ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈڈیا
دوست کیا بے وفا ہو گیا
زیست کا تجربہ ہو گیا
دردِ دل کی دوا ہو گیا
مرحبا  وہ مرا ہو گیا
میں پریشاں ہوں اس کے لئے
اس کو کیسے پتہ ہو گیا
دو بدن ایک جاں اب نہیں
درمیاں فاصلہ ہو گیا
ہو گیا وہ خفا واقعی
یار یہ تو برا ہو گیا
ہر گھڑی رہتا ہے مضمحل
میرے اس دل کو کیا ہو گیا
انگلی پر کہہ نچاؤں تجھے
دل ترا اب مرا ہو گیا
مٹ گیا میں، نہیں اس کا غم
خوش ہوں تیرا بھلا ہو گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے