از: عاصم راہی ( اورنگ آباد، بہار )
پارٹی صدر کے سیکریڑی کے ہاتھ میں صبح کے اہم اخبارات تھے اور ان کی سرخیوں کو دیکھ دیکھ کر اس کو پسینے چھوٹ رہے تھے۔
ہر اخبار نے پارٹی صدر کا بیان نمایاں انداز میں شائع کیا تھا۔
’’ اس الیکشن میں ہماری اس ذلت آمیز شکست کی وجہ اقلیتی طبقہ ہے۔ انہوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا، جبکہ ہم نے اقلیتی طبقہ کے سب سے زیادہ امیدوار الیکشن میں اپنی پارٹی سے کھڑے کیے تھے۔ ‘‘
وہ دوڑا دوڑا پارٹی صدر کے پاس گیا جو بڑے اطمینان سے چاے پی رہے تھے۔
’’ صدر صاحب یہ آپ نے کیا کر دیا،اقلیتی طبقہ کے خلاف بیان دے ڈالا جسے تمام اخبارات نے نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں اقلیتی طبقہ ہمار ی پارٹی کا اایک بڑا ووٹ بینک ہے۔اس طرح وہ بڑا طبقہ ہماری پارٹی سے ناراض ہو سکتا ہے۔‘‘
’’ تم ان کی ناراضگی کی فکر نہ کرو۔‘‘ صدر صاحب نے اطمینان سے جواب دیا۔ ’’ ایسا کچھ نہیں ہوگا جیسا تم سوچ رہے ہو۔ ‘‘
’’ میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں سر ‘‘ سیکریٹری نے الجھن بھر ے انداز میں پوچھا۔
’’ اقلیتی طبقہ ہمار ا پالتو کتا ہے۔ اور تم جانتے ہو پالتو کتے کو کتنی بھی لاتیں ماری جائے وہ دم ہلاتا اپنے مالک کے پاس ہی آتا ہے۔ ‘‘
’’ ہاں یہ تو ہے سر۔ ‘‘ سیکریٹری بولا۔ ’’ مگر سر یہ بیان ؟ ‘‘
’’ یہ بیان ہماری ایک لات ہی ہے۔ ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
