محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ غیر پاپولر سماجی کارکن 
وہ کافی بڑا سماجی کارکن ہے۔ ملک کے بڑے بڑے افراد سے مل کر بات کرتاہے ۔ مسائل ان کے سامنے رکھتاہے اورانہیں حل بھی کرتاہے مگر اس کی ایک بھی تصویر ان بڑے لوگوں کے ساتھ کہیں نہیں ملتی۔ اسلئے سماج میں وہ پاپولر سماجی کارکن نہیں ہے۔
۲۔ نئے مضامین کا منتظر
میں نے پرخلوص انداز میں پوری خاکساری کے ساتھ کہہ دیاتھاکہ کتاب کوئی دوکان کی طرح نہیں ہوتی کہ اس میں درج سارے مضامین کیش کرنے کے لئے اخبارورسائل کو دوبارہ زحمت دی جائے اور ہرموقع پر وہی مضامین اشاعت کے لئے بھیجے جائیں۔براہِ کرم کچھ نیالکھیں ، ایک دنیاتمہاری منتظر ہے۔
بیچارامصنف آج بھی اپنی کتاب کی دوکان کھولے ہوئے بیٹھاہے۔ اور میں ادھر اس کے نئے مضامین کا منتظر ہوں ۔
۳۔ قرآن وحدیث والے 
وہ ناچنے گانے والے لوگ تھے۔اپنے پروگرام سوشیل میڈیا پر اپلوڈ کیاکرتے ، کئی ملین افراد ان پروگرام کو دیکھتے جس سے ان کی روزی روٹی بندھی ہوئی تھی لیکن ٹرول کرنے والی بھیڑ سے جب ان کاپالا پڑاتو سمجھ میں آیاکہ وہ تو دراصل مسلما ن بھی ہیں۔ ناچتے گاتے ، کھاتے کماتے انہیں کبھی احساس تک نہیں ہواکہ وہ مسلمان ہیں لیکن اِن دِنوں ان کو شدت سے احساس نفرتی ٹرول بھیڑیوں نے دلایاکہ وہ مسلمان ہیں اسی لئے ٹرول آرمی کا شکار ہورہے ہیں۔آگے بھی ہوتے رہیں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ناچنے گانے والوں نے اپنی مسلمانیت کاجتن شروع کردیا۔ ٹرول کرنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ ااورغیرمسلم احباب تک قرآن اور حدیث شریف پہنچانے میں لگ گئے۔انھیں اس عمل سے سکون ملنے لگا۔انہیں لگ رہاہے کہ وہ اسی کام کے لئے دنیامیں بھیجے گئے ہیں۔
۴۔ بیوی پسندآدمی 
پھر اس کی شادی ہوگئی اور وہ سبھی سے کٹ کر اپنی بیوی کا ہوکر رہ گیا۔ سبھی کوحیرت تھی کہ جوکسی کا نہ ہوسکا وہ کس طرح بیوی کاہوگیا؟
۵۔ جیت قہقہہ 
خواب دیکھتے ہوئے ہمیشہ ڈر لگارہتاتھا۔ پھر اس نے ڈر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا شروع کردیا۔ جس کے سبب ڈربھی اس سے ڈرنے لگا۔اس عجب کیفیت پراس نے قہقہہ لگائے کہ وہ ڈرجیسی چیزسے جیت حاصل کرچکاہے۔
۶۔ حکومتی ناک 
ناک کبھی بھی کٹ سکتی ہے۔ اسلئے اس کو بچانا اہم ہے۔ اسی کوشش میں دس سال کٹ گئے ۔ شاندار طریقے سے حکمران زندگی گزاری گئی لیکن دس سال بعدجانے کیاہواکہ وہی ناک جس کو ہر ایک سے بچایاگیا، ہرایک کے آگے وہ رگڑنے لگا۔ تاکہ اس کی حکومت بچ سکے۔
۷۔ ہماری تربیت 
بچے اپنی اپنی زندگی اور اپنے اپنے مشغلوں سے لگے ہوئے ہیں۔ والدین سوچ رہے ہیں کہ ہماری ہی تربیت میں کہیں کمی رہ گئی ہے۔ ورنہ ہمارے بچے ہمارے بارے میں سوچتے ۔ ہم والدین کاپورا پورا خیال رکھتے۔
۸ ۔ بینک قرض  
مین روڈسے گزرتے ہوئے اس نے دیکھاکہ کوالٹی بیکری کاشٹر بند ہے اور اس پر ڈی سی سی بینک نے لکھاہے کہ یہ ہماری پراپرٹی ہے۔ اس کے منہ سے نکلا ’’آہ۔۔۔۔ ایک اورپراپرٹی پر قبضہ ، بینک قرض مردہ باد ‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے