نوراللہ خان

دہلی

 

یوپی ودیگر اسٹیٹ کے مدارس میں کافی بچے صرف بہار سے لائے جاتے ہیں اور مقامی ایک بچہ بھی ندارد ہوتا ہے۔ اسکی وجہ معیار کی پستی اور ارکین کمیٹی کی آپسی جنگ ہے۔ صرف چندہ پر انحصار پورا مالی بجٹ بگاڑے ہوئے ہے۔

یہی حال مسا جد کا ہے۔ جگہ ہونے کے باوجود بھی پلاننگ نہیں ہوتی ہے۔ اخراجات کا مسئلہ آتا ہے اور کمیشہ امام چلے جاتے ہیں یا مشاہرہ میں اضافہ کو لیکر جھگڑا ہوتا ہے یا پھر وہی امام ملتے ہجں جو رٹ کر ایک دو تقریر سناکر چلے جاتے ہیں۔ جس سے لگتا ہے کہ امام نہیں بلکہ ایک فارملٹی پوری ہورہی ہو۔

مسجد کی تعمیر میں اب ایسا کیا جائے کہ بیسمنٹ یا گراؤنڈ فلور میں دفتر یا رہائشی کمرے بنائے جائیں اس سے امام وموذن کے لئے سہولت ہوگی اور کچھ کرایہ آئے گا جس سے مسجد کے ضروری اخراجات پورے ہوں گے۔

لاکھوں مساجد میں اخراجات کو لیکر مسائل درپیش ہیں اور صرف امام اسے جھیلتے ہیں۔ جسکی تنخواہ پندرہ بیس ہزار ہونا ضروری ہے اسے آج بھی وہی چھ آٹھ ہزار ملتا ہے۔ اور آئے دن خودکشی یا نفسیاتی بیماری یا کسی اور پیشہ میں یہ ائمہ مجبورا چلے جاتے ہیں۔

صرف پلاننگ کی کمی کی وجہ سے سارا کھیل بگڑا ہوا ہے اور مفت کی عادت نے مکاتب ، مدارس اور مساجد سب کی حالت بگاڑ رکھی ہے۔ سب کو مفت میں چاہئے اور بالآخر اس کا عتاب مدرسین وائمہ جھیلتے ہیں اور پوری زندگی ان کو معقول تنخواہ کا دعوی کرنے والے اراکین کمیٹی کبھی معقول مشاہرہ نہ دے سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے