑی ہی ہوتی ہے اس پر!
عظمی کو اپنے اسکول کی اردو کی جماعت میں پڑھا وہ شعر یاد آگیا۔
مٹی کا جسم لے کر پانی کے گھر میں ہوں۔
موت ہے منزل میری ہر پل سفر میں ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے