محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ مشکل سفر
’’لکھنے پڑھنے اوربولنے والے ایک جٹ ہوکر زبان کی ترقی کے لئے لگ جائیں تو زبانوں کے ماؤنٹ ایورسٹ پر اردوزبان پہنچ سکتی ہے۔ یہ خیال سبھی کے پاس ہے ، ایک جٹ ہونے کایارا اپنے اندر نہ ہونے سے کام نہیں ہورہاہے’’سکھ بیرسنگھ نے کہا۔ میراخیال یہ تھاکہ’’ کا م ہورہاہے لیکن ایک دوسرے کی کاٹ میں رہ کر ہم اپنی زبان اردو کی راہ میں کانٹے بونے کاکام کررہے ہیں‘‘سنجنا چترویدی نے میری بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’’اب یہی دیکھ لیں ، پرائمری اسکول کاٹیچر ، ہائی اسکول کے ٹیچر کی برابری نہیں کرسکتا۔ اس لئے آپسی تعلقات بہتر نہیں ہیں۔کالج اور یونیورسٹی کے لیکچررس کی علیحدہ علیحدہ دنیاہے، وہ ایک دوسرے کو گھاس نہیں ڈالتے‘‘
فصیح اللہ حسینی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ’’سنجنا صحیح کہہ رہی ہے۔اسلام جس طرح مختلف مسالک اور طبقات میں با نٹ دیا گیاہے ، اسی طرح اردو زبان بھی بانٹی جا چکی ہے۔ لیکچررس سے ہٹ کر بھی دیکھاجائے تو معلوم ہوگاکہ ایک عام شاعراور ادیب کو تعلیم کے ایوانوں میں ادبی دلت سمجھاجاتاہے اور جو لوگ یونیورسٹی کے گن گان میں لگے رہتے ہیں ، ان کی دنیا اور ان کامافیا علیحدہ ہے۔ اس طرح کے حصہ بخروں نے اردو زبان کوجگہ جگہ سے زخمی کرکے رکھ دیاہے ‘‘
یہ باتیں اس تناظرمیں ہورہی تھیں کہ ریاستی حکومت نے ایک فرمان جاری کرتے ہوئے ریاستی زبان اور انگریزی دو زبانوں ہی کو ذریعہ ء تعلیم بنانے کاحکم جاری کیاتھا ۔ اوردیگر اقلیتی زبانو ں بشمول اردوذریعہ ء تعلیم پرروک لگانے کی سعی کی تھی۔ اب ا س ناانصافی کے خلاف ہم سب کو لڑنا تھالیکن ہماری گفتگوحکومت کے خلاف ہونے کے بجائے آپسی جائزے پر مشتمل تھی اور میں یہ بھی سوچ رہاتھاکہ جب ہمتیں پست ہوتی ہیں تو درست سمت میں سفر کتنا مشکل ہوتاہے۔ اس مشکل سفر میں بلاشبہ میں بھی شامل ہوں۔
۲۔ گیارنٹی
بیٹیاں جب بالغ ہوجائیںا ور پکوان سیکھ جائیں تو اچھا بھی لگتاہے کہ کل یہ اپنے گھرکی ہو جائیں گی ۔ شوہر کے علاوہ سبھی سسرالی رشتوںکے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنی رہیں گی۔
پھر اس نے سجدہ ء شکر بجالاتے ہوئے سوچاکہ ’’میں جب مرجاؤں گاتو بے قراری اور حواس باختگی کے ساتھ آکر میری نعش پر بے اختیار رونے والی میری بیٹیاں ہی تو ہوںگی ۔میرے جانے کاغم بیٹے کریں گے، اور بے محابہ روپڑیں گے اس کی گیارنٹی کون دے سکتا ہے ؟ اور پھرسوال رونے دھونے کابھی نہیں ہے، اس تعلق کا ہے جو والد سے مطلوب ہے ‘‘۔
۳۔ مظلوم شہر
افراد اور اشخاص ہی نہیں شہربھی ظالم ہوتے ہیں۔ وہ بھی ایسا ہی ایک ظالم شہر تھا۔ اپنے اطراف کے گاؤں ہی نہیں چھوٹے چھوٹے شہروں کے قدکو ہر طرح سے کم کرنے کی کوشش کیاکرتا۔ ترقی کے وہ سارے مراکز جنہیں دوسرے شہروں میں ہونا چاہیے تھاوہ اپنے لئے طلب کرلیتا اور ترقی کا ایک اور مرکز اسی شہر میں لازمی طورپرقائم ہوجاتا۔کیوں کہ اس شہر کاسیاسی دبدبہ بہت تھا۔
گذشتہ 75سال کے دوران وہ ریاست کاسب سے ظالم شہربن کر ابھرا ہے جس نے 70%ترقیاتی مراکز اپنے ہاں قائم کررکھے ہیں اور اتفاق سے خود کوراجدھانی بھی قرار دے چکاہے۔
ریاست کے لوگ اس ظالم شہر پر دانت کچکچا کررہ جاتے ہیں۔ کچھ کرنہیں سکتے۔ دیگر چھوٹے موٹے شہروں کی ترقی کاجانی دشمن اس ظالم شہر کو ملیامیٹ کرنے کا کوئی نسخہ مظلوم شہروں کے پاس نہیں ہے اوروہ اس شہر کے بے شمار مظالم کے سامنے بے دست وپا ہیں۔
۴۔ سلام بھیجو
جب کبھی واٹس ایپ گروپ میں پہنچو تو سلام کہاکرو۔پوچھاگیا”وہ کیوں؟”
جواب ملا ”ہوسکتا ہے، سلام کا جواب نہ دینے والے انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوق بھی وہاں رہتی ہوگی، وہ تمہارے سلام کا ضرور جواب دے گی”
۵۔ جانے والا لڑکا
عید کی نماز پڑھ لینے کے بعد وہ خاموشی سے وہاں سے چلاجارہاتھاکہ کسی نے پوچھ لیاکدھر؟اس سے رہانہیں گیا۔ بے اختیار رونے لگا۔ پوچھنے والا اوردیکھنے والے بھی پریشان ہوگئے کہ آخرکیابات ہے؟لڑکا کیوں رورہاہے؟
جب اس کو گلے لگاکر پوچھاگیاکہ کیا بات ہے سرفراز؟ کہاں جارہے ہو؟
اس نے ہچکیوں کے درمیان کہا’’میں…. میں…..ابا سے ملنے،……ان کی زیارت کے لئے قبرستان جارہاہوں‘‘
سبھی کوجیسے ہوش ساآگیا۔ کچھ کی نگاہیں نیچی ہوگئیں۔
۶۔ جواب
”قربانی کرتے ہوئے خون بہادیا گیا،گوشت کھالیا،ہڈیاں چبادی گئیں…. اور کیا کرنا باقی ہے؟”
جواب ملا”اب باقی 364دن ہیں. لہٰذا اپنی طرف توجہ دو، شرک نہ کرو، اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملاو, ظالم حکمران کے سامنے ڈٹ جاؤ اور یہ آج کی فوری ضرورت ہے ”
۷۔ اندر ون کی قربانی
قربانی ہوچکی تھی۔ حضرت سے کسی منہ لگے نے پوچھا’’حضرت!اندر کے جانورکی قربانی کی کہ نہیں؟‘‘
حضرت والانے کچھ دیر تک نیچی نگاہیں رکھ کر کچھ سوچا اور پھر سراٹھایاتوان کی آنکھیں بند تھیں۔جذب کی کیفیت میں اتناہی کہاکہ ’’بابا! اندر کوئی جانور نہیں ملا۔ اسلئے اس سال قربانی باہر کے جانور کی دی گئی‘‘
منہ لگاوہ فرد حیرت زدہ ہوکر رہ گیاتھا۔پھر انتہائی مسرت سے اُس نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اور بلند کرتاہی چلاگیا۔ ’’اللہ اکبر،…….. اللہ اکبر،…….. اللہ اکبر…….!!!‘‘
