ڈاکٹر شارب رضوی بارہ بنکی
روایتی طور پر، جنگل میں سالانہ اجلاس کا اہتمام ہوا جس میں بندر کو اُس کا کنوینر بنایا گیا، سب جانوروں نے اس اجلاس میں حصہ لیا مگر بندر ڈھیر سیانا تھا اُس نے اپنے قبیلے کے بندروں کی خُوب آؤ بھگت کی سب نے ایک دُوسرے کو آپس میں گلپوشی کی اُس کے بعد اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوا، سب جانورں نے اپنے اپنے علاقوں کی اور اپنی قوم کی پریشانیوں کی طرف اشارۃً سب کا ذہن مبذول کرایا، اِس پروگرام میں گدھے کو دعوت نہیں دی گئی تھی، اجلاس میں ابھی گل پوشی کے فرائض انجام دیئے ہی جا رہے تھے کہ گدھے کو اس کی کہیں سے بھنک لگ گئی (خبر ہوئی) تو گدھا رینکتا ہوا میٹنگ روم میں داخل ہوا اور بندر کے ہاتھ سے مائک چھین کر اپنے غصّہ پر قابو کرتے ہوئے بغیر بسم اللّٰہ کئے اُس نے تقریر کا آغاز کیا اور اعلانیہ کہا کہ جنگل کے لوگ مُجھے گدھا کہتے ہیں جبکہ دنیا بھر کے بڑے بڑے سائنسدان مجھے سائنسی نام عقوس ایسینص کے (Equus asinus) نام سے پکارتے ہیں، جو جانور مُجھے گدھا سمجھتے ہیں وہ جان لیں کہ میں گھوڑے کے خاندان سے تعلق رکھنے والا ہُوں(Equus africanus asinus) میں گھوڑے کے خاندان کا جانور ہُوں۔ بہت سے ممالک میں وہاں کے لوگ مُجھے بوجھ اٹھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جس میں زیادہ تر دھوبی اور کمہار طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ میں پالتو گھوڑے کی مانند اُن کے قریب رہتا ہُوں۔ اِس افریقی جنگل میں مُجھے اب بھی لوگ گدھا سمجھتے ہیں، وہ جان لیں میں گھوڑے کی نسل سے تعلق رکھنے والا واحد مجاہد ہوں، مُجھے سات ہزار سال قبل اسی افریقی جنگل نے اپنی آغوش میں پناہ دی لیکن جب میری تعداد بڑھی تو مُجھے اونچ نیچ کے آدھار پر درجہ بندی کر کے الگ پرجاتی کے روپ میں رکھا گیا اور تبھی سے بنیادی طور پر کام کرنے والے جانوروں کی طرح استعمال کیا جا رہا ہُوں۔ میں کافی عرصہ انسانوں کے ساتھ رہا ہوں، میں جانتا ہوں کہ میں جن انسانوں کے ساتھ اتنا منسلک رہا ہوں وہ اکثر روزی روٹی کی سطح پر نیچے رہنے والے لوگ تھے، مُجھے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بہت کم تعداد میں افزائش کے مقاصد کے لئے یا پالتو جانوروں کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں گھوڑے کی نسل میں ہوتے ہوئے بھی آج تک گدھا ہی سمجھا جا رہا ہوں، اب اجلاس میں بالکل سنّاٹا چھا گیا، سب بندر کی طرف متوجہ ہیں سب کے سر جھکے ہوئے ہیں گدھے نے سب کی زبانوں پر قفل بندی کردی ہے، بندر نے وقت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے گدھے کی تقریر میں جارحانہ الفاظ سے بچنے کی غرض سے اُس کے رجحان کو دُوسری جانب موڑتے ہوئے کہا کہ گدھے کی بات میں دم ہے، اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے، ہمیں آگر ایسے موقع ملے تو ہم سب مل کر گدھوں کی مزید نسلوں کو سرکاری طور پر تسلیم کریں گے اور یہاں کے ترقی یافتہ جنگلات میں، گدھوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک نیا پیکج افادیت جاری کریں گے جِس کی لسٹ اندرون اور بیرون جنگلی سفارت خانوں میں ارسال کر دی جائیگی، ساتھ ہی ریٹائرڈ ہو چکے اور ایکسیڈنٹ میں بچائے گئے گدھوں کی فلاح و بہبود کیلئے انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا، ساتھ ہی کہا گیا کہ یہ بات واضح طور پر تشویش کا باعث بن چکی ہے کہ ریٹائرڈ ہو چکے اور ایکسیڈنٹ میں بچائے گئے گدھوں کے لیے بہت سی پناہ گاہیں قائم کئے جانے کی ضرورت ہے۔ سدن تالیوں سے گونج اٹھا اور لوگ بندر ماما کی جئے کے نعرے لگاتے ہوئے غلاموں کی طرح سر جھکائے ہوئے باہر نکل گئے۔
