زیــن الـعـــابـــدیـن بـن عـبـــدالـــرحــمـــن

حجاب کا مطلب صرف کالا نقاب پہننا نہیں ہے بلکہ ہر وہ کپڑا جس سے ایک عورت کی زینت کی چیزیں چھپ سکتی ہیں وہ سب حجاب میں شامل ہے ۔ہمارے معاشرے میں حجاب کا اکثر لوگ مطلب نقاب سمجھتے ہیں کہ بدن پر جو کپڑا پہلے سے موجود ہو اس پر ایک اور کپڑا کالا کلر کا چڑھا دیا تو حجاب ہوگیا جبکہ ایسا نہیں ہے۔مرد و عورت کہ ستر پوشی کے لیئے اللہ نے لباس اتارا ہے تاکہ بدن کو ڈھانپ سکیں۔اب عورت کے بدن پر ایک ایسا لباس پہلے سے ہے جو اسکے ستر کو چھپا رکھا ہے اور کپڑا باریک بھی نہیں ہے نہ ہی چست ہے تو بڑا سا اوڑھنی یا کوئی چادر سے بھی منھ کے ساتھ بدن پر ڈال لے تو یہ بھی حجاب ہے ۔

ہمارے مسلم معاشرے میں نقاب اب بلکل فیشن کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔آپ دیکھیں گے کہ اب مارکیٹ میں نقاب الگ الگ ڈزائن , کڑھائی دار چست کے ساتھ باقاعدہ بڑی تعداد میں لایا جارہا ہے اور لڑکیوں کے ساتھ چالیس پیتالیس سال تک خواتین بھی اسکو استعمال کرتی ہیں اور اب تو جس کا پہلے سے ڈھیلا ڈھالا نقاب تھا ٹیلر سے اسکو ناپ تول کے پھٹنگ کیا جاتا ہے اور جب مارکیٹ میں گھومتی ہیں تو بدن کے اعضاء ظاہر ہوتے ہیں اور بہت سے تو اب یورپ کی کلچر کو اپناتے ہوئے نقاب کو ہی اتار کر رکھ دیئے ہیں۔

آج ماں باپ اپنی اولادوں کو دنیا کے اعلی ترین تعلیم دینے لیئے ہر کوشش کررہے ہیں مگر دینی تعلیم ,دینی تربیت ,دینی سوچ و فکر ,ادب و اخلاق ,اچھی کردار سے بہت دور لیکر جاچکے ہیں ۔ لڑکا لڑکی کہاں آتے جاتے ہیں,کس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے,موبائیل میں کیا دیکھتے ہیں ,کس سے بات کرتے ہیں والدین کو کوئی فکر نہیں جب یہی اولاد کسی جرم میں پھنس جاتی ہے یا اولاد حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو یہی والدین کہتے ہیں کہ ہمارا لڑکا لڑکی ہماری بات مانتے ہی نہیں ,ہمارے بتائے ہوئے راستے پہ چلتے ہی نہیں ہمارے ہاتھ سے نکل گئے ہیں اور دن رات رونا روتے ہیں تو جہاں اولاد کی غلطیاں ہیں وہیں پہ اس سے بڑھ کر ان کے غلطیوں کے ذمہ دار ان کے والدین ہیں ۔

میں جب دس مہینہ ارمینیا ملک میں تھا جو کہ کرسچن ملک ہے جہاں بے حیائی کھلے عام ہے جہاں نہ مسلم آبادی نہ مسجد و مدارس ہے وہاں پر لڑکا لڑکی چاہے کمر میں ہاتھ ڈال کر چلیں ,یا گلے میں ہاتھ ڈال کر چلے ,یا ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلے اور یہ سب دیکھنے والا چاہے ان کے ماں باپ یا بھائی سامنے ہی کیوں نہ ہو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا یہی چیز تھوڑے فرق کے ساتھ مسلم معاشرے میں مسلم لڑکا,لڑکی کے ساتھ بھی دیکھنے کو ملتا ہے تو جتنا افسوس کیا جائے اتنا کم ہے فرق بس اتنا ہے ماں باپ بھائی کے سامنے نہیں ہوتا ہے ۔بہت افسوس اس لیئے ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات یہ کہتی ہے مرد کی جب نگاہ کسی عورت پر پڑے تو اپنی نظر نیچے رکھ لے اور جب کسی مرد پر کسی عورت کی نگاہ پڑے تو عورت اپنی نگاہ نیچے کرلے یہ اسلام کی تعلمیات کو اللہ و رسولﷺ کا نام لینے والی اور لینے والا کس قدر کھلے عام پامال کرتے نظر آتے ہیں کہ راستے پر اگر کوئی عالم حافظ یا کوئی داڑھی ٹوپی کرتا پائجامہ پہنا بزرگ بھی گزر رہا ہو تو آج کے مسلم لڑکا لڑکی جو شہوت کے زبان میں گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کہا جاتا ہے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا ہے تو اتر نہیں سکتا ہے ہاتھ میں ہاتھ ہے تو نکل نہیں سکتا کمر میں ہاتھ ہے تو ہٹ نہیں سکتا یہی المیہ بن چکا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جب دل میں خوف اللہ نہ ہو تو سماج و معاشرہ اور افراد سے ڈر بھی ختم ہوجاتا ہے, ایسے لوگوں کی غیرت مر جاتی ہے ۔ موجودہ دور میں ہاتھوں میں موبائیل اور گھروں میں ٹی وی کا اس بربادی میں بہت بڑا رول ہے ۔ جو کچھ فیشن کے نام پر چورن بیچا جاتا ہے جو بھی یورپی کلچر دکھایا جاتا ہے چاہے لڑکوں کے مطابق فیشن ہو یا لڑکی کے مطابق ہو یہ فوراً اس میں ڈھلنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ۔جب بچوں میں دینی داری نہ ہو تقوی نہ پیدا کیا گیا ہو حیا اور پردہ نہ سکھایا گیا ہو تو شیطان کو موقعہ ملتے ہیں اچک لیتا ہے اور ایسے لوگوں کو اپنے تابع بنا لیتا ہے ۔اسلام کی تعلیمات کو کھیل تماشہ بنانے والے اول ہم ہی مسلمان ہوتے ہیں بعد میں غیر ہوتے ہیں ۔اسلام کی تحفظ دین کی بقا اسکے احکامات پر عمل کرنے سے ہوتا ہے نعرہ بازی اور بھیڑ بھاڑ اور چیخ پکار سے نہیں ہوتا ہے ۔آج جتنے بھی گھر اجڑے ہیں بنیادی ذمہ دار گھر والے ہوتے ہیں بعد میں لڑکا لڑکی اور سماج ہوتے ہیں۔

آج دینی تعلمیات کا ,اچھے اخلاق کردار کا ,تہذیب و ادب کا فقدان ہے ۔

آج دیکھ لیں گھر سے نکلتے وقت خوشبو کا استعمال ,پرفیوم کا استعمال,میک کا استعمال کس قدر عام بات بن چکی ہے سوال یہ ہے کہ آخر یہ کس کے لیئے کیا جارہا ہے؟اللہ فرماتا ہے کہ گھر سے نکلو تو پائل کی چھم چھم آواز تک نہیں آنا چاہیئے تو اسکے برخلاف یہ سب معاشرے میں گندگی کیوں سرے عام پھیل رہی ہے کون ہیں ان کے ذمہ دار؟ کیوں یہ سب کیا جارہا ہے؟ کیوں نہیں لگام لگایا جارہا ہے؟ اللہ تو فرماتا ہے کہ عورت کے لیئے ٹکنے رہنے کی جگہ سب سے بہتر گھر ہے تو یہ سرے عام پارکوں میں ,مال میں , ہوٹلوں میں, بازاروں میں کیسے گھوم رہی ہیں؟ آج شادیوں میں دیکھیں تو رسومات کے پیچھے پردہ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے ,بے حیائی کی انتہاء ہوگئی ہے ان سب کے پیچھے دینی تعلیم اور تربیت کا فقدان ہے اور کفار و یہود کی تہذیب کو ,کلچر کو اپنانے کا نتیجہ ہے ۔

نسلوں کی بقا ,اور قوموں کی سر بلندی میں انہی نوجوانوں کا اہم رول ہوتا ہے مگر دیکھیں بار بار دیکھیں ہمارے مسلم سماج میں رہنے والے لڑکا لڑکی کس راہ پر ,کس سوچ و فکر , کس تہذیب کو اپنانے میں ملوث ہیں ۔اگر ہماری تربیت گھر سے نہیں ہوئی, اگر ہم اپنے ابھرتے بچوں پر نگہبان نہیں رہے ,ان کو دینی تعلیم نہیں دیئے, ان کو اچھے ماحول میں نہیں ڈھالے, ان کے سامنے بہترین مثالی والدین بن کر نہیں دکھائے, ان کے اندر ان کے ذہنوں میں نبیﷺ کی پاک سیرت, ازواج مطہرات کی پاک زندگی راسخ نہیں کیئے تو وہ دن دور نہیں کہ یہی ہماری اولادیں ہمارے لیئے عذاب و مصیبت بن جائیں گے اور تباہی و بربادی گھر گھر کی مقدر ہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے